گذشتہ دنوں ایک دوست نے سوشل میڈیا پر بحرین بازار کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ اُس ویڈیو میں بازار کے بیچ اتنا پانی بہہ رہا تھا، جیسے کوئی چھوٹا دریا گزر رہا ہو۔ یہ وہی بازار ہے، جو 2010 کے سیلاب کے بعد کئی بار وقتی طور پر بہ حال کیا گیا، مگر اس کا مستقل حل آج تک نہیں نکالا جاسکا۔
بات صرف بحرین بازار تک محدود نہیں۔ تحصیلِ بحرین کے تقریباً ہر پل، ہر لنک روڈ، بل کہ مین کالام روڈ کی بھی یہی کہانی ہے۔ بارش ہو، سیلاب آئے، یا دریا کا بہاو تیز ہو، تو پرانے زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ کہیں پل بہہ جاتے ہیں، کہیں سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں، کہیں بازار پانی میں ڈوب جاتے ہیں… اور پھر چند دن یا چند ہفتوں کے لیے عارضی مَرمت کرکے سمجھ لیا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہوگیا۔
پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر ہر کام کا آسان، فوری اور ’’شارٹ کٹ‘‘ حل تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ’’جگاڑ‘‘ کو ذہانت سمجھا جاتا ہے، حال آں کہ یہی عارضی سوچ کئی بڑے مسائل کو مستقل بحران میں بدل دیتی ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو، ہم اُس کا وقتی علاج تو کرلیتے ہیں، لیکن اس کی جڑ تک پہنچنے اور اسے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں۔
طالبان کا مسئلہ ہو، 2010 اور 2022 کا سیلاب ہو، زلزلہ ہو یا کوئی اور قدرتی آفت… ہمارا ردِعمل عموماً وقتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں عارضی پل بنا دیے جاتے ہیں، چند خیمے لگا دیے جاتے ہیں، کچھ امدادی سامان تقسیم کر دیا جاتا ہے، اور پھر سمجھ لیا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہوگیا… لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے پل جو سیلاب میں بہہ گئے تھے، آج بھی دوبارہ مضبوط بنیادوں پر تعمیر نہیں ہوسکے۔ بہت سے اسکول، سرکاری عمارتیں، راستے اور سڑکیں جو تباہ ہوئیں، وہ آج بھی اُسی حالت میں ہیں، یا صرف عارضی مرمت کے سہارے چل رہی ہیں۔
اب اس مسئلے کو صرف مقامی بدانتظامی یا حکومتی غفلت کَہ کر چھوڑ دینا بھی کافی نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) پہاڑی علاقوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سوات، بحرین، کالام اور دیگر بالائی علاقوں میں بارشوں کا انداز پہلے جیسا نہیں رہا۔ کہیں لمبے خشک موسم آتے ہیں، کہیں اچانک شدید بارشیں ہوتی ہیں اور کہیں گلیشیئرز کے پگھلنے سے ندی نالوں میں پانی کا بہاو خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں پرانے انداز کی منصوبہ بندی اب کافی نہیں رہی۔
موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر یہ ہے کہ آفات اب کبھی کبھار پیش آنے والے واقعات نہیں رہیں، بل کہ بار بار آنے والے خطرات بن چکی ہیں۔ پہلے شاید کوئی بڑا سیلاب کئی سال بعد آتا تھا، لیکن اب شدید بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں کا کٹاو، پلوں کا بہہ جانا اور سڑکوں کا ٹوٹنا زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اگر ہم آج بھی عارضی پل، کم زور حفاظتی دیواریں اور جلدی میں بنائی گئی سڑکیں بناتے رہیں گے، تو اگلی بارش یا اگلا سیلاب اُنھیں دوبارہ بہا لے جائے گا۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سال تباہی کے بعد دوبارہ وہی مَرمت کرتے رہیں گے، یا ایک بار سنجیدگی سے ایسا نظام بنائیں گے، جو آنے والے بیس، تیس یا پچاس سال کے خطرات کو سامنے رکھ کر تیار کیا جائے؟ بحرین بازار، کالام روڈ، لنک روڈز اور پلوں کی تعمیر صرف آج کے پانی کو دیکھ کر نہیں ہونی چاہیے، بل کہ مستقبل کے سیلاب، شدید بارشوں، دریا کے کٹاو اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے خطرات کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔
