احتجاج کی حمایت یا مخالفت سے پہلے ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا کہ اختلاف اور احتجاج دونوں ایک چیز نہیں۔ اختلاف ایک رائے ہے، احتجاج اُس رائے کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔
اختلاف ذہن میں جنم لیتا ہے، جب کہ احتجاج سڑک، میدان یا عوامی فورم پر اُس اختلاف کو آواز دیتا ہے۔
اختلاف حق ہے، احتجاج اُس حق کے اظہار کی ایک صورت ہے؛ لیکن ہر اختلاف کا راستہ احتجاج نہیں ہوتا اور ہر احتجاج کو اختلاف کی آخری اور واحد شکل سمجھنا بھی درست نہیں۔
مَیں کسی حکومتی فیصلے سے اختلاف کرسکتا ہوں۔ مَیں اُس پر تنقید کر سکتا ہوں، کالم لکھ سکتا ہوں، پارلیمان یا کسی متعلقہ فورم پر آواز اٹھا سکتا ہوں، سیاسی مہم چلا سکتا ہوں، یا پُرامن احتجاج کرسکتا ہوں۔ ان تمام صورتوں میں میرا بنیادی حق اپنی رائے کا اظہار ہے… مگر اختلاف کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جو شخص مجھ سے مختلف سوچتا ہے، وہ میرا دشمن ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری سیاسی گفت گو اکثر کم زور پڑ جاتی ہے۔ ہم اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بہ جائے اختلاف رکھنے والے کی نیت، حب الوطنی اور کردار پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔
ایک طرف حکومت کے ہر فیصلے کا دفاع کرنے والے موجود ہوتے ہیں، تو دوسری طرف حکومت کے ہر فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دینے والے۔ دونوں انتہاؤں کے درمیان دلیل، مکالمہ اور اعتدال کی گنجایش کم ہوتی جاتی ہے۔
حال آں کہ جمہوریت کا حسن، اتفاقِ رائے میں نہیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت میں ہے۔
احتجاج اسی اختلاف کا اجتماعی اظہار ہوسکتا ہے۔ شہری اپنے مطالبات کے لیے جمع ہوں، اپنی آواز بلند کریں، حکومت سے جواب طلب کریں اور پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کریں… یہ سیاسی عمل کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن احتجاج کے ساتھ ایک بنیادی ذمے داری بھی جڑی ہے: ’’میرا حق وہاں ختم ہوتا ہے، جہاں سے دوسرے کے بنیادی حقوق پامال ہونا شروع ہوں۔‘‘
اس لیے احتجاج اور انتشار میں فرق کرنا ہوگا۔
اپنے مطالبے کے لیے سڑک پر نکلنا احتجاج ہے؛ دوسروں کو زبردستی روکنا الگ معاملہ ہے۔
حکومت کے خلاف نعرہ لگانا احتجاج ہے؛ مخالف شہری کو دشمن سمجھنا الگ معاملہ ہے۔
پالیسی کی مخالفت اختلاف ہے؛ تشدد اور تخریب کاری کو اختلاف کا لازمی حق سمجھنا الگ معاملہ ہے۔
اسی طرح حکومت اور ریاست کو بھی ایک ہی چیز سمجھنا خطرناک ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی رہتی ہیں، مگر پاکستان سب کا مشترکہ وطن ہے۔ حکومت سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن سیاسی اختلاف کو قومی دشمنی میں تبدیل کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دِہ ہے۔
ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ اختلاف کس مقصد کے لیے ہے؟
اگر اختلاف اصلاح کے لیے ہے، تو یہ قوت ہے۔
اگر اختلاف احتساب کے لیے ہے، تو یہ جمہوری عمل کو مضبوط کرسکتا ہے۔
اگر اختلاف بہتر پالیسی کا مطالبہ کرتا ہے، تو یہ معاشرے کے مستقبل کے لیے مفید ہو سکتا ہے… لیکن اگر اختلاف صرف نفرت، انتقام اور تقسیم کا ذریعہ بن جائے، تو پھر ہمیں اپنے طرزِ سیاست پر غور کرنا ہوگا۔
آج پاکستان کو صرف سیاسی اختلاف کا سامنا نہیں۔ معاشی دباو، امن و امان کے مسائل، دہشت گردی، بے روزگاری، تعلیم کے چیلنج، سیاسی تقسیم اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات جیسے کئی مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے میں ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا سیاسی اختلاف پاکستان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے یا مزید تقسیم کا…؟
یہی اصل سوال ہے۔
مَیں کس کے خلاف ہوں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ میں کس اُصول کے حق میں ہوں؟
اگر میری سیاست قانون کی بالادستی، آئین کی پاسداری، انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کے لیے ہے تو میرا اختلاف بامعنی ہے۔ لیکن اگر میری وابستگی مجھے ہر مخالف کو دشمن سمجھنے پر مجبور کر دے، تو پھر مجھے اپنے موقف سے پہلے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔
اور پھر وہ سوال آتا ہے، جس سے ہم عموماً گریز کرتے ہیں: ’’مَیں اپنے وطن کی حفاظت کس محاذ پر کر رہا ہوں؟‘‘
سرحد پر سپاہی اپنی ذمے داری ادا کر رہا ہے، مگر وطن کی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوتی۔ استاد علم کے محاذ پر، طالب علم اپنے مستقبل کے محاذ پر، صحافی سچ اور ذمے دارانہ اطلاع کے محاذ پر، ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کے محاذ پر، مزدور اپنی محنت کے محاذ پر اور عام شہری قانون، دیانت اور کردار کے محاذ پر وطن کی خدمت کرسکتا ہے۔ اس لیے آج ہمیں صرف احتجاج کے حق یا مخالفت پر بحث نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے کردار، اپنے نظریے اور اپنی ترجیحات پر بھی غور کرنا چاہیے۔
اختلاف ہمارا حق ہے، مگر اختلاف کا ادب ہماری ذمے داری ہے۔ احتجاج ہمارا ذریعہ ہوسکتا ہے، مگر امن اور قانون کی پاس داری ہماری ذمے داری ہے۔ سیاسی وابستگی ہماری پسند ہوسکتی ہے، مگر پاکستان سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
ایک مضبوط پاکستان وہ نہیں، جہاں سب ایک ہی زبان بولیں؛ مضبوط پاکستان وہ ہے، جہاں مختلف آوازیں موجود ہوں، مگر قومی وحدت باقی رہے۔ جہاں حکومت سے سوال ہو، مگر ریاست کم زور نہ ہو۔ جہاں احتجاج ہو، مگر انتشار نہ ہو۔ جہاں اختلاف ہو، مگر دشمنی نہ ہو۔
تاریخ ہم سے یہ نہیں پوچھے گی کہ ہم نے اپنے سیاسی مخالف کو کتنی شدت سے شکست دی؟ بل کہ تاریخ یہ پوچھے گی اور ضرور پوچھے گی کہ جب ملک کو اتحاد، شعور اور ذمے داری کی ضرورت تھی، تب ہم نے اپنے حصے کا کیا کردار ادا کیا؟
اپنا محاذ پہچانیے، اپنا اُصول طے کیجیے، اختلاف کیجیے… مگر دشمنی نہ پھیلائیے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ سوچیے کہ آپ کے عمل سے پاکستان مضبوط ہو رہا ہے یا مزید تقسیم ہونے جا رہا ہے…؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










