فیلڈ مارشل ایوب خان کا ہنگامہ خیز دور

Blogger Comrade Sajid Aman

سونے کی چڑیا یا بدقسمت برصغیر کی سیاسی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں، جن کے گرد تنازع، طاقت اور اصلاح کی کوششیں ایک ساتھ جمع ہو جاتیں ہیں۔ برصغیر کے ایک ٹکڑے پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان بھی ایسا ہی ایک کردار تھے۔ ایوبی دور نہ صرف ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے، بل کہ اسی دور میں آمریت، جمہوریت، خارجہ تعلقات اور وفاقی سیاست کے کئی پیچیدہ سوالات بھی سامنے آئے۔ جس نے پاکستان میں واقعات کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔
ایوب خان 1907 میں برطانوی ہندوستان کے صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے علاقے ریحانہ، ضلع ہری پور میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے برطانوی دور میں فوجی تربیت حاصل کی اور  رائل برٹش انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ فوجی نظم و ضبط، ادارہ جاتی سوچ اور طاقت کے ذریعے نظم قائم کرنے کا تصور اُن کی شخصیت میں اسی دور میں رچ بس گیا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا، تو وہ ان افسران میں شامل تھے، جنھوں نے نئی ریاست کی فوجی قیادت سنبھالی۔ ابتدائی برسوں میں اُن کی ترقی تیز رہی اور 1951 میں وہ پاکستان کے پہلے مقامی کمانڈر اِن چیف بن گئے، یوں انھوں نے مشہور برطانوی جنرل ڈگلس گریسی کی جگہ لی۔
فوجی قیادت سنبھالنے کے بعد ایوب نے پاکستان کی سیاست کو قریب سے دیکھا۔ اُس وقت ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی اور آئینی بحرانوں کا شکار تھا۔ یہی وہ ماحول تھا، جس میں فوج کو ریاستی معاملات میں مداخلت کا موقع ملا۔ اکتوبر 1958 میں صدر سکندر مرزا نے آئین منسوخ کرکے مارشل لا نافذ کیا اور فوج کے سربراہ ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا، مگر چند ہی ہفتوں بعد اقتدار کا خواب دیکھنے والے ایوب خان نے خود اقتدار سنبھال لیا۔ یوں سکندر مرزا کو چلتا کیا اور پاکستان میں فوجی حکم رانی کا ایک طویل باب شروع ہوا۔
یہ واقعہ دراصل پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پہلے بڑے فوجی قبضے کی صورت میں یاد کیا جاتا ہے۔ جس نے فوجی جرنیلوں کو اقتدار حاصل کرنے کی راہ ہم وار کی۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد ایوب خان نے بہت مہارت کے ساتھ خود کو ایک اصلاح پسند حکم ران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا، جسے  بنیادی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت مقامی سطح پر منتخب نمایندوں کی ایک محدود تعداد کو اختیار دیا گیا، جو بعد میں صدر کے انتخاب کے لیے انتخابی کالج بھی بن جاتے تھے۔ ایوب خان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اس نظام کے ذریعے نچلی سطح تک ترقیاتی کام ممکن ہوئے، جب کہ ناقدین کا خیال تھا کہ یہ دراصل جمہوریت کو محدود کرکے مرکزی اقتدار کو مضبوط کرنے کا طریقہ تھا۔ یہ ڈھکوسلے دراصل عوام پر عدم اطمینان، ایوب کی مکاری، ووٹ کے تقدس کو پامال کرنا اور جمہوریت کی توہین تھے۔
ایوب خان کے دور میں معاشی ترقی کا ایک بیانیہ بھی سامنے آیا۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر، صنعتوں کی ترقی اور زراعت میں اصلاحات کو اُس دور کی کام یابیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ انھی منصوبوں میں ایک اہم معاہدہ ’’سندھ طاس‘‘ تھا، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریا (سندھ، جہلم اور چناب) ملے، جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس اور ستلج) کے استعمال کا حق دیا گیا۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کا فائدہ یہ تھا کہ اسے عالمی ضمانت کے ساتھ پانی کے حقوق مل گئے اور بڑے آبی منصوبوں کی تعمیر کے لیے مالی مدد بھی ملی… مگر حقیقت میں ایک مطلق العنان غیر منتخب شخص نے پاکستان کے مشرقی دریا کھودیے، اپنی شہ رگ پڑوسی کے ہاتھ میں دی اور طویل المدت آبی تحفظ کے حوالے سے ایک گھٹیا سودا کیا۔
ایوب خان کی خارجہ پالیسی کا ایک نمایاں پہلو امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان نے خود کو مغربی بلاک کے ساتھ جوڑا اور  امریکہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعاون بڑھایا۔ پاکستان نے ’’سیٹو‘‘ (SEATO) اور ’’سینٹو‘‘ (CENTO) جیسے اتحادوں میں شمولیت اختیار کی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں پاکستان کو فوجی امداد اور معاشی مدد ملی۔ درحقیقت پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے آگے دم ہلانے کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔
ایوب خان کے دور کا ایک اہم اور متنازع پہلو 1965 کا صدارتی انتخاب تھا، جس میں اُن کے مقابلے میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی بہن اور تحریکِ پاکستان کی بڑی لیڈر فاطمہ جناح میدان میں آئیں۔ اس انتخاب نے پاکستانی سیاست کو شدید طور پر تقسیم کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے فاطمہ جناح کی حمایت کی اور اُنھیں جمہوریت کی علامت قرار دیا، جب کہ ایوب خان نے ریاستی مشینری اور بنیادی جمہوریت کے نظام کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط رکھی۔ نتیجہ ایوب خان کے حق میں آیا، مگر اس انتخاب نے ایوب شاہی کی حکومت کو ننگا کر دیا اور یہ شدید دھچکا تھا۔ اس کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ریاستی طاقت کے ذریعے سیاسی مقابلہ جیتا گیا۔
اُسی دور میں پاکستان میں صوبائی سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ’’ون یونٹ‘‘ کا نظام بنایا گیا، جس کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ایک صوبہ بنا دیا گیا تھا۔ اس پالیسی کا مقصد مشرقی پاکستان کے ساتھ آبادی کے تناسب کو برابر دکھانا تھا۔ اس کے ذریعے بنگالی اکثریت کو مصنوعی طور پر اقلیت ثابت کرنا اور مشرقی پاکستان کے صوبوں بہ راہِ راست اپنے کنٹرول میں رکھنا تھا… مگر اس کے نتیجے میں سندھ، بلوچستان اور سرحد کے علاقوں میں شدید سیاسی بے چینی پیدا ہوئی۔ بہت سے لوگوں کو لگا کہ ان کی علاقائی شناخت اور حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ایوب خان کے دور میں پاکستان کو ایک اور بڑے امتحان کا سامنا ہوا، جب 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 65 کی جنگ شروع ہوئی۔ جنگ کے بعد جنگ بندی ہوئی اور اس کے بعد تاشقند معاہدہ ہوا، جس میں سوویت یونین کی ثالثی شامل تھی۔ اس معاہدے پر دست خط کے بعد پاکستان میں شدید سیاسی ردِ عمل سامنے آیا اور اپوزیشن نے اسے قومی مفادات کے خلاف قرار دیا۔
وقت کے ساتھ ایوب خان کے خلاف عوامی احتجاج بڑھنے لگا۔ طلبہ تحریکیں، مزدور احتجاج اور سیاسی جماعتوں کی مزاحمت نے حکومت کو کم زور کر دیا۔ 1968 اور 1969 میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ بالآخر مارچ 1969 میں ایوب خان نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا اور انتقام کے طور پر حکومت فوج کے دوسرے سربراہ یحییٰ خان کے حوالے کر دی۔
ایوب خان نے فیلڈ مارشل کا اعزاز بھی خود کو دیا، فور سٹار جنرل دنیا بھر میں ایک غیر معمولی فوجی رینک سمجھا جاتا ہے۔ اُن کے نمک خوار اور اخبارات کے خریدے گیے صحافیوں سے متاثر لوگ اُنھیں ایک ایسا حکم ران کہتے تھے، جس نے پاکستان کو صنعتی ترقی، جدید انتظامی ڈھانچا اور عالمی سطح پر ایک واضح خارجہ پالیسی دی۔ ان کے ناقدین کے مطابق وہی دور پاکستان میں فوجی مداخلت، محدود جمہوریت اور علاقائی عدم توازن کی بنیاد بھی بن گیا۔
دوم، برصغیر میں پہلی دفعہ صحافیوں اور دانش وروں کو ایوانِ صدر کے راستے دِکھائے گیے، جمہوریت اور صحافت پر مشترکہ حملے جاری رہے۔
یوں ایوب خان کی شخصیت اور اُن کا دور، پاکستان کی تاریخ میں ایک متضاد داستان کی طرح ہے۔ ایک طرف ترقی اور نظم و ضبط کا بیانیہ، تو دوسری طرف جمہوریت کی معطلی، سیاسی دباو اور عوامی بے چینی… شاید اسی لیے تاریخ میں اُن کا نام ایک ایسے حکم ران کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، جس نے ریاست کو ایک مخصوص سَمت دینے کی کوشش کی، مگر اس سَمت پر قوم کی رائے ہمیشہ یک ساں نہیں رہی۔
ایوب خان مالی طور پر ایک بدعنوان کردار تھے، اُنھوں نے دولت جمع کرنے پر توجہ رکھی۔ اُن کی اولاد غنڈوں کی طرح خود سر اور عزتیں پامال کرنے والی رہی۔
ایوب خان نے فوج کے اندر فوجی افسران کی ہم دردی حاصل کرنے کے لے بڑے عہدوں والے افسران کو بے پناہ طاقت اور مراعات دیں اور نچلے رینک کے افسران اور جوانوں کو دوسرے درجے کے فوجی قرار دیا۔ نیز اُنھوں نے سیاسی طاقت کے حصول کے لیے کسی سیاسی، مذہبی یا اخلاقی اقدار کا لحاظ نہیں کیا اور خود سری و خود پسندی میں ہر وہ فیصلہ کیا، جو طاقت میں اضافے کرے اور مصنوعی واہ واہ کروانے کا راستہ ہم وار کروائے۔
ایوب خان نے ہمیشہ کے لیے پاکستان میں فوجی و سیاسی اداروں کو پیشہ ورانہ مہارت سے ہٹا کر طاقت کے مضبوط گڑھ بنا دیا۔ بیوروکریسی کو بے لگام کیا۔ اسی عمل نے آگے جاکر پاکستان میں جمہوریت قائم ہونے دی، نہ جمہوریت اور عوام کو مقام مل سکا، نہ انسانی حقوق کی پاس داری کی روایت رواج پاسکی، نہ تعلیمی نظام حقیقت پسندانہ اور بامعنی ہی بن سکا۔
ایوب خان ہی نے جنرل یحییٰ، ضیاء الحق، مشرف اور دیگر کو جمہوریت کچلنے اور جمہوریت کو فروغ نہ دینے کا حوصلہ دیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے