دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان صرف آبادی کا ایک حصہ نہیں، بل کہ ریاست کی فکری، معاشی، سائنسی اور دفاعی قوت کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان تعلیم، روزگار، راہ نمائی اور امید سے محروم ہو جائیں، تو وہی قوت معاشرے کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ آج پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر معاشرے ایک ایسے ہی نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں، جہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ذہنی دباو، مایوسی اور سماجی تنہائی ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اگر اس بحران کو فوری اور سنجیدہ بنیادوں پر حل نہ کیا گیا، تو آنے والے وقت میں جرائم، انتہا پسندی، منشیات، خود کُشیوں اور سماجی بغاوت میں اضافہ ناگزیر ہوسکتا ہے۔
ہر معاشرہ اپنے نوجوانوں کے ذریعے مستقبل تعمیر کرتا ہے۔ یہی نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، استاد، سائنس دان، سپاہی، سیاست دان اور صنعت کار بنتے ہیں… لیکن جب ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار نہ پاسکے، اپنے والدین پر بوجھ محسوس کرے، معاشرے میں عزت اور مقام نہ حاصل کرسکے، تو اس کے اندر شدید نفسیاتی کش مہ کش پیدا ہوتی ہے۔ وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی خود اعتمادی ٹوٹنے لگتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ معاشرے سے بدظن ہونے لگتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے، جہاں ایک باصلاحیت نوجوان یا تو خاموشی سے ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، یا پھر غلط راستوں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ بعض نوجوان منشیات، سوشل میڈیا کی انتہا پسند سوچ، نفرت انگیز گروہوں یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ جب ریاست اور معاشرہ کسی نوجوان کو مثبت شناخت نہیں دیتے، تو منفی قوتیں اُسے آسانی سے اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔
ہمارے ہاں اکثر بے روزگاری کو صرف مالی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ حقیقت میں یہ ایک گہرا نفسیاتی، اخلاقی اور سماجی بحران بھی ہے۔ ایک نوجوان جب روزگار سے محروم ہوتا ہے، تو صرف اس کی جیب خالی نہیں ہوتی، بل کہ اس کے خواب، عزتِ نفس اور امیدیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
گھر کے حالات، مہنگائی، والدین کی توقعات اور معاشرے کا دباو اسے اندر ہی اندر توڑ دیتا ہے۔ خصوصاً وہ نوجوان جو اعلا تعلیم حاصل کرچکے ہوں، مگر عملی میدان میں انھیں صرف سفارش، کرپشن اور اقربا پروری نظر آئے، ان کے اندر نظام کے خلاف نفرت بڑھنے لگتی ہے۔ یہی نفرت بعد میں معاشرتی بغاوت، احتجاجی شدت یا جرائم کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
اگر ایک نوجوان کئی سال تک ملازمت کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھائے، انٹرویوز میں ذلیل ہو، کم تن خواہ پر استحصال کا شکار ہو یا مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جائے، تو وہ خود کو معاشرے سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسی کیفیت میں بعض لوگ جرائم کو ’’مجبوری‘‘ اور ’’نظام سے بدلہ‘‘ سمجھنے لگتے ہیں۔
ماضی میں جرائم زیادہ تر ناخواندہ طبقے سے منسوب کیے جاتے تھے، مگر اب صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ، ڈیجیٹل بلیک میلنگ، منظم گروہ بندی اور انتہا پسند نیٹ ورکس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شمولیت بڑھ رہی ہے۔ کیوں کہ جدید جرائم کے لیے صرف طاقت نہیں، بل کہ ذہانت اور ٹیکنالوجی کی سمجھ بھی درکار ہوتی ہے۔
اگر معاشرے نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مثبت مواقع نہ دیے، تو یہی صلاحیتیں منفی سمت اختیار کرسکتی ہیں۔ ایک مایوس نوجوان جب اپنے علم اور ذہانت کو جائز راستے میں استعمال نہیں کر پاتا، تو بعض اوقات وہ ناجائز راستوں میں اپنی قابلیت استعمال کرنے لگتا ہے۔
یہ خطرہ صرف شہروں تک محدود نہیں، بل کہ چھوٹے قصبوں اور دیہات میں بھی بڑھ رہا ہے، جہاں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کی آسایشیں تو دیکھتے ہیں، مگر اپنے لیے مواقع نہیں پاتے۔ اس تضاد سے احساسِ محرومی اور غصہ مزید بڑھتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کی ذہنی اور فکری راہ نمائی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیمی ادارے صرف امتحانات اور نمبروں تک محدود ہوچکے ہیں۔ والدین معاشی مشکلات میں الجھے ہوئے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کی سوچ کو غیر متوازن بنا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان شدید کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کونسلنگ صرف نفسیاتی مریضوں کے لیے نہیں ہوتی، بل کہ ہر نوجوان کو زندگی کے مختلف مراحل میں راہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں، ہر شخص کا راستہ مختلف ہوتا ہے اور کام یابی صرف سرکاری نوکری کا نام نہیں۔
تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ، شخصیت سازی، کاروباری تربیت، ڈیجیٹل ہنر، جذباتی ذہانت اور ذہنی صحت کے پروگرام لازمی ہونے چاہییں۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ اکیلے نہیں، بل کہ معاشرہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
معاشرے میں ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں، جن کے پاس وسائل، کاروبار، زمینیں، دفاتر اور اثر و رسوخ موجود ہے۔ اگر یہ طبقہ صرف اپنے خاندان تک محدود رہنے کے بہ جائے اردگرد کے نوجوانوں پر توجہ دے، تو بے شمار زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
ہر صنعت کار، تاجر، زمین دار، فیکٹری مالک، اسکول ڈائریکٹر، این جی او یا سیاسی راہ نما کم از کم چند نوجوانوں کو تربیت اور روزگار دے سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر نوجوان کو بڑی تن خواہ دی جائے، لیکن اسے عزت، سیکھنے کا موقع اور عملی تجربہ ضرور ملنا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نوجوان صرف پیسے سے نہیں، بل کہ اعتماد اور توجہ سے بھی بدلتے ہیں۔ اگر ایک نوجوان کو یہ احساس ہو جائے کہ کوئی اس کی صلاحیت پر یقین رکھتا ہے، تو وہ خود کو سنبھال لیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نوجوانوں کی پالیسی اکثر نعروں تک محدود رہتی ہے۔ لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں، مگر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر نہیں رکھتے۔ تعلیمی نظام اور عملی معیشت کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ
فنی و تکنیکی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔
چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضے دیے جائیں۔
نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار پیدا کیا جائے۔
سرکاری اداروں میں شفاف بھرتیاں ہوں۔
کھیل، تحقیق، میڈیا اور ڈیجیٹل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جائے۔
نوجوانوں کو صرف ملازمت کے امیدوار نہیں، بل کہ کاروباری افراد بنانے پر توجہ دی جائے۔
یاد رکھیں، خاندان نوجوان کی پہلی درس گاہ ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر صرف نمبروں اور نوکری کا دباو نہ ڈالیں، بل کہ ان کی ذہنی کیفیت، دل چسپیوں اور صلاحیتوں کو بھی سمجھیں۔ ہر نوجوان ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا، مگر ہر نوجوان کسی نہ کسی میدان میں کام یاب ضرور ہوسکتا ہے، اگر اسے صحیح راہ نمائی ملے۔
اکثر نوجوان صرف اس لیے ذہنی دباو کا شکار ہوتے ہیں کہ ان کا مسلسل دوسروں کے ساتھ موازنہ (Comparison) کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نوجوانوں میں احساسِ کم تری پیدا کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دوست بنیں، ان کی بات سنیں اور انھیں ناکامی کے بعد سہارا دیں۔
اگر نوجوانوں کی بے روزگاری، ذہنی دباو اور فکری انتشار کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تو مستقبل میں معاشرہ کئی سنگین مسائل، جیسے: جرائم میں اضافہ، منشیات کا پھیلاو، انتہا پسندی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، خود کُشیوں میں اضافہ، ریاستی اداروں سے نفرت،تعلیم سے بددلی، سماجی بے چینی اور احتجاجی شدت کا شکار ہوسکتا ہے۔
ایک مایوس نوجوان صرف اپنی زندگی تباہ نہیں کرتا، بل کہ پورے معاشرے کے امن کو متاثر کرتا ہے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، مگر نوجوانوں کا مستقبل ریاست، معاشرے اور صاحبِ حیثیت طبقے کے رویوں سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ پُرامن، ترقی یافتہ اور مستحکم ہو ،تو ہمیں نوجوانوں کو صرف تقریروں میں نہیں، بل کہ عملی طور پر سہارا دینا ہوگا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی کونسلنگ، ذہنی تربیت، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ ہر صاحبِ حیثیت شخص اگر اپنے اردگرد چند نوجوانوں کو سنبھال لے، تو شاید آنے والی نسلیں جرائم، مایوسی اور نفرت کے اندھیروں سے بچ جائیں۔ کیوں کہ جب نوجوانوں کو امید ملتی ہے، تو معاشرے ترقی کرتے ہیں… اور جب نوجوان مایوس ہو جائیں، تو معاشرے ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










