بائی پاس فلائی اوور کی بیوٹیفیکیشن کے نام پر کروڑوں روپے کے ممکنہ غبن کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ حال ہی میں وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا کی جانب سے اس منصوبے کے لیے خطیر فنڈ مختص کیا گیا، مگر بدقسمتی سے ماضی کی طرح اس بار بھی ناقص منصوبہ بندی، غیر معیاری کام اور فنڈز کے غلط استعمال کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔
مَیں کئی دنوں سے اس منصوبے کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ بیوٹیفیکیشن کے لیے باجری خشک مٹی پر ڈال دی جاتی ہے، لیکن بعد میں اُسے پانی دینے یا مناسب دیکھ بھال کا کوئی انتظام نظر نہیں آتا۔ اسی طرح تعمیراتی کام میں بھی انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ کام سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیمنٹ اور دیگر میٹریل کا معیار کس قدر کم زور ہے۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی، تو یہ بیوٹیفیکشن منصوبہ بھی ماضی کے دیگر منصوبوں کی طرح صرف کاغذی ترقی بن کر رہ جائے گا، جب کہ کروڑوں روپے خورد برد ہو جائیں گے۔
اس حوالے سے عوام، بالخصوص سول سوسائٹی، وکلا، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس منصوبے کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کریں اور متعلقہ اداروں سے جواب طلبی کریں کہ جو کروڑوں روپے مختص کیے گئے ہیں، کیا واقعی اس معیار کا کام اُن فنڈز کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں؟
اس منصوبے میں چند اہم اقدامات فوری طور پر شامل کیے جانے چاہییں:
1) فلائی اوور پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، تاکہ سیکیورٹی اور نگرانی بہتر ہوسکے۔
2) فلائی اوور کے اطراف میں مضبوط فینسنگ کی جائے، کیوں کہ ماضی میں حادثات کے دوران میں کئی لوگ نیچے گر کر زخمی اور جاں بہ حق ہوچکے ہیں۔ مَیں خود ایسے حادثات کا عینی شاہد ہوں۔
3) چوک اور اطراف میں جدید طرز کی لینڈ اسکیپنگ کی جائے، جہاں مختلف اقسام کے پودے، پھول اور خوب صورت گھاس لگائی جائے، تاکہ اس سے مینگورہ شہر کا حسن بھی بڑھے اور فضائی آلودگی بھی کم سے کم ہو۔
4) مسافروں اور شہریوں کے آرام کے لیے بینچ اور بیٹھنے کی مناسب جگہیں بنائی جائیں۔
5) سولر لائٹنگ سسٹم نصب کیا جائے، تاکہ رات کے وقت روشنی کا مؤثر انتظام ہو اور اس سے بجلی کے اخراجات بھی کم ہوں۔
6) جہاں فلائی اوور ختم ہوتا ہے, وہاں جدید ٹریفک انجینئرنگ کے اُصولوں کے مطابق روڈ مارکنگ، لین مینجمنٹ اور مناسب ڈیوائیڈرز بنائے جائیں، تاکہ فلائی اوور پر چڑھنے اور نیچے اترنے والی گاڑیوں کے درمیان حادثات سے بچا جاسکے۔
قارئین! یہ منصوبہ صرف خوب صورتی کے لیے نہیں، بل کہ عوامی سہولت، تحفظ اور شہری ترقی کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر بروقت نگرانی نہ کی گئی، تو ایک بار پھر عوام کے ٹیکس کا پیسا چند افراد کی جیبوں میں چلا جائے گا اور شہریوں کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