ہمارے پہاڑی علاقوں میں ترقی کا مطلب صرف سڑک بنانا نہیں۔ ترقی کا مطلب محفوظ سڑک بنانا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف پل کھڑا کرنا نہیں، بل کہ ایسا پل بنانا ہے، جو اگلے سیلاب میں بھی قائم رہے۔ ترقی کا مطلب صرف بازار کو دوبارہ کھول دینا نہیں، بل کہ بازار کو اس طرح محفوظ بنانا ہے کہ دکان دار ہر سال خوف میں نہ جیے۔ جب تک منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلی، دریا کے قدرتی راستے، پہاڑوں کی کم زوری، جنگلات کی کمی، غیر محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی ضروریات کو شامل نہیں کیا جائے گا، تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دریا اور ندی نالوں کے کناروں پر بغیر سوچے سمجھے تعمیرات کی جاتی ہیں۔ جب دریا اپنے قدرتی راستے کو واپس لیتا ہے، تو ہم اسے آفت کہتے ہیں۔ حال آں کہ کئی بار ہم خود اس کے راستے میں بازار، ہوٹل، گھر، دکانیں اور سڑکیں بناچکے ہوتے ہیں۔ کلائمیٹ چینج کے دور میں یہ خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اب دریاؤں کے کناروں پر تعمیرات کے لیے سخت اُصول، محفوظ فاصلے، مضبوط حفاظتی نظام اور مقامی سطح پر نگرانی کی ضرورت ہے۔
اسی طرح جنگلات کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ پہاڑی علاقوں میں درخت صرف خوب صورتی کے لیے نہیں ہوتے، بل کہ وہ زمین کو پکڑ کر رکھتے ہیں۔ نیز بارش کے پانی کے بہاو کو کم کرتے ہیں، لینڈ سلائیڈنگ کو روکنے میں مدد دیتے ہیں اور ماحول کو متوازن رکھتے ہیں۔ جب جنگلات کم ہوتے ہیں، تو بارش کا پانی تیزی سے نیچے آتا ہے، مٹی بہہ جاتی ہے، نالے خطرناک ہو جاتے ہیں اور سڑکیں اور پل زیادہ آسانی سے تباہ ہوتے ہیں۔ اس لیے سیلاب سے بچاو صرف کنکریٹ کی دیواروں سے نہیں ہوگا؛ اس کے لیے جنگلات کی حفاظت، نئے درخت لگانا، غیر قانونی کٹائی روکنا اور مقامی لوگوں کو ماحول دوست روزگار دینا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نقصان اُن علاقوں کو ہوتا ہے، جن کا اس تبدیلی میں حصہ بہت کم ہوتا ہے۔ ہمارے پہاڑی لوگ بڑے صنعتی کارخانے چلاتے ہیں، نہ وہ دنیا کی آلودگی کے بڑے ذمے دار ہیں، مگر جب سیلاب آتا ہے، تو سب سے پہلے اُنھی کے گھر، زمینیں، دکانیں، پل اور سڑکیں تباہ ہوتی ہیں۔ اس لیے حکومت کی ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان علاقوں کو صرف امداد کا مستحق نہ سمجھے، بل کہ انھیں موسمیاتی انصاف، مضبوط انفراسٹرکچر اور طویل مدتی تحفظ دے۔
ترقی یافتہ ممالک میں مسائل کو صرف وقتی طور پر نہیں نمٹایا جاتا، بل کہ اُن کا مستقل حل تلاش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا جیسے ممالک میں حکومت، ادارے اور این جی اوز مل کر طویل مدتی منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ یہاں کسی علاقے میں سیلاب، آگ، خشک سالی یا دوسری آفت آئے، تو صرف امدادی سامان تقسیم نہیں کیا جاتا، بل کہ اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیندہ ایسی تباہی کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟ نقشے بنائے جاتے ہیں، خطرے والے علاقوں کی نشان دہی ہوتی ہے، عمارتوں کے اُصول سخت کیے جاتے ہیں، کمیونٹی کو تربیت دی جاتی ہے اور اداروں کو کئی سالوں کے اہداف دیے جاتے ہیں۔
یہاں این جی اوز بھی صرف چند ماہ کے منصوبوں تک محدود نہیں ہوتیں، بل کہ انھیں بیس، تیس سال کے اہداف دیے جاتے ہیں۔ حکومت ان کی مالی مدد کرتی ہے، نگرانی کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ منصوبے صرف وقتی ریلیف نہ دیں، بل کہ معاشرے میں مستقل بہتری لائیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں بھی این جی اوز اور دیگر ادارے کام کرتے ہیں، لیکن اکثر ان کی فنڈنگ مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ کسی مسئلے کا وقتی حل نکالتے ہیں، مگر جب اگلی آفت آتی ہے، تو وہی مسائل دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وسائل ضائع ہوتے ہیں، بل کہ متاثرہ لوگ بھی بار بار اسی تکلیف سے گزرتے ہیں۔
ہمیں اب امداد کے ماڈل سے نکل کر منصوبہ بندی کے ماڈل کی طرف جانا ہوگا۔ ہر آفت کے بعد راشن، خیمے اور عارضی پل ضروری ہوسکتے ہیں، لیکن یہ آخری حل نہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ ہر متاثرہ علاقے کا مکمل سروے ہو، مقامی لوگوں سے مشورہ لیا جائے، انجینئرز، ماہرینِ ماحولیات، مقامی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور کمیونٹی مل کر طویل المدتی منصوبہ بنائیں۔ پل کہاں بننا چاہیے، سڑک کس اونچائی پر ہونی چاہیے، بازار کو کیسے محفوظ کیا جائے، دریا کے کنارے کتنی تعمیرات خطرناک ہیں اور کون سے علاقے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے میں ہیں؟ یہ سب سوالات منصوبہ بندی کا حصہ ہونے چاہییں۔
تحصیلِ بحرین، کالام اور سوات کے دوسرے پہاڑی علاقوں کے لیے خاص طور پر ایک جامع موسمیاتی اور انفراسٹرکچر پلان کی ضرورت ہے۔ اس پلان میں مضبوط پل، محفوظ سڑکیں، نکاسیِ آب کا بہتر نظام، دریا کے کناروں کی حفاظت، جنگلات کی بہ حالی، خطرناک تعمیرات پر پابندی، سیلابی راستوں کی نشان دہی اور مقامی لوگوں کی تربیت شامل ہونی چاہیے۔ اسکولوں، بازاروں، اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کو بھی ایسے مقامات پر بنایا جائے، جہاں اگلے سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ کم ہو۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مقامی لوگ صرف متاثرین نہیں، بل کہ حل کا حصہ بھی ہیں۔ بحرین، کالام اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو اپنے دریاؤں، نالوں، پہاڑوں اور موسموں کا مقامی علم ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کون سا نالہ کب خطرناک ہوتا ہے، کون سا راستہ بارش میں بند ہو جاتا ہے، کہاں زمین کھسک سکتی ہے اور دریا کہاں اپنا راستہ بدلتا ہے؟ اگر حکومت اور ادارے اس مقامی علم کو منصوبہ بندی میں شامل کریں، تو منصوبے زیادہ مضبوط، عملی اور دیرپا ہوسکتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں جگاڑ سے ترقی نہیں کرتیں۔ ترقی کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، شفاف نظام، طویل المدتی سوچ اور مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کلائمیٹ چینج کے اس دور میں عارضی حل پہلے سے زیادہ خطرناک ہوچکے ہیں۔ کیوں کہ اب آفات کی شدت اور تعداد دونوں بڑھ رہی ہیں۔ اگر ہم ہر مسئلے کا صرف عارضی حل ڈھونڈتے رہیں گے، تو پاکستان کی حالت وہیں کی وہیں رہے گی، بل کہ وقت کے ساتھ نقصان مزید بڑھتا جائے گا۔
آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم شارٹ کٹ کے بہ جائے مستقل حل، مضبوط اداروں، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تیاری کو اپنی قومی ترجیح بنائیں۔ بحرین بازار، کالام روڈ، پلوں اور لنک روڈز کی کہانی صرف ایک علاقے کی کہانی نہیں؛ یہ پاکستان کی منصوبہ بندی، ترجیحات اور مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے اب بھی مستقل حل کی طرف قدم نہ اٹھایا، تو ہر بارش، ہر سیلاب اور ہر آفت ہمیں دوبارہ وہیں لا کھڑا کرے گی جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










