ریاست اور شہریوں کا مستقبل داو پر؟

Blogger Comrade Sajid Aman

ریاست کی بنیاد صرف سرحدوں، فوجوں اور سرکاری عمارتوں پر نہیں ہوتی، بل کہ اس یقین پر ہوتی ہے کہ قانون سب سے بالا ہے… لیکن تاریخ میں ایسے لمحات بار ہا آئے ہیں، جب قانون کی کتاب ایک طرف رہ گئی اور خوف دوسری طرف کھڑا ہوگیا۔ ایسے مواقع پر معاشرے کے سامنے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، اگر کوئی مجرم اتنا طاقت ور ہو جائے کہ اس کے خلاف کوئی گواہی دینے پر تیار نہ ہو، پولیس اسے گرفتار نہ کرسکے، پراسیکیوشن مقدمہ ثابت نہ کرسکے اور عدالتیں بھی مسلسل دباو اور خطرات کا سامنا کریں، تو پھر ریاست کیا کرے…؟ یہ سوال پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی عملی تاریخ کا حصہ ہے۔
کولمبیا میں منشیات کے بادشاہوں نے ایک زمانے میں ایسی طاقت حاصل کرلی تھی کہ جج، پولیس آفیسر، صحافی اور سیاست دان تک ان کے نشانے پر تھے۔ مشہور منشیات فروش "Pablo Escobar” کے دور میں بم دھماکے، قتل اور دھمکیاں روزمرہ کا معمول بن گئے تھے۔ کئی جج قتل کر دیے گئے، گواہ غائب کیے گئے اور ریاست کو اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے… لیکن بالآخر کام یابی اُس وقت ملی، جب اداروں کو مضبوط کیا گیا، کرپٹ سیاسی نمایندے پکڑے گئے، کرپشن پر قابو پایا گیا، سفید کالر حمایتی اور مجرمان کی پشت پناہی کرنے والوں پر ہاتھ ڈالا گیا، مالیاتی نیٹ ورکس توڑے گئے، خصوصی تحقیقاتی ڈھانچے بنائے گئے اور ریاستی طاقت کو قانونی بنیادوں پر منظم کیا گیا۔
پاکستان کی تاریخ بھی ایسے واقعات سے خالی نہیں۔ 1980 اور 90 کی دہائیوں میں کراچی میں جرائم پیشہ گروہوں، بھتا خور نیٹ ورکوں، مسلح تنظیموں اور سیاسی عسکریت کے باعث ریاستی رٹ شدید متاثر ہوئی۔ ایسے علاقے موجود تھے، جہاں پولیس کا داخل ہونا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ گواہ خوف زدہ رہتے تھے اور مقدمات کم زور پڑ جاتے تھے۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں بڑے آپریشن کیے گئے، جن کا مقصد ریاستی اختیار بہ حال کرنا تھا۔
اسی طرح پنجاب میں دریائی اور کچے کے علاقوں کے بعض بدنام ڈاکو گروہوں نے کئی دہائیوں تک خوف کی فضا قائم رکھی۔ اِغوا برائے تاوان، قتل اور مسلح مزاحمت کی وجہ سے اُن کے خلاف گواہی دینا آسان نہ تھا۔ ریاست نے وقتاً فوقتاً پولیس اور نیم فوجی کارروائیوں کے ذریعے اُن نیٹ ورکوں کو کم زور کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان کے لیے شاید سب سے بڑا امتحان ثابت ہوئی۔ جب خود کُش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور منظم دہشت گردی نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو صرف روایتی فوج داری نظام کافی نہیں رہا۔ اسی پس منظر میں خصوصی قوانین، فوجی عدالتوں اور انسدادِ دہشت گردی کے مختلف انتظامات سامنے آئے۔ اُن اقدامات پر قانونی اور سیاسی بحث آج بھی جاری ہے، لیکن اُن کا مقصد ایک ایسے خطرے سے نمٹنا تھا، جسے عام فوج داری ڈھانچا سنبھالنے میں دشواری محسوس کر رہا تھا… لیکن یہاں ایک نازک لکیر موجود ہے، جسے عبور کرنا ریاست کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔
جب بھی کوئی معاشرہ شدید جرائم یا دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے، تو عوام کے ایک حصے میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ عدالتوں، ثبوتوں اور طویل قانونی عمل کو نظر انداز کرکے فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں ’’ماورائے عدالت‘‘ اقدامات کی بحث شروع ہوتی ہے۔ قانونی اعتبار سے پاکستان سمیت تقریباً تمام آئینی ریاستوں میں ماورائے عدالت قتل یا سزا کی کوئی باقاعدہ گنجایش موجود نہیں۔ آئین اور قانون کی روح یہی ہے کہ ہر ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے اور سزا صرف مجاز عدالت ہی دے سکتی ہے۔ اگر ریاست خود ہی الزام لگانے والی، تفتیش کرنے والی، فیصلہ سنانے والی اور سزا نافذ کرنے والی بن جائے، تو قانونی نظام کی فلسفیانہ بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے۔
اس تناظر میں ’’پولیس انکاؤنٹر‘‘ کا موضوع بھی اہم ہے۔ اُصولی طور پر انکاؤنٹر اُس صورتِ حال کو کہا جاتا ہے، جب قانون نافذ کرنے والے اہل کار کسی مطلوب یا مسلح ملزم کو گرفتار کرنے جائیں اور مزاحمت یا فائرنگ کے تبادلے میں جانی نقصان ہو جائے۔ دنیا کے ہر ملک میں ایسی صورتِ حال پیش آسکتی ہے اور قانون پولیس کو اپنی جان اور عوام کے تحفظ کے لیے مناسب طاقت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب یہ شبہ پیدا ہو کہ انکاؤنٹر درحقیقت فائرنگ کا تبادلہ نہیں، بل کہ کسی زیرِ حراست یا بے بس شخص کے قتل کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے۔ ایسے واقعات صرف انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں ہوتے، بل کہ خود ریاست کی قانونی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر عدالت کی جگہ گولی لے لے، تو پھر یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مجرم کون ہے اور فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایسے کئی واقعات پر بحث ہوتی رہی ہے۔ بعض کارروائیوں کو عوامی سطح پر سراہا گیا، کیوں کہ وہ خطرناک مجرموں کے خاتمے کا سبب بنیں، جب کہ بعض معاملات میں عدالتی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس نے سنگین سوالات بھی اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری ریاستیں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ احتساب اور نگرانی کے نظام کو بھی ضروری سمجھتی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ خطرناک مجرموں کو کیسے ختم کیا جائے؟ ریاست کے پاس طاقت، قانون، انٹیلی جنس، مالیاتی نگرانی، خصوصی تفتیش، گواہان کے تحفظ، جیل اصلاحات اور عدالتی نظام کو مضبوط بنانے سمیت بے شمار ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنے ہی اصولوں کو قربان کر دے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ مافیا، ڈاکو، دہشت گرد اور منشیات فروش بالآخر ختم ہو جاتے ہیں، لیکن جب قانون کم زور ہو جائے، تو اس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ ایک طاقت ور ریاست وہ نہیں، جو صرف گولی چلانا جانتی ہو؛ طاقت ور ریاست وہ ہے، جو خوف کے ماحول میں بھی قانون کی بالادستی برقرار رکھ سکے۔
قانون کی سست رفتار اصلاح کی جاسکتی ہے، اور یہ انتہائی ضروری ہے، مافیا اور کرپٹ عناصر کو سیاست کنٹرول کرنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اس طرح منشیات فروشوں کو سزائیں دینے کے لیے موجود قوانین اور سزاؤں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے، عدالتوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے، گواہوں کو تحفظ دیا جاسکتا ہے اور مجرموں کو سزا دلائی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر قانون ہی کو راستے سے ہٹا دیا جائے، تو پھر ریاست اور مجرم کے درمیان فرق دھندلا ہونے لگتا ہے… اور یہی وہ مرحلہ ہے، جس سے ہر مہذب معاشرہ بچنا چاہتا ہے۔ سوات، خیبرپختونخوا اور پاکستان میں یہ وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے، جہاں سیاہ چہرے اور کرپٹ عناصر سفید کپڑوں میں سیاست، تجارت اور صنعت پر قابض ہوچکے ہیں اور اپنی سرپرستی میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ریاست کو اپنے وجود، سیاست کو اپنی ساکھ اور جمہوریت کو اپنا یقین قائم کرنے کے لیے عام کی جگہ کچھ مختلف سوچنا ہوگا، کیوں کہ اب ریاست اور ریاست کے شہریوں کا مستقبل داو پر لگا ہوا ہے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) پابلو اسکوبار (Pablo Escobar):۔ مکمل نام ’’پابلو ایمیلیو اسکوبار گاویریا‘‘، کولمبیا کا مشہور منشیات فروش اور سیاست دان تھا، جس نے میڈیئن کارٹل قائم کیا۔ 1980 کی دہائی میں اس کا کارٹل امریکہ میں کوکین کی ترسیل پر تقریباً اجارہ داری رکھتا تھا۔ اسکوبار کی دولت کا اندازہ 30 ارب ڈالر تک لگایا گیا۔ اسے عوامی سطح پر ’’رابن ہڈ‘‘ سمجھا جاتا تھا، کیوں کہ وہ غریبوں کے لیے مکانات اور فٹ بال میدان بنواتا تھا، لیکن حقیقت میں وہ ہزاروں قتل، بم دھماکوں اور رشوت ستانی کا ذمے دار تھا۔ 1991 میں قید ہوا، مگر پھر فرار ہوگیا۔ آخرِکار 2 دسمبر 1993 کو ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
2) ماورائے عدالت اقدامات (Extrajudicial Actions):۔ ماورائے عدالت اقدامات، ایسے حکومتی یا ریاستی عمل ہیں، جو عدالتی نظام کو نظر انداز کرتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ اُن میں گرفتاری، سزا یا قتل شامل ہو سکتے ہیں، مگر اُن کے پیچھے قانونی کارروائی نہیں ہوتی۔ یہ اقدامات اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور انصاف کے اُصولوں کی پامالی سمجھے جاتے ہیں۔
3) پولیس انکاؤنٹر (Police Encounter):۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے، جس میں پولیس مشتبہ افراد کو مقابلے کے دوران میں ہلاک یا زخمی کرتی ہے۔ یہ عمل اکثر فوری خطرے یا مزاحمت کے جواب میں ہوتا ہے، مگر بعض اوقات اسے ماورائے عدالت اقدام سمجھا جاتا ہے۔ اس پر انسانی حقوق اور انصاف کے حوالے سے شدید بحث ہوتی ہے۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے