پاکستان میں عوام کی بے شمار قربانیوں کے باوجود جمہوریت حقیقی معنوں میں پھل پھول نہ سکی۔ سیاسیات اور عُمرانیات کے ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں جمہوریت اُس وقت تک پروان نہیں چڑھ سکتی، جب تک عوام کے نچلے طبقات کو اقتدار اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نئے صوبے بنیادی طور پر انتظامی آسانی، عوامی نمایندگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ حقیقی جمہوریت تبھی فروغ پاسکتی ہے، جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، لیکن افسوس کہ پاکستان میں موجودہ جمہوری حکومتوں اور ماضی کی مارشل لا حکومتوں میں اکثر صرف چہروں کا فرق دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ہمیشہ ایک سیاسی، انتظامی اور معاشی پس منظر رکھتی رہی ہے۔ نئے صوبوں کے حامی یہ مضبوط دلیل پیش کرتے ہیں کہ بڑا صوبہ عوام سے دور ایک ایسی بیوروکریسی کو جنم دیتا ہے، جو ضلعی مرکز یا بڑے دارالحکومت تک محدود ہو کر فائلوں کی تاخیر، سفارش، رشوت اور غیر ضروری دفتری مراحل میں اضافے کا سبب بنتی ہے، جب کہ چھوٹے انتظامی یونٹ حکم رانوں کو عوام کے قریب لاسکتے ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ جتنا پرانا ہے، اس کے نہ مانے جانے کے حربے بھی اُتنے ہی قدیم ہیں۔ تمام جاگیردار اور اجارہ دار سیاسی گروہ اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ نئے صوبوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے عوام کو طاقت ور بننے کا موقع مل جاتا ہے، اقتدار نچلی سطح تک پہنچ جاتا ہے اور اُن (روایتی سیاست دان) کی گرفت کم زور ہو جاتی ہے۔
جاگیردار اور وڈیرے نئے صوبوں کی اس لیے بھی مخالفت کرتے ہیں کہ اگر نئے صوبے قائم ہوگئے، تو ٹیکس کے ذرائع پیدا کرنے، صوبائی آمدن بڑھانے اور صنعتی ترقی کے لیے نئے اقدامات کیے جائیں گے۔ کارخانے اور صنعتیں لگیں گی، وسائل میں اضافہ ہوگا اور اُن کے غلام ہاری خاندان اُن کے محتاج نہیں رہیں گے۔
صوبوں کا غبار کہیں سے بھی اُڑتے ہی ڈنڈا بردار میدان میں نکل آتے ہیں اور دلائل و ردِ دلائل کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں، رد شدہ سیاست دان اور ’’تھنک ٹینک‘‘ بھی شعلہ بار منجن چھابے میں رکھ کر میدان میں اتر آتے ہیں، جنھیں عام دنوں میں اُن کے گھر والے بھی سننے کو تیار نہیں ہوتے۔
نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح تک منتقلی کے تصور سے تو اتفاق کرتے ہیں، مگر نئے صوبے بنائے بغیر اختیارات کو ضلعی سطح تک منتقل کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک صوبوں کی تشکیل ملک توڑنے کی پہلی آئینی سیڑھی ہے، جب کہ بعض حلقے نئے صوبوں کی تجویز کو ملک کے لیے زہرِ قاتل قرار دیتے ہیں۔ اُن کے خیال میں یونانی المیہ نگار ’’سوفوکلیز‘‘ کے مشہور کردار ’’اڈیپس‘‘ کی طرح صاف نیت اور اچھے کردار رکھنے کے باوجود اس کے نتائج ملک کے ٹوٹنے پر منتج ہوسکتے ہیں۔
روسی صدر میخائل گورباچوف نے جب سوویت یونین میں ’’گلاسنوست‘‘ (شفافیت) اور ’’پیریسترائیکا‘‘ (اصلاحات) کا آغاز کیا، تو دنیا بھر میں اُنھیں سراہا گیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین جیسی عظیم طاقت ٹوٹ گئی۔ اختلاف کرنے والے اہلِ نظر حکم رانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ صوبوں کے طے شدہ نظام کو توڑنے سے میخائل گورباچوف جیسی تباہی رونما ہوسکتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک تکثیری ملک ہے، جہاں مختلف قومیتیں، مذاہب اور لسانی گروہ آباد ہیں اور اتفاق سے یہ ایک دوسرے کو متوازن رکھتے ہیں۔ سندھ میں اُردو بولنے والوں اور سندھی بولنے والوں کے درمیان توازن موجود ہے۔ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون لسانی توازن کا باعث ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ اور پشتون بیلٹ کا توازن موجود ہے، جب کہ پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی آبادی ایک دوسرے کو متوازن رکھتی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ اگر اس قدرتی توازن کو چھیڑا گیا، تو پاکستان کے حصے بخرے ہونے کی راہ ہم وار ہوسکتی ہے۔
جنرل ضیاء الحق نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور طویل غور و خوض کے بعد یہ تجویز سامنے آئی کہ تمام ڈویژنوں کو صوبے کا درجہ دیا جائے، لیکن فوجی حکم ران صوبے بنا سکے اور نہ منتخب غیر فوجی حکم ران۔ صوبوں کے قیام کے لیے قراردادیں منظور ہوتی رہیں، مگر عملی پیش رفت نہ ہوسکی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہی سیاسی عمائدین گھروں کو واپس جا کر صوبوں کے قیام کے حق میں تقاریر بھی کرتے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 239 میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حدود میں کمی بیشی کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ، سے الگ الگ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئینی ترمیم منظور کرنا ہوگی۔ اس کے بعد متعلقہ صوبائی اسمبلی بھی دو تہائی اکثریت سے اس کی توثیق کرے گی، تب کہیں جا کر صدرِ مملکت اس ترمیم پر دست خط کرنے کے مجاز ہوں گے۔
شاید وفاقی حکومت 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں سے یہ اختیارات واپس لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ صوبوں کا جو مجوزہ نقشہ پیش کیا گیا ہے، اُس میں خیبر پختونخوا کا نام و نشان مٹانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے، حال آں کہ یہی پشتونوں کی شناخت ہے۔ دوسری جانب بارہ کروڑ آبادی والے پنجاب کو چار صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جب کہ تقریباً چار کروڑ آبادی والے خیبر پختونخوا کو بھی چار حصوں میں بانٹنے کی تجویز دی گئی ہے، جو پختونخوا اور پشتون شناخت کو مٹانے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔
سندھ کی آبادی نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود اسے دو صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جب کہ بلوچستان جیسے کم آبادی والے صوبے کو بھی دو حصوں میں بانٹنے کی تجویز دی گئی ہے اور وہاں بھی پشتون آبادی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اپنے صوبے کی تقسیم پر کسی بھی صورت آمادہ نہیں ہوں گے۔
وفاقی حکومت کے سوتیلی ماں جیسے رویے کے تناظر میں ’’یوسف زئی نڑی والا جرگہ‘‘، جس نے اپریل کے وسط میں جشنِ پختونخوا منایا تھا، پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرے۔
پاکستان میں حکم ران، آئینی ترامیم کے وقت عوام کو سبز باغ ضرور دکھاتے ہیں، لیکن عملی نفاذ اُن ترامیم کا ہوتا ہے، جو طبقۂ اشرافیہ کے مفاد میں ہوں، جب کہ عوام کے حق میں کی جانے والی ترامیم اکثر محض نمایشی ثابت ہوتی ہیں۔
پرویز مشرف نے ’’مجسٹریسی نظام‘‘ کا خاتمہ کرکے بیوروکریسی کی روایتی حکم رانی کو محدود کیا تھا۔ انگریزوں کا یہ نظام جاگیرداروں کو اس لیے راس آتا تھا کہ ایک ڈپٹی کمشنر کے ذریعے پورے ضلع کو قابو میں رکھنا وڈیروں کے لیے آسان ہوتا تھا۔ اُس وقت کی بیوروکریسی نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، ہڑتالوں کی دھمکیاں دیں اور استعفوں سے بھی ڈرایا، لیکن مشرف نے ڈپٹی کمشنر سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات واپس لے کر عدالتوں اور ضلعی ناظم کو منتقل کر دیے… مگر پھر وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ والی صورتِ حال پیدا ہوگئی؛ ناظم رہا، نہ اختیارات… اور سب کچھ وزیرِ اعلا ہاؤس تک محدود ہوکر رہ گیا۔
نئے صوبوں کی تشکیل اور انتظامی تقسیم سے حکم رانی لازماً بہتر نہیں ہوسکتی، البتہ نقشوں کی تبدیلی ضرور ممکن ہے۔ اس سے کرپشن بھی ختم نہیں ہوگی، کیوں کہ کرپشن کی جڑیں نقشوں میں نہیں، بل کہ نظامِ احتساب، سیاسی سرپرستی اور ادارہ جاتی کم زوریوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) سوفوکلیز (Sophocles):۔ یونان کے عظیم المیہ نگار تھے، جنھوں نے انسانی تقدیر، اخلاقی کش مہ کش اور کردار کی پیچیدگی کو اپنی تحریروں میں زندہ کیا۔ اُن کے مشہور ڈرامے ’’اوڈیپس ریکس‘‘ (Oedipus Rex) اور ’’اینٹیگون‘‘ (Antigone) آج بھی ادب اور فلسفے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
2) میخائل گورباچوف (Mikhail Gorbachev):۔ ایک سوویت سیاست دان تھے، جو 1985 سے 1991 تک کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور 1990 سے 1991 تک سوویت یونین کے صدر رہے۔سوویت نظام میں اصلاحات کے لیے گلاسنوست (اظہارِ رائے کی آزادی اور شفافیت) اور پیریستروئیکا (معاشی و سیاسی ڈھانچے کی تجدید) کی پالیسیوں کو فروغ دیا۔ ان اقدامات نے مشرقی یورپ میں کمیون ازم کے زوال اور آہنی پردے کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ گورباچوف نے امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے اور سرد جنگ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1990 میں نوبیل امن انعام حاصل کیا۔ تاہم، ان کی اصلاحات سوویت یونین کے ٹوٹنے کا باعث بھی بنیں۔ 25 دسمبر 1991 کو صدارت سے استعفا دے دیا۔
3) سوویت یونین (The Union of Soviet Socialist Republics):۔ سوویت یونین (USSR) ایک عظیم سیاسی و معاشی طاقت تھی، جو 1922 سے 1991 تک قائم رہی۔ یہ دنیا کی پہلی مارکسسٹ-کمیونسٹ ریاست تھی، جسے ولادیمیر لینن اور بعد میں جوزف اسٹالن نے مضبوط کیا۔ یہ سرد جنگ (1940 تا 1990) کے دوران میں دنیا کی دو سپر پاؤرز میں سے ایک سمجھی جاتی تھی۔ اس کا خاتمہ معاشی بحران، سیاسی کم زوری اور قوم پرست تحریکوں کے نتیجے میں ہوا۔
4) مجسٹریسی نظام (Magistracy System):۔ یہ برصغیر میں برطانوی دورِ حکومت سے رائج ایک انتظامی و عدالتی ڈھانچا تھا، جس میں ڈپٹی کمشنر اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔ یہ نظامِ پاکستان میں آزادی کے بعد بھی جاری رہا اور کئی دہائیوں تک ضلعی سطح پر انتظامیہ اور عدلیہ کا مرکز رہا۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










