1988 کا سال افغانستان کی جنگ میں ایک فیصلہ کُن موڑ لے کر آیا۔ کئی برسوں کی مسلسل لڑائی، ہزاروں جانوں کے ضیاع، بے پناہ مالی اخراجات اور بین الاقوامی دباو کے بعد وہ وقت آ پہنچا تھا، جب سفارت کاری نے میدانِ جنگ میں اپنی جگہ بنانا شروع کی۔ پسِ پردہ کئی مہینوں سے جاری مذاکرات اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے تھے جہاں پہلی بار سوویت افواج کے انخلا کا عملی خاکہ سامنے آنے لگا۔
14 اپریل 1988 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک تاریخی معاہدے پر دست خط ہوئے، جسے ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں بنیادی فریق افغانستان اور پاکستان تھے، جب کہ امریکہ اور سوویت یونین ضامن کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد افغانستان سے سوویت افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ فراہم کرنا تھا۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ افغان مجاہدین اس معاہدے کے بہ راہِ راست فریق نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے مزاحمتی راہ نماؤں نے اسے اپنی جنگ کا فیصلہ کن اختتام تسلیم نہیں کیا۔ اُن کا مؤقف تھا کہ اصل مسئلہ صرف سوویت افواج کی موجودگی نہیں، بل کہ کابل کی کمیونسٹ حکومت بھی ہے۔ اس لیے اُن کی جد و جہد اُس وقت تک جاری رہے گی، جب تک حکومت تبدیل نہیں ہو جاتی۔
15 مئی 1988 کو سوویت افواج کا مرحلہ وار انخلا شروع ہوا۔ شمال کی طرف جانے والی شاہ راہوں پر ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فوجی قافلوں کی لمبی قطاریں نظر آنے لگیں۔ یہ وہی فوج تھی، جو تقریباً 9 برس قبل اس یقین کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوئی تھی کہ وہ ایک دوست حکومت کو مستحکم کر دے گی، مگر اب وہ آہستہ آہستہ واپس اپنے وطن لوٹ رہی تھی۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی نظریں اس انخلا پر جمی ہوئی تھیں۔ مغربی ممالک اسے سوویت خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دے رہے تھے، جب کہ ماسکو کا مؤقف تھا کہ اُس نے اپنا بین الاقوامی فریضہ انجام دے دیا ہے اور اب افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔
کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کے لیے یہ ایک غیر معمولی آزمایش تھی۔ اُن کے مخالفین کو یقین تھا کہ جیسے ہی آخری سوویت فوجی افغانستان سے نکلے گا، حکومت چند ہفتوں یا چند مہینوں میں گر جائے گی۔ بہت سے مغربی تجزیہ کار بھی یہی پیش گوئی کر رہے تھے… لیکن واقعات نے ابتدا میں اس اندازے کی تصدیق نہیں کی۔
نجیب اللہ نے گذشتہ برسوں میں صرف فوج پر انحصار نہیں کیا تھا، بل کہ ریاستی اداروں کو منظم کرنے، فوجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مختلف قبائلی و مقامی راہ نماؤں سے روابط بڑھانے کی بھی کوشش کی تھی۔ اُن کی قومی مفاہمت کی پالیسی اگرچہ مکمل کام یاب نہیں ہوئی، مگر اُنھوں نے حکومت کو کچھ سیاسی گنجایش ضرور فراہم کی۔
دوسری جانب افغان مجاہدین ایک مشترکہ مقصد رکھنے کے باوجود متحدہ عسکری اور سیاسی قیادت قائم نہ کرسکے تھے۔ مختلف تنظیمیں اپنی اپنی حکمتِ عملی، علاقائی اثر و رسوخ اور سیاسی ترجیحات رکھتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت انخلا کے فوراً بعد وہ کابل پر ایک مربوط اور فیصلہ کن حملہ نہ کرسکے۔
15 فروری 1989 کو آخری سوویت فوجی کمانڈر ’’بورس گروموف‘‘ نے دریائے آمو پر واقع پُل عبور کیا اور یوں تقریباً 9 سالہ سوویت فوجی مداخلت کا باضابطہ خاتمہ ہوگیا۔ یہ منظر سرد جنگ کی علامتی تصاویر میں شامل ہوگیا۔ سوویت فوج تو چلی گئی، مگر افغانستان کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔
سوویت انخلا کے فوراً بعد ’’مجاہدین‘‘ نے حکومت پر دباو بڑھانے کی کوشش کی۔ اُن کی نظر خاص طور پر مشرقی افغانستان کے اہم شہر جلال آباد پر تھی۔ اُن کا خیال تھا کہ اگر جلال آباد پر قبضہ ہوگیا، تو کابل حکومت کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا اور فوج بڑی تعداد میں ہتھ یار ڈال دے گی… مگر جلال آباد کی لڑائی نے سب کو حیران کر دیا۔ حکومتی فوج نے شدید مزاحمت کی۔ فضائیہ، توپ خانے اور زمینی افواج نے شہر کا دفاع کیا، جب کہ ’’مجاہدین‘‘ کو توقع کے مطابق فوری کام یابی نہ ملی۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس لڑائی نے یہ ثابت کر دیا کہ نجیب اللہ کی حکومت صرف سوویت فوجی موجودگی کی مرہونِ منت نہیں تھی، بل کہ اُس کے پاس اُس وقت بھی ایک منظم فوجی ڈھانچا موجود تھا۔
جلال آباد کی ناکامی نے ’’مجاہدین‘‘ کی صفوں میں بھی کئی سوالات پیدا کیے۔ بعض راہ نماؤں کا خیال تھا کہ کابل پر بہ راہِ راست حملے کے بہ جائے سیاسی حکمتِ عملی اختیار کی جائے، جب کہ دوسرے گروہ جنگ جاری رکھنے پر زور دیتے رہے۔ ان اختلافات نے حکومت کو وقتی مہلت فراہم کی۔
دوسری طرف سوویت یونین نے اگرچہ اپنی فوج واپس بلا لی تھی، لیکن اُس نے کابل حکومت کو مالی امداد، ایندھن، اسلحہ اور دیگر وسائل کی فراہمی مکمل طور پر بند نہیں کی۔ یہی امداد نجیب اللہ کی حکومت کے لیے ایک اہم سہارا بنی رہی۔ 1989 اور 1990 کے دوران میں ڈاکٹر نجیب اللہ نے بارہا یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اُن کی حکومت اب صرف ایک انقلابی جماعت کی حکومت نہیں، بل کہ ایک قومی ریاست کی حکومت ہے۔ اُنھوں نے اسلام، افغان قومیت اور قومی اتحاد پر زیادہ زور دینا شروع کیا۔ سرکاری بیانیے میں بھی تبدیلیاں آئیں، لیکن کئی مخالف گروہوں نے مذکورہ اقدامات کو ناکافی قرار دیا۔
اُدھر دنیا بھی بدل رہی تھی۔ مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتیں ایک ایک کرکے گر رہی تھیں، سوویت یونین خود شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار تھا اور سرد جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہی تھی۔ ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات کابل تک پہنچنا ناگزیر تھے۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت ابھی قائم تھی، مگر اس کی بقا کا انحصار بڑی حد تک ایسے عوامل پر تھا جو افغانستان کی سرحدوں سے باہر تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ ماسکو میں آنے والے سیاسی زلزلے جلد ہی کابل کے اقتدار کے ایوانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے والے تھے اور افغانستان ایک بار پھر ایک نئے اور شاید پہلے سے بھی زیادہ خطرناک دوراہے پر کھڑا تھا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










