جنریشن گیپ… سلگتا مسئلہ

Blogger Suhail Sohrab

آج کے جدید دور میں ’’جنریشن گیپ‘‘ ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے، جو تقریباً ہر گھر، ہر معاشرے اور ہر رشتے میں کسی نہ کسی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ صرف عمر کا فرق نہیں، بل کہ سوچ، اقدار، ترجیحات اور زندگی گزارنے کے انداز کا فرق ہے۔ ایک طرف وہ نسل ہے، جس نے سادگی، محنت اور صبر کے ساتھ زندگی گزاری، جب کہ دوسری طرف وہ نوجوان نسل ہے، جو تیز رفتار دنیا، جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے رجحانات کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
ماضی کی نسل کے نزدیک زندگی کے اصول واضح اور محدود تھے۔ وہ اپنے بڑوں کی بات کو بغیر سوال کیے ماننا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان کے لیے عزت، برداشت اور خاندانی روایات سب سے اہم تھیں۔ اس کے برعکس آج کی نوجوان نسل سوال کرتی ہے، اپنی رائے رکھتی ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے۔ وہ آزادی کو اہمیت دیتی ہے اور دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنا چاہتی ہے۔ یہی فرق اکثر غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔
گھروں میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ والدین اپنے بچوں سے وہی توقعات رکھتے ہیں، جو ان کے اپنے زمانے میں درست سمجھی جاتی تھیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچے انھی راستوں پر چلیں، جو انھوں نے اختیار کیے تھے… لیکن نوجوان نسل کے خواب مختلف ہوتے ہیں۔ وہ نئے شعبوں میں جانا چاہتی ہے، نئے طریقے اپنانا چاہتی ہے اور اپنی پہچان خود بنانا چاہتی ہے۔ جب ان کی بات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو وہ خود کو غیر سمجھا ہوا محسوس کرتے ہیں، جس سے دلوں میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی نے اس فرق کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ وہ دنیا بھر سے جڑے ہوئے ہیں، نئی معلومات حاصل کرتے ہیں اور مختلف ثقافتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بڑی نسل کے لیے یہ سب کچھ اتنا آسان یا قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ انھیں لگتا ہے کہ نوجوان اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں، یا اپنی روایات سے دور ہو رہے ہیں۔ اس سوچ کا فرق بھی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں نسلیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے بہ جائے ایک دوسرے کو بدلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بڑی نسل چاہتی ہے کہ نوجوان ان جیسے بن جائیں، جب کہ نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں مکمل آزادی دی جائے۔ یہی کش مہ کش مسائل کو بڑھاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو پرانی نسل مکمل طور پر غلط ہے اور نہ نئی نسل… دونوں کے پاس اپنی اپنی جگہ درست دلائل اور تجربات موجود ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف برداشت، مکالمہ اور احترام میں ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کی بات کو غور سے سنیں، ان کے خیالات کو اہمیت دیں اور انھیں اعتماد دیں، تو بہت سے مسائل خود بہ خود ختم ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بڑوں کے تجربے کی قدر کریں، ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی بات نرمی سے پیش کریں۔
گفت گو ایک ایسا ذریعہ ہے، جو دلوں کو قریب لاسکتا ہے۔ اگر گھر میں ایسا ماحول ہو، جہاں ہر فرد اپنی بات کھل کر کَہ سکے اور دوسرے کو سننے کا حوصلہ بھی ہو، تو جنریشن گیپ کم ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وقت کے ساتھ تبدیلی آنا ایک فطری عمل ہے۔ اسے روکنے کے بہ جائے سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بہ جا ہوگا کہ جنریشن گیپ دراصل ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟ اگر ہم اس فرق کو لڑائی کا سبب بنانے کے بہ جائے سیکھنے کا ذریعہ بنالیں، تو نہ صرف ہمارے رشتے مضبوط ہوں گے، بل کہ ہمارا معاشرہ بھی زیادہ بہتر اور متوازن بن جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے