دہشت گردی، قومی قیادت اور اجتماعی ذمے داری

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو کسی بڑے بحران کا سامنا ہوا، تو قومی قیادت نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ چاہے جنگ کا خطرہ ہو، قدرتی آفات ہوں، معاشی بحران ہو یا دہشت گردی کی سنگین لہر، ایسے مواقع پر قوم کی نظریں ہمیشہ اپنے سیاسی راہ نماؤں پر مرکوز رہی ہیں۔ عوام کی توقع یہی ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے معاملات پر ایک صفحے پر نظر آئیں۔
بدقسمتی سے آج پاکستان ایک بار پھر متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی کشیدگی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان سب کے ساتھ دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال تشویش کا باعث ہے۔ آئے دن ہونے والے حملے، دھماکے اور دہشت گردی کے دیگر واقعات نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کر رہے ہیں، بل کہ عوام میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع ایک عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ اب سوات جیسے علاقے، جنھیں کبھی امن کی بہ حالی کی علامت سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی تشویش ناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، روزگار، کاروبار اور روزمرہ زندگی کے بارے میں مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار رہتا ہے۔ جب معاشرے میں خوف کی فضا قائم ہو جائے، تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے، بل کہ سماجی ہم آہنگی اور قومی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں، بل کہ پورے پاکستان کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اسی لیے اس سے نمٹنے کے لیے بھی قومی سطح پر یک جہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن جب معاملہ قومی سلامتی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا ہو، تو تمام سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر قابلِ عمل لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے۔
افسوس کے ساتھ یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ہماری سیاسی بحث کا زیادہ تر رُخ اقتدار، انتخابی سیاست اور ایک دوسرے پر تنقید کی طرف رہتا ہے، جب کہ دہشت گردی جیسے اہم قومی مسائل مطلوبہ توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ کیا ان کی جان و مال کا تحفظ سیاسی ترجیحات میں شامل ہے؟ کیا قومی قیادت اس مسئلے پر اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جس کی صورتِ حال متقاضی ہے؟
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، تمام سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ، سیکیورٹی ادارے اور متعلقہ ریاستی ادارے مل بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف ایک جامع اور دیرپا حکمتِ عملی ترتیب دیں۔ اس میں صرف عسکری اقدامات ہی نہیں، بل کہ انٹیلی جنس کے نظام کو مزید مؤثر بنانا، سرحدی نگرانی بہتر کرنا، متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنا، نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے بہتر مواقع پیدا کرنا، اور مقامی آبادی کا اعتماد بہ حال کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔
اسی طرح پارلیمنٹ کو بھی اس مسئلے پر کھلے اور سنجیدہ مباحثے کا انعقاد کرنا چاہیے، تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ اُن کے منتخب نمایندے اُن کے مسائل سے غافل نہیں، بل کہ حل کے لیے متحرک ہیں۔ قومی اتحاد صرف بیانات سے نہیں، بل کہ عملی اقدامات سے مضبوط ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں، پولیس، قبائلی عمائدین، صحافیوں، اساتذہ اور عام شہریوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو محض ایک علاقائی مسئلہ نہ سمجھا جائے، بل کہ اسے قومی سلامتی کا بنیادی مسئلہ تصور کیا جائے۔
اس وقت ضرورت قومی اتفاقِ رائے کی ہے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد کو مقدم رکھے، تو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط ہوگا، بل کہ عوام کا ریاستی اداروں اور جمہوری نظام پر اعتماد بھی بہ حال ہوگا۔
پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اس کے تمام صوبے خود کو یک ساں محفوظ، باوقار اور قومی دھارے کا حصہ محسوس کریں۔ جب ملک کے کسی ایک حصے میں خوف اور بے چینی ہو، تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے آج کا تقاضا یہی ہے کہ قومی قیادت ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج کے مقابلے کے لیے متحد ہو، کیوں کہ امن ہی ترقی، استحکام اور خوش حالی کی بنیاد ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے