سوات امن پاسون: مثبت اور منفی پہلو

Blogger Doctor Rafi Ullah, Associate Professor in Quaid e Azam University

نوٹ:۔ زیرِ نظر تحریر دراصل ڈاکٹر رفیع اللہ کی پشتو زبان میں تخلیق ہے، جسے صادق کاکڑ نے اُردو کے قالب میں ڈھالا۔
مَیں نے اب تک جلسے جلوسوں میں شاذ و نادر ہی شرکت کی ہے… اور یہی حال علمی و ادبی نشستوں کا بھی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں، تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے، مَیں نے صرف تین جلسوں میں شرکت کی:
پہلا، جب سوات انتظامیہ نے گراسی گراؤنڈ میں پی ٹی ایم (PTM) کے خلاف جلسہ کیا تھا۔
دوسرا، پی ٹی ایم کا کبل والا جلسہ۔
تیسرا، کل یعنی 7 اگست کا نشاط چوک کا ’’امن پاسون‘‘۔
ظاہر ہے کہ جلسے جلوسوں کا مقصد، زبان اور لہجہ علمی و ادبی پروگراموں کے مقابلے میں اپنا ایک مخصوص مزاج رکھتا ہے، جس پر جذبات، خطابت اور مبالغہ آرائی کا رنگ غالب ہوتا ہے… لیکن اس کے باوجود ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ ہم اسے بغیر سنجیدگی کے یوں ہی چھوڑ دیں۔ اسی وجہ سے میں کل کے امن پاسون کے حوالے سے چند وضاحتیں اور اصلاحی نِکات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
سب سے پہلے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ سوال اٹھانا، مزاحمت کرنا اور انسان کی عظمت و حفاظت کی بات کرنا ہر دور کی ضرورت ہے اور اس کے لیے جد و جہد لازمی ہے۔ افریقہ کے ایک مزاحمتی مفکر کا قول ہے کہ ’’مزاحمت جاری ناانصافیوں اور تباہ کاریوں کو مسترد کرنے کا نام ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ اس عمل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں اور اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے باعثِ اہمیت ہوتے ہیں… لیکن ضروری ہے کہ اس جد و جہد میں شدید احتیاط سے کام لیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام محنت اور کاوشیں بے ثمر رہ جائیں۔ اس تناظر میں کل کے پاسون کے چند حوالوں کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا۔
اول، کچھ مقررین نے پشتونوں کی روایتی غیرت کی یاد دہانی کرائی کہ اگر ایسا ہوا اور ایسا نہ ہوا، تو پشتونوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ اس تمام نظام اور حکومت کو تہہ و بالا (برباد) کر دیں گے۔ اپنے بارے میں اس قسم کی بیان بازی (Rhetoric) تاریخ کی ایک ایسی بے معنی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، جس کی بنیاد کو پشتون ابھی تک شعوری طور پر نہیں سمجھے، جب کہ اُن کے مخاطبین کے کان اب ان باتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ وہ اب اس سے اس حد تک مانوس ہو چکے ہیں کہ انھیں یہ محض ایک کھوکھلی دھمکی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ ولی خان کے دور سے چلی آ رہی زبان اور نعرہ ہے۔ لہٰذا اس ذہنیت اور اُسلوب کو اب کوئی بھی سنجیدہ نہیں لیتا۔
دوم، مختار لالا نے اپنی تقریر میں تاریخ کا تذکرہ کیا۔ اس میں سکندرِ اعظم کا نام آیا کہ پشتونوں نے اُسے بہت جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اسی طرح پشتونوں نے عباسیوں کی مدد سے بنو امیہ کی حکومت کا تختہ الٹایا وغیرہ۔ یہ نہ صرف تاریخی طور پر بالکل بے بنیاد باتیں ہیں (کیوں کہ اس بات کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں کہ سکندر کے وقت پشتون موجود تھے، یا موجودہ علاقوں میں اس طرح بااختیار آباد تھے)، بل کہ اس طرح کی مبالغہ آرائی اور مغالطے عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ وہ کہاوت ہے: ’’زور چوزے کا اور…!‘‘ (یعنی طاقت و صلاحیت سے بڑھ کر دعوا کرنا)۔
سوم، جیسا کہ میں نے مغالطوں اور عارضی جذبات کا ذکر کیا، یہ چیز پشتونوں کے ہر سیاسی اور مزاحمتی اجتماع میں لوگوں کو بہت اپیل کرتی ہے۔ شعر پر شعر! اور یہ جملہ ’’شروعات اس شعر سے کروں گا!‘‘ یا یہ کہ ’’اپنی بات اس شعر پر ختم کرنا چاہوں گا!‘‘ یہی وہ نفسیات ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی تمام تر وابستگی (Commitment) اور یادداشت، سب کچھ صرف شعر کے آغاز اور اختتام تک ہی زندہ رہتا ہے، اس کے بعد کچھ نہیں۔
مطلب یہ کہ لوگوں کے عارضی جذبات کو ہوا تو دی جاتی ہے، لیکن عقل و منطق، حقائق، تجزیے اور حکمتِ عملی و لائحہ عمل پر کوئی سر نہیں کھپاتا۔ شعر میں خون اور یزیدیت کی باتیں ہوں گی اور نیچے لوگ یوں جذباتی ہو رہے ہوں گے، جیسے کسی پاپ سنگر کا کنسرٹ چل رہا ہو۔ اسی لیے مجھے اب شعر و شاعری اتنی کارآمد نظر نہیں آتی۔
’’مرگیہ مہ رازہ، درزمہ‘‘ (اے موت تو مت آ، مَیں خود آ رہا ہوں) یا ’’خیبرہ زیرے می درباندی واورہ‘‘ (اے خیبر! میری خوش خبری سنو!) یہ باتیں آج کے دور میں کتنی بے محل اور غیر متعلق معلوم ہوتی ہیں۔
اگر اس معاملے پر مزید غور کیا جائے، تو ایسی کئی اور خامیاں اور مغالطے سامنے آ جائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے