عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تفریحی مقامات تک ہر خاص و عام کی رسائی کو یقینی بنانا کسی بھی فلاحی اور جمہوری ریاست کی اولین اور بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ مہذب دنیا کی اگر بات کی جائے، تو وہاں حکومتوں کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ پارک، کھیل کے میدان اور تفریحی زون تعمیر کریں، تاکہ لوگ روزمرہ کی ذہنی و جسمانی تھکن سے نجات پاسکیں۔ ایسے مقامات تک عام آدمی کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے سڑکوں کا جال بچھایا جاتا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جاتا ہے اور وہاں زندگی کی تمام ضروری سہولیات بلا تعطل فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد معاشرے میں ایک متوازن ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے، جہاں ہر شہری بلا تفریقِ رنگ و نسل صحت مند ماحول میں سانس لے سکے۔
اس کے برعکس ہمارے وطنِ عزیز کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں ترقی کے تمام دعوے اور حکومتی پالیسیاں اکثر مفاد عامہ کے بالکل اُلٹ سمت میں سفر کرتی نظر آتی ہیں۔ یہاں عوامی فلاح کے منصوبے بنانے اور نئے پبلک مقامات تعمیر کرنے کے بہ جائے پہلے سے موجود عوامی اثاثوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے یا لیز پر دینے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جس نے عام آدمی کو اُس کے بنیادی حقوق ہی سے محروم کر دیا ہے۔ ریاست کا کام عوام کو ریلیف دینا اور اُن کے لیے آسانیاں پیدا کرنا تھا، مگر یہاں سرکاری سرپرستی میں ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد چند مخصوص افراد، طاقت ور حلقوں یا نجی کمپنیوں کو نوازنا ہوتا ہے۔
اس کی سب سے روشن اور تلخ مثال ہمارے سامنے سیاحت اور تفریح کی دنیا کے معروف مقام ’’ملم جبہ‘‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ملم جبہ جیسے خوب صورت اور قدرتی تفریحی مقام کو ایک نجی کمپنی کو سونپ کر عام اور غریب عوام کی پہنچ سے دور کر دیا گیا، جس کے بعد وہاں عام آدمی کا داخلہ اور تفریح کرنا اب ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔
ملم جبہ کے بعد اب وادیِ سوات کے قلب اور تحصیل کبل کے دل میں واقع تاریخی کبل گراؤنڈ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔ کبل گراؤنڈ اس علاقے کے نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے تفریح اور کھیل کود کا واحد سہارا ہے۔ اس کھلے میدان میں نسلیں پروان چڑھی ہیں۔ یہاں مقامی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا ہے اور یہ میدان اس علاقے کی سماجی اور ثقافتی زندگی کا مرکز رہا ہے۔ اگر اس عوامی ورثے کو بھی تجارتی مقاصد کے لیے بند کر دیا گیا یا کسی نجی تحویل میں دے دیا گیا، تو یہاں کے مکینوں کے پاس سانس لینے، کھیلنے اور مل بیٹھنے کے لیے ایک انچ جگہ بھی باقی نہیں بچے گی۔
دوسری طرف گروسی گراؤنڈ کا جو حشر کیا گیا ہے، اُس کی داستان تو اتنی تاریک اور مبہم ہے کہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اس کے ساتھ اصل میں کیا کھیل کھیلا گیا؟ اسے کس کے حوالے کیا گیا اور اس کا اختیار کس کے پاس ہے؟ پبلک پراپرٹی کو اس طرح بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے عوام سے چھین لینا دراصل اجتماعی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں کھیل کے میدان اور پارکس شہر کے پھیپڑے ہوتے ہیں، جو مکینوں کو تازہ ہوا اور ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔ جب آپ ان چند پناہ گاہوں کو بھی تجارتی منڈی کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، تو معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور احساسِ محرومی مزید بڑھ جاتا ہے۔
حکومتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اس قسم کے غیر منصفانہ اور عوام دشمن فیصلوں سے اجتناب کریں۔ اگر ریاست عوام کو نئی سہولیات دینے سے قاصر ہے اور نئے پارک، گراؤنڈ یا تفریحی مقامات تعمیر نہیں کرسکتی، تو کم از کم اسے یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ عوام کے پاس پہلے سے موجود چند محدود سہولیات اور تفریحی مقامات بھی ان سے چھین لے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں، کبل گراؤنڈ کو اس کے اصل اور اجتماعی مقصد کے لیے بہ حال رکھا جائے اور تمام سرکاری و عوامی اِملاک کو چند افراد کے منافع کا ذریعہ بننے سے سختی سے روکا جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










