ظلم صرف وہ نہیں جو بندوق، طاقت یا اقتدار کے زور پر کیا جائے، بل کہ ظلم وہ بھی ہے، جو خاموشی کی صورت میں پروان چڑھتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی ظالم پیدا ہوئے، اُن کی طاقت صرف اُن کے ہتھ یار، دولت یا عہدے نہیں تھے، بل کہ اُن کے گرد موجود خاموش لوگوں کی بھیڑ تھی۔ وہ لوگ جو سچ جانتے تھے، مگر بولے نہیں، جو حق کو پہچانتے تھے، مگر ڈر گئے، جو مظلوم کی چیخ سنتے تھے، مگر مصلحتوں کے دبیز پردوں میں اپنے ضمیر کو دفن کر دیتے تھے۔ آج ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں ظلم کی سب سے خطرناک شکل شاید یہی خاموشی ہے۔
اپنے سے سیکڑوں کلومیٹر دور ہونے والے ظلم و ناانصافی پر آواز اٹھانا بلاشبہ ایک انسانی، اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔ فلسطین ہو، کشمیر ہو، برما ہو یا دنیا کے کسی بھی خطے میں ہونے والا ظلم… اُس پر آواز بلند کرنا زندہ ضمیر ہونے کی علامت ہے… مگر اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے، جہاں ظلم ہمارے اپنے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ جب ناانصافی ہمارے اپنے گھر، خاندان، گاؤں، محلے، برادری یا علاقے میں ہو رہی ہو، تو اُس وقت انسان کے کردار کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اُس وقت خاموش ہو جاتے ہیں۔ خوف ہمیں جکڑ لیتا ہے، رشتے ہمیں کم زور بنا دیتے ہیں، مفادات ہماری زبانوں پر تالے لگا دیتے ہیں… اور نام نہاد جرگے، طاقت ور خاندان اور بااثر لوگ ہمیں سچ بولنے سے روک دیتے ہیں۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک شخص سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے مظلوموں کے حق میں لمبی لمبی تحریریں لکھتا ہے، ویڈیوز بناتا ہے، جذباتی تقریریں کرتا ہے، مگر اپنے ہی گھر میں ہونے والے ظلم پر خاموش رہتا ہے۔ اُس کی بہن کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو، اُس کے بھائی کا حق مارا جا رہا ہو، کسی بیوہ کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہو، کسی غریب کا رزق چھینا جا رہا ہو، کسی بہو کو ذہنی اذیت دی جا رہی ہو، کسی یتیم کو وراثت سے محروم کیا جا رہا ہو، مگر وہ خاموش رہتا ہے۔ ایسی خاموشی صرف کم زوری نہیں، بل کہ ظلم میں شراکت ہے۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ظلم ہمیشہ بڑے حادثوں کی شکل میں نہیں آتا۔ بعض اوقات ظلم روزمرہ کے رویوں میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک ساس جب اپنی بہو کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے، اُس کی عزت نفس مجروح کرتی ہے، اُس کے جذبات کو روندتی ہے، اُس پر جھوٹے الزامات لگاتی ہے، اُس کے ماں باپ کو برا بھلا کہتی ہے، اُس کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی گناہ بنا دیتی ہے، تو یہ بھی ظلم ہے… اور اگر گھر کے باقی افراد یہ سب دیکھ کر خاموش رہیں، تو وہ بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک بھائی اگر دوسرے بھائی کا حق دبا لے، اُس کی جائیداد ہڑپ کرلے، اُس کی محنت کا صلہ چھین لے اور خاندان خاموش رہے، تو یہ خاموشی بھی گناہ ہے۔
ہمارا معاشرہ عجیب تضادات کا شکار ہے۔ یہاں اکثر لوگ ظلم کو ظلم اُس وقت مانتے ہیں، جب وہ اُن کے اپنے خلاف ہو۔ جب تک ظلم کسی اور پر ہو رہا ہو، تب تک لوگ خاموش رہتے ہیں، بل کہ بعض اوقات ظالم کا ساتھ بھی دیتے ہیں… مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم کبھی ایک جگہ نہیں رکتا۔ آج اگر آپ کسی مظلوم کی آہ پر خاموش ہیں، تو کل یہی آگ آپ کے اپنے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں ظلم پر خاموش رہیں، وہ آخرِکار خود ظلم کا شکار بن گئیں۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں ایک نئی بیماری نے جنم لیا ہے۔ لوگ مظلوم کے حق میں آواز کم اور اپنی شہرت کے لیے زیادہ بولتے ہیں۔ اُنھیں حق سے زیادہ لائکس، ویوز، فالوورز اور واہ واہ کی فکر ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہر اُس معاملے پر بولیں گے، جہاں اُنھیں داد ملنے کی امید ہو… مگر وہاں خاموش ہو جائیں گے، جہاں سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔ حقیقی بہادری یہ نہیں کہ انسان محفوظ فاصلے سے نعرے لگائے، بل کہ اصل جرات یہ ہے کہ وہ اپنے گھر، خاندان، برادری اور علاقے میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف کھڑا ہو جائے، چاہے اس کے نتیجے میں اُس کے اپنے تعلقات، مفادات یا آرام خطرے میں کیوں نہ پڑ جائیں۔
ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم واقعی انصاف پسند ہیں یا صرف دکھاوے کے انقلابی ہیں؟
کیا ہم صرف اُس وقت بولتے ہیں، جب بولنے میں کوئی خطرہ نہ ہو؟
کیا ہم صرف وہاں آواز اٹھاتے ہیں جہاں ہماری شہرت بڑھے؟
اگر واقعی ایسا ہے، تو ہمیں اپنے کردار پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
اسلام نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی تعلیم دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ظالم کو ظلم سے روکنا بھی اُس کی مدد کرنا ہے۔ اس فرمان میں کتنی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ کیوں کہ جب ایک شخص ظلم کرتا ہے اور ہم اُسے نہیں روکتے، تو دراصل ہم اُسے مزید گناہ، مزید تباہی اور مزید بربادی کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں۔ ایک معاشرہ اُس وقت تباہ ہوتا ہے، جب وہاں حق بات کہنے والے لوگ خاموش ہو جائیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں حق بات کرنے والے کو باغی، گستاخ، بدتمیز یا خاندان دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص جرگے کے غلط فیصلے کے خلاف بولے، تو کہا جاتا ہے کہ یہ روایتوں کے خلاف جا رہا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے، تو اُسے بدکردار یا نافرمان کَہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، تو اُسے خاندان کی عزت خراب کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔ یوں سچ بولنے والوں کو تنہا کر دیا جاتا ہے، تاکہ باقی لوگ ڈر جائیں۔
یہ خوف ہی دراصل ظالم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب لوگ ڈرنا چھوڑ دیں، تو بڑے بڑے جابر نظام زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر خوف کو مستقل جگہ دے دی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، خاندان ناراض ہو جائے گا، تعلقات خراب ہو جائیں گے، کاروبار متاثر ہوگا، یا ہمیں نقصان پہنچے گا… مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ خاموشی کی قیمت بھی بہت بھاری ہوتی ہے۔ خاموشی ضمیر کو مار دیتی ہے، معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور آنے والی نسلوں کو ظلم برداشت کرنے کا عادی بنا دیتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں کتنی ہی عورتیں ظلم سہہ رہی ہیں، مگر کوئی بولنے والا نہیں۔ کتنے ہی بچے تشدد کا شکار ہیں، مگر لوگ خاموش ہیں۔ کتنے ہی غریب مزدور استحصال کا شکار ہیں، مگر کسی کو پروا نہیں۔ کتنے ہی یتیم اور کم زور لوگ اپنے حقوق سے محروم ہیں، مگر طاقت وروں کے سامنے کوئی زبان نہیں کھولتا۔ یہی خاموشی معاشرے کو قبرستان بنا دیتی ہے، جہاں زندہ جسم تو موجود ہوتے ہیں، مگر ضمیر مرچکے ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ اگر ہمارے گھر میں کسی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، تو سب سے پہلے ہمیں وہاں آواز اٹھانی ہوگی۔ اگر ایک بہو کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، تو بیٹے کو ماں کے سامنے حق بات کہنے کی ہمت کرنی ہوگی۔ اگر بھائی، بھائی کا حق کھا رہا ہے، تو خاندان کو سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر والدین اولاد میں ناانصافی کر رہے ہیں، تو انہیں سمجھانا ہوگا۔ اگر کوئی طاقت ور رشتہ دار کم زوروں کو دبا رہا ہے، تو اُس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
پھر یہ دائرہ گھر سے نکل کر محلے، گاؤں، علاقے اور پورے معاشرے تک جانا چاہیے۔ ہمیں ہر اُس جگہ حق کا ساتھ دینا ہوگا، جہاں ظلم موجود ہو۔ چاہے ظالم ہمارا اپنا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ انصاف رشتوں سے بڑا ہوتا ہے اور سچ ہر تعلق سے مقدس ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر نام نہاد جرگے انصاف کے نام پر ظلم کو تحفظ دیتے ہیں۔ طاقت ور لوگ بیٹھ کر ایسے فیصلے کرتے ہیں، جن میں کم زور کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ کئی بار عورتوں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے، کئی بار غریبوں کے حقوق چھین لیے جاتے ہیں، مگر لوگ روایت اور برادری کے نام پر خاموش رہتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر روایت درست نہیں ہوتی۔ جو روایت ظلم کو جنم دے، وہ روایت نہیں، بل کہ جہالت ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں۔ اس راستے میں تنقید بھی ہوگی، مخالفت بھی ہوگی، تنہائی بھی ملے گی اور شاید نقصان بھی برداشت کرنا پڑے… مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خاموش رہنے والے لوگ وقتی سکون تو حاصل کرلیتے ہیں، مگر تاریخ میں اُن کا نام عزت سے نہیں لیا جاتا۔ عزت ہمیشہ اُن لوگوں کو ملتی ہے، جو سچ کے ساتھ کھڑے رہے، چاہے وہ اکیلے ہی کیوں نہ تھے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا حق کا راستہ نہیں۔ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بل کہ ایک پیغام ہے کہ حق کے لیے کھڑا ہونا پڑتا ہے، چاہے دنیا ساتھ دے یا نہ دے۔ اسی طرح تاریخ کے ہر دور میں وہی لوگ زندہ رہے، جنھوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ ظلم صرف مارنے یا قتل کرنے کا نام نہیں۔ کسی کا حق چھیننا، کسی کی عزت نفس مجروح کرنا، کسی کم زور کو دبانا، کسی عورت کو خاموش کرنا، کسی غریب کو انصاف سے محروم کرنا، کسی بچے پر تشدد کرنا، یہ سب ظلم کی شکلیں ہیں… اور ان سب کے خلاف آواز اٹھانا انسانیت کا تقاضا ہے۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ ہمیں سوشل میڈیا کی نمایشی ہم دردیوں سے نکل کر حقیقی میدان میں آنا ہوگا۔ ہمیں اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے خاندان اور اپنے علاقے سے احتساب شروع کرنا ہوگا۔ کیوں کہ جو شخص اپنے گھر میں ہونے والے ظلم پر خاموش ہے، اُس کی دور کے مظلوموں کے لیے آواز اکثر کھوکھلی محسوس ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان صرف تعریفیں کرنے کے لیے نہیں دی، بل کہ حق بات کہنے کے لیے بھی دی ہے۔ یہ زبان اگر مظلوم کے حق میں نہ بولے، تو پھر اس کا خاموش رہنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے۔ قیامت کے دن شاید ہم سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جب تم ظلم دیکھ رہے تھے، تو خاموش کیوں رہے؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوف، مصلحت، تعلقات اور وقتی مفادات سے اوپر اٹھ کر سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنی خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ ہمیں ظالم کے سامنے ڈٹ کر کہنا ہوگا کہ ظلم غلط ہے، چاہے وہ کسی کی طرف سے بھی ہو۔ کیوں کہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہمارے بچے بھی اسی ظلم زدہ معاشرے میں سانس لیں گے، جہاں حق کم زور اور ظلم طاقت ور ہوگا۔
آئیں عہد کریں کہ ہم حق بات کہنے سے نہیں ڈریں گے۔ ہم مظلوم کا ساتھ دیں گے، چاہے وہ کوئی اجنبی ہو یا اپنا۔ ہم اپنے گھروں سے انصاف کا آغاز کریں گے۔ ہم اپنی خاموشی کو ظالم کی طاقت نہیں بننے دیں گے۔ ہم ہر اُس دیوار کو گرا دیں گے، جو ہمیں سچ بولنے سے روکتی ہے… اور ہم ایک ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں گے، جہاں انسان کو انصاف مانگنے کے لیے چیخنا نہ پڑے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، باطل کو باطل جاننے، مظلوم کا ساتھ دینے، ظالم کو ظلم سے روکنے اور ہر قسم کے خوف و مصلحت سے بالاتر ہو کر انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










