اداروں کی بھرمار اور نتیجہ صفر

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

دبئی کا ذکر آتے ہی ایک سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ وہاں ہمیں ہر مسئلے کے لیے اے سی، ڈی سی، ایس پی، ایس ایچ اُو اور درجنوں دیگر عہدوں کی وہ بھرمار کیوں دکھائی نہیں دیتی، جو ہمارے ہاں نظر آتی ہے؟ نہ ہر گلی میں کھلی کچہریوں کا شور سنائی دیتا ہے، نہ سرکاری عہدوں اور اختیارات کی نمایش ہی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے باوجود دنیا دبئی کے انتظامی نظام، شہری سہولیات اور حکم رانی کے طریقۂ کار کو مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اصل فرق شاید عہدوں اور اداروں کی تعداد کا نہیں، بل کہ کارکردگی، جواب دہی اور نتیجہ خیزی کا ہے۔ ہمارے ہاں اداروں کی کمی نہیں۔ محکمے موجود ہیں، افسران موجود ہیں، عہدے موجود ہیں، کھلی کچہریاں بھی لگتی ہیں، اجلاس بھی ہوتے ہیں، درخواستیں بھی وصول کی جاتی ہیں اور مسائل حل کرنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں… مگر سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف کتنا ملتا ہے؟
ایک شہری معمولی سے مسئلے کے حل کے لیے دفتر در دفتر چکر لگاتا ہے۔ کبھی درخواست، کبھی سفارش، کبھی افسر کی مصروفیت اور کبھی اگلی تاریخ… یوں ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی ایک طویل داستان بن جاتا ہے۔ نتیجتاً عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر اتنے ادارے اور اتنے افسران موجود ہیں، تو پھر مسائل حل کیوں نہیں ہو رہے؟
ہم نے شاید حکم رانی کو عہدوں، فائلوں، اجلاسوں اور اعلانات کی تعداد سے ناپنا شروع کر دیا ہے، جب کہ دنیا کے کام یاب نظام اپنی کارکردگی کو اس بات سے پرکھتے ہیں کہ شہری کا مسئلہ کتنی جلدی اور کتنی شفافیت سے حل ہوا۔
دبئی کی کام یابی کا ایک بڑا سبق یہی ہے کہ نظام، شہری کو سہولت فراہم کرے، شہری نظام کے پیچھے نہ بھاگتا پھرے۔ ریاستی مشینری کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عوام کو مختلف دفاتر کے درمیان گھمایا جائے، بل کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایک مسئلہ ایک ہی جگہ، ایک ہی عمل اور کم سے کم وقت میں حل ہو۔
ہمارے ہاں اکثر کسی مسئلے کے حل کے لیے ایک نیا اجلاس، ایک نئی کمیٹی یا ایک نئی کچہری قائم کر دی جاتی ہے، لیکن بنیادی سوال جوں کا توں رہتا ہے: مسئلہ حل ہوا یا نہیں…؟
یہی وہ مقام ہے، جہاں ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں مزید عہدوں سے زیادہ موثر اداروں کی ضرورت ہے، مزید کچہریوں سے زیادہ فوری انصاف کی ضرورت ہے، مزید اعلانات سے زیادہ عمل درآمد کی ضرورت ہے اور اختیارات سے زیادہ جواب دہی کی ضرورت ہے۔
حقیقی ترقی اُس وقت ہوتی ہے، جب عام شہری کو قانون پر اعتماد ہو، سرکاری دفتر میں عزت ملے، اس کا کام میرٹ پر ہو اور اسے اپنے جائز حق کے لیے سفارش یا تعلقات کا سہارا نہ لینا پڑے۔ اگر ادارے بڑھتے جائیں، عہدے بڑھتے جائیں، اختیارات بڑھتے جائیں… مگر عوامی مسائل کم نہ ہوں، تو پھر ہمیں نظام کے حجم پر نہیں، اس کی کارکردگی پر سوال اٹھانا چاہیے۔
ہم عہدوں کی تعداد گننے کے بہ جائے نتائج گنیں۔ کھلی کچہریوں کی تعداد کے بہ جائے حل ہونے والے مسائل کا حساب رکھیں۔ افسران کی فہرستیں بنانے کے بہ جائے اُن کی کارکردگی جانچیں۔ کیوں کہ قومیں اداروں کی بھرمار سے نہیں، موثر نظام، مضبوط قانون، جواب دِہ قیادت اور بروقت انصاف سے ترقی کرتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے