پاپین خیل میاں گان (چوتھا حصہ)

Blogger Afzal Shah Bacha, Najigram Barikot Swat

شانگلہ، انڈس کوہستان، بحرین اور کالام کا سوات میں انضمام:
محمد رسول میاں المعروف رسول خان مشیر صاحب، تاریخِ پیدایش 1906ء، تاریخِ وفات 31 مئی 1958ء:۔ محمد رسول میاں کے اجداد 1623ء میں سیدو شریف، لوئر سوات میں رہایش پذیر تھے۔ جب ڈوما راجگیری کے خلاف جہاد شروع ہوا، تو ان کے جد، اخوند محمد صدیق، موضع لیلونئی، شانگلہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ بعد ازاں ساتھیوں نے اُنھیں نوے کلے، مینگورہ لاکر دفن کر دیا تھا۔ اخوند محمد صدیق کی شہادت کے بعد میاں صاحب کے خاندان کے کچھ افراد نے تحصیلِ کبل میں ایک گاؤں آباد کیا۔ یہ گاؤں بعد میں اخوند محمد صدیق کے بڑے بیٹے، اخوند محمد قاسم، کے نام پر اخون کلے کہلایا۔ 
1710ء کے آس پاس محمد رسول میاں کے اجداد محمد اعظم بابا اور محمد اسلم بابا، اخون کلے کبل سوات سے منتقل ہو کر لیلونئی، شانگلہ میں مستقل سکونت اختیار کرگئے تھے۔ پختو دور میں میاں صاحب کا خاندان اپنی گھڑئی چلاتا تھا۔ اس گھڑئی کے آخری سربراہ میاں صاحب کے والدِ محترم عبدالجمال میاں تھے۔ ان کے خاندان کو گھڑئی یا جامرہ کے پاپینی میاں گان کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ محمد رسول میاں نے 1906ء میں لیلونئی کے پاپینی میاں گان خاندان کے عبدالجمال میاں (دادا) کے گھر آنکھ کھولی۔ میاں صاحب کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے:
محمد رسول میاں (المعروف رسول خان مشیر صاحب) بن عبدالجمال بن محمد ہشام بن محمد جمال بن نجم الدین بن محمد شفیق بن محمد معصوم بن محمد اعظم ولد اخوند محمد صدیق ولد اخوند محمد شریف بن دریخان المعروف حجر ریحان بن شادی خان المعروف شادالدین ننگرہاری۔
1917ء میں سوات کے بادشاہ سید عبدالجبار شاہ پر سازش کے تحت قادیانی ہونے کا فتوا لگتا ہے، جس کے نتیجے میں سید عبدالجبار شاہ استعفا دیتے ہیں۔ (آزاد تاریخ کے مطابق اس سازش میں اخوند عبدالغفور کے نواسے ملوث تھے۔) پھر یہ لوگ سنڈاکی بابا کا کندھا استعمال کرتے ہوئے اخوند عبدالغفور عرف سیدو بابا کے نواسے، میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب، کو ریاستِ سوات کی مسندِ اقتدار پر بٹھاتے ہیں۔
اُس وقت ریاستِ سوات کی عمل داری محدود تھی۔ 1926ء میں جب لیلونئی اور مضافات کو ریاستِ سوات کی عمل داری میں لایا جا رہا تھا، تو محمد رسول میاں اُس وقت نوجوان تھے۔ چوں کہ انھوں نے قبیلے کے سربراہ کے گھر میں آنکھ کھولی تھی، اس لیے ان کی سیاسی سوچ نسبتاً پختہ تھی۔ انھوں نے اپنے والد، عبدالجمال دادا، کو ریاست کی عمل داری تسلیم کرنے پر آمادہ کرنا چاہا، لیکن والد صاحب انکاری تھے۔ چوں کہ عبدالجمال دادا اور اُن کا قبیلہ، پاپین خیل، سوات کے اُن چند قبائل میں سے تھا جو (گریٹر سوات) کا نظریہ رکھتے تھے۔
عبدالجمال دادا کے سامنے باچا صاحب کے دادا، اخوند عبدالغفور المعروف سیدو بابا، کا جنگِ امبیلہ میں کردار موجود تھا، جس میں انھوں نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کرکے جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں تبدیل کیا تھا۔ دوسری طرف اُن کے نواسے، عبدالودود باچا صاحب، بھی انگریز سرکار کے اشاروں پر چلتے تھے اور انھی انگریزوں کی بیساکھی پر حکومت کرتے تھے۔ عبدالجمال دادا اور اُن کے قبیلے کا خواب (گریٹر سوات) تھا۔ گریٹر سوات سے مراد پرانا سوات، یعنی ریاستِ پکھلی اور ریاستِ گبر۔ ایسے حالات میں گریٹر سوات کا خواب کہاں پورا ہونے والا تھا۔
چوں کہ مشیر صاحب کے والد بوڑھے ہوگئے تھے، اس لیے مشیر صاحب نے اُنھیں مستقبل کی تسلی دے کر راضی کرلیا، اور یوں اُن کا علاقہ ریاستِ سوات میں ضم ہوا۔
سوات میں قبیلوی و گروہی (ڈلہ) کا دور تھا۔ محمد رسول میاں کا خاندان عزی خیل والے (ڈلہ) سے منسلک تھا اور اس کی سربراہی بھی انھی کے ہاتھ میں تھی۔ انضمام کے بعد عبدالجمال دادا، یعنی 1926ء تا 1932ء، اپنے قبیلے، ڈلہ اور علاقے کی سرکردگی کرتے رہے۔
محمد رسول میاں 1929ء میں اپنے دادا ہشام میاں کے ساتھ حج پر چلے گئے۔ فریضۂ حج سے واپسی پر 1932ء میں اُن کو ڈلہ کی مشاورت سے حاکم پٹن، کوہستان مقرر کیا گیا۔ اُن دنوں کوہستان کے لوگ سرکش تھے۔ چوں کہ محمد رسول میاں کا قبیلہ مذہبی تھا اور علاقے میں اُن کے اجداد کی قربانیوں کی ایک تاریخ بھی موجود تھی، اس لیے جلد ہی کوہستانی لوگ اُن کی سرکردگی میں ریاست کے مطیع ہوگئے۔ وہ پٹن، کوہستان میں دو سال تک حاکم رہے۔
1934ء میں اُن کو خوازہ خیلہ کا حاکم مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد وہ مدین میں حاکم مقرر ہوئے اور 1942ء میں اپر سوات کے مشیر مقرر ہوئے۔
1946ء میں محمد رسول میاں نے ریاستِ سوات میں بحرین اور کالام کے علاقے شامل کر دیے۔ چوں کہ کالام اور بحرین کے َملَکان سرکش تھے، اس لیے مشیر صاحب نے بحرین کے شمشی ملک کے ساتھ اپنے بیٹے، سرن زیب خان (مدرسے دادا)، کا رشتہ کیا۔ یہ رشتہ اُنھوں نے امن و استحکام کی خاطر، یعنی ایک سفارتی حکمتِ عملی کے تحت قائم کیا تھا، جو آج تک قائم ہے۔
 1948ء میں محمد رسول میاں نے ریاستِ سوات کی طرف سے جہادِ کشمیر میں حصہ لیا۔ اسی جہاد میں راقم کے والد صاحب، اُن کے چچا زاد عبدالحنان حوالدار صاحب، غلام محمد اور خاندان کے دیگر افراد بھی شامل تھے۔ چوں کہ مانسہرہ کے سواتی بھی ہمارے ’’تربور‘‘ تھے، اس لیے انھوں نے بھی بڑھ چڑھ کر جہادِ کشمیر میں مشیر صاحب کا ساتھ دیا تھا اور باغ تک کے علاقے فتح کیے تھے۔
1949ء میں محمد رسول میاں اور باچا صاحب کے درمیان عبدالحق جہانزیب (والی صاحب) کی تاج پوشی پر اختلافات پیدا ہوئے۔ غالباً 1954ء تک آپ بہ دستور ریاستِ سوات کے مشیر رہے، پھر اپنی مرضی سے سبک دوش ہوگئے۔ اُن کے بعد اُن کے بیٹے، سرن زیب خان (مدرسے دادا)، اُن کے سیاسی جانشین بنے۔ سرن زیب خان کو والی صاحب نے سیدو کے مظاہروں کی پاداش میں اپنے گھر میں قید کیا تھا۔ مدرسے دادا، والی صاحب کی قید سے فرار ہو کر کراچی جا پہنچے۔ سرن زیب دادا نے ’’سوات لیبریشن فرنٹ‘‘ کے نام سے تحریک چلاائی اور ادغامِ سوات تک چین سے نہ رہے۔
والی صاحب نے مدرسے دادا کو ریاست سوات میں اعلا عہدہ دینے کی پیش کش کی تھی، جسے سرن زیب خان (مدرسے دادا) نے ٹکرایا تھا۔ اسی طرح مذکورہ تحریک میں شامل دیگر افراد کو بھی پیش کش ہوئی تھی۔ ان میں سے بعض نے پیش کش قبول کرکے ریاست میں عہدے لے کر تحریک سے دست بردار ہوئے تھے۔
1962ء میں راقم کے والد صاحب نے والی صاحب کو ایک خط لکھا تھا کہ مَیں اور میاں گل جان، انگلینڈ جانا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اجازت دی جائے۔ والی صاحب نے دونوں کو جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ دونوں کراچی گئے اور وہاں سرن زیب (مدرسے دادا) سے ملے اور باقاعدہ طور پر تحریک میں حصہ لیا۔
1965ء میں جب پاکستان اور ہندستان کی جنگ چھڑ گئی، تو اُس وقت سوات کے والی، میاں گل عبدالحق جہانزیب تھے۔اُنھوں مذکورہ جنگ میں سوات سے دستہ بھیجا۔ والی صاحب نے فوج اکھٹی کرلی اور اعلان ہوا کہ دستے کی کمانڈ کون کرے گا؟ تو گلی گرام کے جان ملک (جان دا) سامنے آئے اور کہنے لگے: ’’سر، مَیں!‘‘
والی نے اُن سے پوچھا کہ بیٹا! آپ کون ہیں اور آپ کا تعلق کس گاؤں سے ہے؟ جان دا نے اُنھیں اپنی تعارف کروائی اور یوں والی صاحب نے جان دا کے کمانڈ میں جنگ کے لیے سوات سے دستہ روانہ کیا۔ اُس جنگ میں نجیگرام کے بہت سارے پاپین خیل شریک ہوئے۔ جان دا سوات کے ادغام کے بعد ایف سی کمانڈنٹ ریٹائر ہوئے۔
راقم کے والد صاحب 1965ء میں سوات واپس آئے اور یہاں باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا۔
اسی طرح سرن زیب خان (مدرسے دادا) کا بھی زمانۂ طالب علمی سے اجمل خٹک اور عبدالولی خان کے ساتھ تعلق تھا۔ اُن کا جھکاو ’’نیشنل ازم‘‘ کی طرف تھا۔ وہ بڑھاپے تک عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے۔ بعد میں نیشنل پارٹی سے اختلافات کی بنا پر اُنھوں نے جماعتِ اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ تاریخ سوات کے مصنف بھی تھے۔اُنھوں نے کراچی تحریک کے وقت کچھ تحاریر سپردِ قلم کی تھیں… لیکن اُن کی اولاد مذکورہ تحاریر اس لیے چھاپنے سے گریزاں ہے کہ اُنھوں نے بعض تاریخی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس وجہ سے اُن کی اولاد کسی کی ناراضی مولنا نہیں چاہتی۔
اسی طرح راقم کے والد صاحب اور اُن کے دیگر ساتھیوں، شموزئی کے شکور خان اور بریکوٹ کے شریفے ماما نے ذوالفقار علی بھٹو کو 1967ء میں بری کوٹ کے جلسے کے لیے مدعو کیا تھا۔ بھٹو صاحب بری کوٹ کے جلسے کے بعد ہمارے گاؤں نجیگرام آئے تھے اور وہاں ابا صاحب مسجد میں نجیگرام کے پاپینی میاں گان سے مخاطب ہوئے تھے۔ نجیگرام سے خطاب کے بعد جب وہ مینگورہ کے جلسے کے لیے پہنچے، تو اہلِ مینگورہ نے والی صاحب کے ڈر کی وجہ سے اُنھیں جگہ نہیں دی۔ اُس وقت بھٹو صاحب نے مینگورہ خوڑ میں ایک پتھر پر چڑھ کر اسے سٹیج بنایا اور تقریر کی۔ اُس وقت چوں کہ سوات میں سیاست پر پابندی تھی، اس لیے پابندی کے باوجود پاپینی میاں گان کے گھرانوں، نجیگرام اور لیلونئی، سے سیاست کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے