ثور انقلاب کی تاریخ (تیسری قسط)

Blogger Comrade Sajid Aman

افغانستان کی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ نہ آتے، تو شاید پورے خطے کی تاریخ بھی مختلف ہوتی۔
27 اپریل 1978 کا دن انھی میں سے ایک تھا۔ بعد میں اسے ’’ثور انقلاب‘‘ کہا گیا۔ کیوں کہ افغان شمسی کیلنڈر کے مطابق یہ واقعہ ماہِ ثور میں پیش آیا۔ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے راہ نماؤں نے اسے عوامی انقلاب قرار دیا، جب کہ ان کے مخالفین نے اسے فوجی بغاوت اور سوویت حمایت یافتہ اقتدار پر قبضہ کہا۔ ان دونوں تعبیرات کے درمیان آج بھی مؤرخین میں بحث جاری ہے، لیکن اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس دن افغانستان ایک ایسے راستے پر چل پڑا، جس نے آنے والی نسلوں کی قسمت بدل دی۔
اپریل 1978 کے آخری ہفتے تک کابل کا ماحول شدید بے چینی کا شکار تھا۔ کامریڈ میر اکبر خیبر کے قتل کے بعد حکومت اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ حکومت نے پارٹی کے بڑے راہ نماؤں کی گرفتاریاں شروع کر دی تھیں۔ صدر محمد داؤد خان کو یقین تھا کہ اگر قیادت کو قید کر لیا جائے، تو تحریک خود بہ خود بکھر جائے گی، لیکن یہ اندازہ درست ثابت نہ ہوا۔
پارٹی کے اندر برسوں سے فوج میں کام کرنے والے حامی افسر موجود تھے۔ ان میں ٹینک یونٹوں، فضائیہ اور دیگر عسکری شعبوں سے وابستہ افراد شامل تھے۔ جیسے ہی انھیں یقین ہوا کہ اگر مزید تاخیر کی گئی، تو پوری تنظیم ختم ہو جائے گی۔ انھوں نے منصوبہ بند کارروائی شروع کر دی۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق نظر بند ہونے سے پہلے حفیظ اللہ امین اپنے ساتھی افسروں تک کارروائی کا پیغام پہنچانے میں کام یاب رہے، جس نے بغاوت کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔
27 اپریل کی صبح کابل کے شہری، معمول کے مطابق اپنے کاموں میں مصروف تھے، مگر فوجی چھاؤنیوں میں غیر معمولی نقل و حرکت جاری تھی۔ چند گھنٹوں بعد دارالحکومت کی سڑکوں پر ٹینک نمودار ہونے لگے۔ ابتدا میں لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کوئی فوجی مشق ہے، یا اقتدار کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔
جلد ہی سرکاری عمارتوں، وزارتِ دفاع، مواصلاتی مراکز اور سرکاری ریڈیو کی طرف پیش قدمی شروع ہوگئی۔ سب سے اہم کردار فضائیہ نے ادا کیا۔ جنگی طیاروں نے کابل کے اوپر پروازیں شروع کیں اور بعد ازاں صدارتی محل کے گرد فضائی حملے کیے۔ افغانستان کے عوام نے پہلی مرتبہ اپنے دارالحکومت میں جنگی طیاروں کی گرج اور ٹینکوں کی گھن گرج ایک ساتھ سنی۔
صدارتی محل، جسے ’’ارگ‘‘ کہا جاتا تھا، اقتدار کی آخری علامت بن چکا تھا۔ داؤد خان کو ہتھ یار ڈالنے یا ملک چھوڑنے کے مختلف مشورے دیے گئے، مگر متعدد تاریخی روایات کے مطابق انھووں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ وہ اپنے خاندان اور محافظوں کے ساتھ محل میں موجود رہے اور آخری لمحے تک لڑنے کا فیصلہ کیا۔
کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔ ٹینکوں کی گولہ باری، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے بعد باغی فوجی محل کے اندر داخل ہونے میں کام یاب ہوئے۔ جھڑپوں کے دوران میں صدر داؤد خان، اُن کے متعدد اہلِ خانہ اور قریبی ساتھی مارے گئے۔ اس واقعے نے تقریباً پانچ برس قبل قائم ہونے والی ’’افغان جمہوریہ‘‘ کا خاتمہ کر دیا۔
جیسے ہی صدارتی محل پر قبضہ مکمل ہوا، کابل ریڈیو سے ایک نیا اعلان نشر ہوا۔ عوام کو بتایا گیا کہ پرانا نظام ختم ہوچکا ہے اور ملک میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوگئی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد نور محمد ترکئی کو نئی حکومت کا سربراہ قرار دیا گیا۔ انھوں نے قوم سے خطاب میں اس تبدیلی کو عوام کی فتح، استحصال کے خاتمے اور ایک نئے افغانستان کے آغاز سے تعبیر کیا۔
اگرچہ بہ ظاہر ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ دونوں دھڑے اقتدار میں شریک تھے، لیکن اقتدار کا اصل مرکز تیزی سے خلق دھڑے کی طرف منتقل ہونے لگا۔ ترکئی کو سربراہِ مملکت اور وزیرِ اعظم کے اختیارات ملے، جب کہ حفیظ اللہ امین کو بھی حکومت میں نہایت اہم مقام حاصل ہوا۔ دوسری طرف پرچم دھڑے کے راہ نما ببرک کارمل اور اُن کے ساتھی بھی کابینہ میں شامل ہوئے، مگر جلد ہی واضح ہونے لگا کہ دونوں دھڑوں کے درمیان پرانے اختلافات ختم نہیں ہوئے۔
اقتدار سنبھالتے ہی نئی حکومت نے تیزی سے اصلاحات کا اعلان کیا۔ زرعی اصلاحات، بڑے زمین داروں کی زمینوں کی تقسیم، سودی قرضوں کے خاتمے، سود کا خاتمہ، خواندگی کی مہم، خواتین کی تعلیم، خواتین کے فروخت پر پابندی، کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی اور ریاستی اداروں کی ازسرِ نو تشکیل جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے۔ ان اصلاحات کے بعض پہلو جدیدیت کی طرف قدم سمجھے گئے، لیکن اُن پر عمل درآمد کی رفتار، طریقۂ کار اور دیہی معاشرے کی حساسیت کو نظر انداز کرنے کے باعث شدید ردِعمل بھی سامنے آیا۔
افغانستان کے دیہی علاقوں میں قبائلی سرداروں، مذہبی علما اور روایتی سماجی ڈھانچے نے ان تبدیلیوں کو اپنے اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھا۔ بہت سے علاقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ نئی حکومت صرف سیاسی نظام ہی نہیں، بل کہ مذہبی اور ثقافتی اقدار کو بھی بدلنا چاہتی ہے۔ اگرچہ حکومت کا موقف تھا کہ اس کا مقصد سماجی انصاف اور ترقی ہے، مگر اس کے سخت گیر طرزِ عمل نے مخالفت کو مزید بڑھایا۔
اقتدار سنبھالنے کے چند ہی ماہ بعد حکومت نے مخالفین کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں۔ سرکاری اداروں، فوج، جامعات اور دیہی علاقوں میں ہزاروں افراد پر حکومت مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا۔ انسانی حقوق سے متعلق  بعد کی تحقیقات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اُس دور میں بڑی تعداد میں سیاسی مخالفین گرفتار، لاپتا یا ہلاک ہوئے۔ اس سختی نے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید وسیع کر دی۔
اُدھر خلق اور پرچم کے درمیان اقتدار کی کش مہ کش بھی دوبارہ شدت اختیار کرنے لگی۔ خلق دھڑے کے بااثر راہ نماؤں کو شک تھا کہ پرچمی راہ نما اُن کی پالیسیوں سے متفق نہیں اور شاید سوویت قیادت سے بہ راہِ راست روابط کے ذریعے اپنا اثر بڑھانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب پرچم کے راہ نماؤں کا خیال تھا کہ خلق قیادت ضرورت سے زیادہ سختی اور جلد بازی سے کام لے رہی ہے، جس سے پورا نظام خطرے میں پڑسکتا ہے۔
چند ہی مہینوں میں پرچم دھڑے کے کئی اہم راہ نماؤں کو سفارتی عہدوں پر بیرونِ ملک بھیج دیا گیا۔ بہ ظاہر یہ تقرریاں معمول کی سفارتی ذمے داریاں تھیں، مگر عملی طور پر انھیں کابل کی سیاست سے دور کرنے کا ذریعہ بھی سمجھا گیا۔ یوں وہ اختلافات، جو برسوں پہلے پارٹی کی تقسیم کا سبب بنے تھے، اقتدار میں آنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ گہرے ہوگئے۔
اور یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا تھا، جب کابل میں نئی حکومت اپنی کام یابی کا جشن منا رہی تھی، مگر دیہی افغانستان میں مزاحمت کے بیج تیزی سے بوئے جا رہے تھے۔ حکومت کو ابھی اندازہ نہیں تھا کہ جس انقلاب کو وہ اپنی سب سے بڑی کام یابی سمجھ رہی ہے، وہی چند ماہ بعد ایک ایسی طویل جنگ کا پیش خیمہ بننے والا ہے، جس میں نہ صرف افغان ریاست، بل کہ ایک عالمی طاقت بھی الجھ جائے گی۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے