سانحۂ سیاہ ٹاپ: سوالات، جو جواب مانگتے ہیں

Blogger Javed Khayal

Javed Khayal
تحریر: جاوید خیال (پی ایچ ڈی سکالر ملاکنڈ یونیورسٹی)
سیاہ حیدر ٹاپ میں 15 جولائی 2026 کو پولیس کا ایک آپریشن ہوا، جس میں لوئر دیر پولیس کے تین جوان، کانسٹیبل ریاض خان، ساکن میاں بٹھان ادینزئی، محیب اللہ، ساکن پیٹو درہ، ایلیٹ فورس کمانڈو اور حوال دار بخت بلند، ساکن لقمان بانڈہ خال، شہید ہوئے، جب کہ پولیس کی پانچ گاڑیاں جلائی گئیں۔
لڑم سیاہ حیدر ٹاپ کے پولیس آپریشن پر صوبائی اسمبلی کے ممبر اور وزیرِ اعلا کے مشیر جناب ہمایون خان نے بھی بات کی اور کہا کہ اُسی دن سیاہ ٹاپ کے ہمارے ایک ورکر نے مجھے فون کرکے بتایا کہ یہاں آپریشن ہو رہا ہے، جس میں، مَیں زخمی ہوگیا ہوں۔ ابھی ہسپتال نہیں جاسکتا۔ کیوں کہ آپریشن جاری ہے۔ آپ اس بارے میں کچھ کریں۔
موصوف نے آگے کہا کہ مَیں نے اُسی وقت اوچ پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا، جس سے مجھے پتا چلا کہ اُنھیں بھی آپریشن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ موصوف نے اس آپریشن کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
کسی بھی ملک یا علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے لیے سب سے اہم کام عوام کا اعتماد ہوتا ہے اور مشکوک آپریشنوں سے ان فورسز پہ عوام کا اعتماد باقی نہیں رہتا۔ اس لیے تمام عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس آپریشن کی صاف شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اگر اسبنڑ پولیس اسٹیشن، اوچ پولیس اسٹیشن اور تالاش پولیس اسٹیشن، تینوں کے درمیان سیاہ ٹاپ میں پولیس آپریشن ہو رہا ہو اور ان تینوں پولیس اسٹیشنوں کو پتا ہی نہ ہو، تو لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ یہ آپریشن انوکھا آپریشن ہے۔
دوسری بات یہ کہ کسی بھی آپریشن کے لیے انٹیلی جنس معلومات بہت اہم ہوتی ہیں۔ آپریشن سے تقریباً آدھا گھنٹا پہلے پولیس کی ڈائری ملاحظہ ہو:
’’جنابِ عالی!
بحوالہ ڈائریِ بالا مزید گزارش ہے کہ اہالیانِ منگو طورمنگ درہ کے مقامی افراد، بتعداد 25/30 کسان، پولیس CTD، DSB اور ایلیٹ کی نفری کے ہمراہ، زیرِ نگرانی… DSP، مجموعی نفری 45/46 اہلکار کے ساتھ بمقام چورلکہ سر ڈیلو ڈنڈہ، منگو طورمنگ، حدود تھانہ خال کی جانب روانہ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ قافلہ اپنی منزل سے تقریباً 30 منٹ کے فاصلے پر ہے اور پیش قدمی احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔ تاحال راستے اور متعلقہ علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال مکمل طور پر پُرامن ہے۔
مزید نگرانی جاری ہے۔
رپورٹ عرض ہے۔‘‘
ڈائری سے صاف پتا چلتا ہے کہ حالات نارمل ہیں اور ہماری پولیس حفاظت سے ہے، جب کہ ڈائری سے آدھا گھنٹا بعد، یعنی تین بج کر تیس منٹ پر آپریشن شروع ہوجاتا ہے۔
اب عوامی سطح پر مختلف سوالات گردش کر رہے ہیں۔ جن کے جوابات از حد ضروری ہیں۔
پہلا سوال:۔ آپریشن کے دوران میں پانچوں گاڑیاں ایک ہی جگہ پر کیسے پہنچیں؟
دوسرا سوال:۔ جب آپریشن شروع ہوا، تو ’’بیک اَپ‘‘ میں کون سی فورس تھی؟
تیسرا سوال:۔ شہدا اور زخمیوں کو کتنی دیر میں ریسکیو کیا گیا اور ہسپتال پہنچایا گیا؟
چوتھا سوال:۔ آپریشن کے دوران میں پولیس کے پاس موبائل ایمبولینس موجود تھی یا مرہم پٹی اور فرسٹ ایڈ کے لیے کوئی ڈاکٹر، میل نرس یا دیگر طبی عملہ موجود تھا؟
پانچواں سوال:۔ جس علاقے میں آپریشن ہوا، آیا اُس علاقے کو ابھی تک کلیئر کیا گیا ہے؟ یا وہاں کوئی ہیلی کاپٹر، ڈرون یا ملٹری فورس کے دیگر جوان تعینات کیے گئے ہیں؟
چھٹا سوال:۔ آپریشن سے پہلے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا گیا تھا؟
ساتواں سوال:۔ حملہ آوروں کی ویڈیو میں یہ اہم بات سنی جاسکتی ہے، وہ کہتے سنے جاسکتے ہیں کہ ’’اپنے زخمیوں کو ہسپتال لے چلو۔ ہمارے ساتھ مرہم پٹی نہیں۔ ورنہ ہم ان کی مرہم پٹی کرتے۔‘‘ یہ ایسے جملے ہیں، جن سے عوام میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
ان سوالات کے جوابات قیاس آرائیوں سے نہیں، بل کہ مستند تحقیقات سے سامنے آنے چاہییں۔
مَیں اس آپریشن میں 15 جولائی کے دن چار، ساڑھے چار بجے سے چار پانچ دن تک اس تمام صورتِ حال کو نزدیک سے دیکھ اور پرکھ رہا تھا، جو قابلِ تحریر ہے۔ ضلعی پولیس افسر نے اُسی رات مجھے چکدرہ ہسپتال میں بتایا کہ مَیں آپریشن والی جگہ پر خود گیا ہوں اور ابھی وہاں سے آرہا ہوں۔ متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ اگر موصوف نے اتنی بہادری دکھائی ہے اور خود اُسی وقت آپریشن والی جگہ پر گئے ہیں، تو ضلعی پولیس افسر کے لیے اعلا ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔ موبائل ٹریسنگ سے پتا لگایا جائے کہ اگر موصوف کا یہ بیان درست نہیں، تو ان سے اس بارے میں پوچھا جائے۔
اُن شہدا میں ایک کانسٹیبل ریاض خان بھی ہے، جو تین بج کر تیس منٹ پر زخمی ہوا۔ اُس نے زخمی حالت میں اپنے گھر والوں، اپنی ماں، بیوی اور بھائیوں سے باتیں کیں، پھر امداد کے لیے اپنے پولیس دوستوں سے بھی مدد کی اپیل کی… لیکن ریاض خان شہید کو نو بجے امداد پہنچی اور چکدرہ ہسپتال لایا گیا، جو زیادہ خون بہنے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ چکا تھا۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ کانسٹیبل ریاض خان، جس نے پولیس کے واٹس ایپ گروپ میں امداد کے لیے آہوں اور سسکیوں میں پیغام دیا تھا، وہ کیسے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا؟
اُسی رات چکدرہ ہسپتال میں اسسٹنٹ کمشنر ادینزئی جناب اسفندیار خالد آخری وقت تک موجود تھے، جن کو خراجِِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ہسپتال کے ایم ایس بھی آخری وقت تک موجود تھے، اُن کے کام کو بھی سراہنا چاہیے… لیکن اُس وقت کچھ غلطیاں ایسی تھیں، جن کی نشان دہی ضروری ہے۔ جس طرح اُس وقت شہدا کو غسل دیا جا رہا تھا، جامع مسجد کے نزدیک وضو کی جگہ میں… جہاں پردے کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا، غسل دیا گیا۔
ٹی ایم اے ادینزئی کے پاس شہدا کے لیے تابوت نہیں تھے۔ اللہ بھلا کرے اسسٹنٹ کمشنر اسفندیار خالد کا، جس نے کسی طرح ایک تابوت کا بندوبست کیا۔
لوئر دیر کے سیاہ ٹاپ میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک پولیس آپریشن نہیں، بل کہ ایک ایسا سانحہ ہے، جس نے پورے معاشرے کو غم اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تین پولیس اہل کاروں کی شہادت، متعدد اہل کاروں کے زخمی ہونے اور سرکاری گاڑیوں کے جلنے کی اطلاعات نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے، جن کے واضح اور شفاف جواب ملنا ازحد ضروری ہے۔
پولیس اہل کار ہماری اجتماعی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ جب وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، تو پوری قوم ان کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے… لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ریاست کی ذمے داری ہے کہ ہر آپریشن کی منصوبہ بندی، نگرانی اور عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جاسکے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ آپریشن کے دوران میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی کا پیشہ ورانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر منصوبہ بندی میں کوئی خامی، رابطے میں کمی یا کسی سطح پر غفلت ہوئی ہے، تو اس کا تعین کیا جائے اور ذمے دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دِہ بنایا جائے۔
اسی طرح اگر آپریشن انتہائی مشکل حالات میں کیا گیا اور اہل کاروں نے اپنی ذمے داری پوری کرتے ہوئے قربانی دی، تو اُن کی پیشہ ورانہ خدمات کو بھی مکمل احترام کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ہتھ یاروں سے نہیں، بل کہ مؤثر حکمتِ عملی، جدید تربیت، مضبوط انٹیلی جنس، بروقت امداد اور جواب دہی سے جیتی جاتی ہے۔ ہر واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اپنی کم زوریوں کو دور کریں، تاکہ آیندہ ہمارے جوانوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔
سیاہ ٹاپ کے سانحے کی آزاد، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ شہدا کے اہلِ خانہ انصاف کے مستحق ہیں۔ زخمی اہل کار بہترین علاج اور سہولتوں کے حق دار ہیں… اور عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر کیا ہوا، کیوں ہوا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
اگر ان سوالات کے جواب دیانت داری سے تلاش کیے گئے، تو یہ صرف ایک واقعے کی تحقیقات نہیں ہوں گی… بل کہ ہمارے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد بھی ثابت ہوں گی۔
اگر ہم واقعی علاقے میں امن چاہتے ہیں، تو کچھ باتیں ایسی ہیں، جن پر عمل کرنا ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے۔ ضلع سے باہر جتنی بھی پولیس کی پلٹنیں ہیں، اُنھیں فی الفور اپنے ضلع میں واپس بلایا جائے۔ پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کیا جائے۔ انٹیلی جنس معلومات کو مؤثر بنایا جائے۔ ہر آپریشن سے پہلے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے۔ تمام پولیس گھرانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ نیز مقامی جرگے کے مشران، مذہبی اور مسلکی راہ نماؤں کو بھی امن مشن میں شامل کیا جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے