پاکستانی معیشت کا دوراہا

Blogger Fazal Manan Bazda

معیشت کے لغوی معنی جینے کا سہارا، کھانے پینے اور گزر بسر کا سامان کے ہیں، جب کہ اصطلاحی طور پر اس سے مراد آمدنی کے ذرائع، کاروبار، تجارت، دولت کی پیداوار، اس کی تقسیم اور ملکی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا وہ مربوط نظام ہے، جس پر کسی بھی ریاست کی خوش حالی کا انحصار ہوتا ہے۔
معیشت کسی بھی ملک کے معاشی نظام کی عکاس ہوتی ہے، جس کے ذریعے محدود مادی وسائل، پیداوار، دولت کی تقسیم، طلب و رسد اور قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ معیشت کسی بھی ریاست کے جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ریڑھ کی ہڈی کم زور ہو جائے، تو جسم اپنے وجود کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر کسی ریاست کی معیشت کم زور ہو جائے، تو وہ سیاسی، سماجی اور دفاعی میدانوں میں بھی مضبوط کردار ادا نہیں کرسکتی۔
اسلام نے قرآنِ مجید، فرقانِ حمید میں جو نظامِ معاش پیش کیا، اس سے قبل دنیا کے بیش تر معاشروں کا معاشی نظام شدید عدم توازن کا شکار تھا۔ دولت کمانے پر کوئی مؤثر پابندی نہ تھی، خواہ اس کے لیے جائز ذرائع اختیار کیے جائیں یا ناجائز۔ اسی طرح دولت خرچ کرنے پر بھی کوئی اخلاقی یا قانونی قدغن موجود نہ تھی۔ دوسری جانب بادشاہوں، طبقۂ اشرافیہ اور امرا کے لیے رعایا کی جائیدادوں اور دیگر وسائل پر قبضہ کرنا بھی ایک جائز حق تصور کیا جاتا تھا۔ قدیم ہندو معاشرے میں بھی شودر کے مقابلے میں دیگر طبقات کو غیر معمولی معاشی مراعات اور فوائد حاصل تھے۔ اسلام نے ان تمام معاشی مفاسد کے خاتمے کے لیے دنیا کو ایک متوازن، عادلانہ اور فلاحی معاشی نظام عطا کیا۔
ہم بچپن سے بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے، لیکن ہنوز ہمارا ملک بحرانوں کی بند گلی میں کھڑا ہے۔ کیوں کہ اسلامی ریاست کے نام نہاد روشن خیال حکم ران، پاکستان کو مسلسل سود کی دلدل میں دھنساتے چلے جا رہے ہیں۔ سود پر لیا گیا قرض ادا کرنے کے لیے مزید سودی قرض لیا جاتا ہے… اور ہمارے یہ نام نہاد مسیحا اس قرض کے عوض قومی غیرت، خودداری، ریاستی سلامتی، خودمختاری اور ریاستی اداروں کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے گروی رکھتے چلے جا رہے ہیں۔
قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک برسرِاقتدار طبقہ عوام کو خوش حالی کا مژدہ سناتا چلا آ رہا ہے، لیکن بے چاری عوام کو معاشی بدحالی کی کھائی میں دھکیل کر خود آگے بڑھ جاتا ہے۔ مٹھی بھر سیاست دان اور بعض نادیدہ طبقات اپنے نجی کاروبار کے بل بوتے پر کاروباری شہنشاہ بن گئے، لیکن اُن کے ہاتھوں تختۂ مشق بننے والی قومی معیشت انتہائی نگہ داشت کے وارڈ (آئی سی یو) تک جا پہنچی۔ جب تک ریاست، سیاست اور معیشت چند مخصوص سرمایہ دار خاندانوں اور نادیدہ قوتوں کے رحم و کرم پر رہیں گی، اس وقت تک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود پاکستان ایک مضبوط معاشی طاقت نہیں بن سکے گا۔
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، یوکرین پر روسی حملے، اسرائیل-حماس جنگ اور بعد ازاں اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی سطح پر معاشی صورتِ حال کو یک سر تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی بے یقینی کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ پاکستان، جو پہلے ہی سیاسی اور معاشی بحرانوں کا شکار تھا، ان عالمی تبدیلیوں کے باعث مزید معاشی دلدل میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔
حکم ران معیشت کو سہارا دینے کے لیے امریکہ کے ساتھ پہلے ہی معاشی تعاون، کرپٹو کرنسی، جائیداد اور معدنی وسائل تک رسائی جیسے معاملات پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔ حکم رانوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے مرکزی کاروبار ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ ایک ادارے کے ساتھ سرحد پار ادائیوں کے لیے اسٹیبل کوائن سے متعلق ایک معاہدہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ حکم رانوں نے نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کی ہے، جب کہ ریکوڈک سمیت معدنی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جو ممکن ہے پاکستان کے مفاد میں ہو۔
پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق پاکستان کے وزیرِ خزانہ نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کے قیام کی تجویز دی ہے، جس کی مدت پانچ سال ہوگی۔ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلٹیز امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر ہی فراہم کی جانے والی مالی معاونت ہوتی ہیں، جو عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ESF) کے ذریعے ڈالر، کرنسی سواپ یا حکومتی ضمانت کی صورت میں دی جاتی ہیں، تاکہ متعلقہ ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جاسکے اور اس کی کرنسی کو استحکام حاصل ہو۔
بادی النظر میں یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ امریکہ پاکستان کی یہ درخواست منظور کرلے۔ تاہم اگر امریکہ پاکستان کی یہ درخواست منظور کرلیتا ہے، تو اس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پاکستانی کرنسی پر موجود دباو میں بھی کسی حد تک کمی آسکتی ہے۔ تاہم یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ اس کے بدلے میں پاکستان سے کوئی ایسا مطالبہ نہ کرے، جو قومی خودمختاری اور سالمیت کے لیے خطرناک ثابت ہو۔
اسی تناظر میں امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ پُرامن مقاصد کے لیے سول جوہری تعاون کی حمایت ضرور کی، لیکن بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکہ کے محکمۂ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت دی جائے گی، جب سعودی عرب قابلِ احترام اور کام یاب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوکر اسرائیل کو تسلیم کرے گا۔
اب اگر امریکہ نے اس مجوزہ مالی معاونت یا گرانٹ کی آڑ میں پاکستان سے کوئی ایسا مطالبہ کیا، جو پاکستان کی سالمیت کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہ ہو، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے حکم ران پاکستان کی سالمیت کا سودا کرنے پر آمادہ ہوں گے؟
تو چلیں، دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے