ثور انقلاب کی تاریخ (ساتویں قسط)

Blogger Comrade Sajid Aman

1985 تک افغانستان کی جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی، جہاں صرف میدانِ جنگ ہی نہیں، بل کہ ماسکو کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا تھا کہ آخر اس جنگ کا اختتام کہاں ہوگا؟ تقریباً چھے برس گزر چکے تھے، ہزاروں سوویت فوجی ہلاک یا زخمی ہوچکے تھے، اربوں روبل (روسی کرنسی) خرچ ہو رہے تھے، مگر مزاحمت ختم ہو رہی تھی اور نہ کابل کی حکومت اپنے قدموں پر کھڑی ہی ہو پا رہی تھی۔ سوویت قیادت کو پہلی بار احساس ہونے لگا کہ افغانستان میں فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی مسئلے کا حل شاید ممکن نہیں۔
1985 میں میخائل گورباچوف، سوویت یونین کے سربراہ بنے۔ وہ اپنے پیش رو راہ نماؤں سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔ اُن کی اصلاحاتی پالیسیوں، جنھیں بعد میں ’’گلاسنوست‘‘ (کھلا پن) اور ’’پیریستروئیکا‘‘ (اصلاحات) کے نام سے جانا گیا، کا مقصد صرف سوویت معیشت کو بہتر بنانا نہیں تھا، بل کہ طویل اور مہنگے بین الاقوامی تنازعات سے نکلنے کی راہ بھی تلاش کرنا تھا۔
گورباچوف نے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد افغانستان کی جنگ کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ مختلف تاریخی ریکارڈوں کے مطابق انھوں نے اسے ایک ایسا مسئلہ قرار دیا، جس کا حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں، بل کہ سیاسی راستے میں تلاش کرنا ہوگا۔ اُن کے نزدیک افغانستان کی جنگ سوویت معیشت، فوج اور عالمی ساکھ پر مسلسل بوجھ بنتی جا رہی تھی۔
اسی دوران میں کابل میں بھی تبدیلی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ ببرک کارمل کئی برس اقتدار میں رہنے کے باوجود نہ تو مزاحمت کو کم زور کرسکے تھے اور نہ اپنی حکومت کو عوامی سطح پر وہ قبولیت ہی دلا سکے، جس کی سوویت قیادت کو توقع تھی۔ اُن کی صحت بھی متاثر ہونے لگی تھی، جب کہ پارٹی کے اندر بھی اُن کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے تھے۔ان حالات میں سوویت قیادت نے ایک نئے چہرے کو آگے لانے کا فیصلہ کیا۔ انتخاب ڈاکٹر نجیب اللہ پر ہوا، جو پیشے کے اعتبار سے معالج تھے، مگر عملی سیاست میں وہ ایک مضبوط منتظم کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ اُنھوں نے کابل یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور نوجوانی ہی میں ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘‘ کے پرچم دھڑے سے وابستہ ہوگئے تھے۔
ثور انقلاب کے بعد نجیب اللہ کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ (KHAD) کی سربراہی سونپی گئی۔ اس ادارے نے حکومت کے مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ناقدین نے اس پر سخت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے، جب کہ حکومت کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ ’’خاد‘‘ نے ریاست کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کام کیا۔ اسی لیے نجیب اللہ کی شخصیت آج بھی افغان تاریخ کے متنازع، مگر بااثر کرداروں میں شمار ہوتی ہے۔
1986 میں ببرک کارمل کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور ڈاکٹر نجیب اللہ افغانستان کے صدر بن گئے۔ اقتدار سنبھالتے ہی اُنھوں نے محسوس کیا کہ صرف فوجی کارروائیوں سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔ اُنھوں نے نسبتاً مختلف راستہ اختیار کیا، جسے بعد میں ’’قومی مفاہمت‘‘ (National Reconciliation) کی پالیسی کہا گیا۔ مذکورہ پالیسی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ حکومت صرف عسکری طاقت پر انحصار نہ کرے، بل کہ اُن افغان گروہوں سے بھی مذاکرات کرے، جو ہتھ یار ڈال کر سیاسی عمل میں شامل ہونا چاہتے ہوں۔ نجیب اللہ نے اعلان کیا کہ افغانستان کے تمام شہری، خواہ وہ حکومت کے مخالف ہی کیوں نہ رہے ہوں، اگر تشدد ترک کر دیں، تو اُنھیں قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔
اسی مقصد کے تحت بعض مذہبی شخصیات، قبائلی عمائدین اور مقامی راہ نماؤں سے رابطے کیے گئے۔ حکومت نے اپنے سرکاری بیانیے میں بھی تبدیلی لانا شروع کی۔ پہلے جو زبان سخت انقلابی اور خالص مارکسی اصطلاحات پر مشتمل تھی، اُس میں اب افغان قومیت، اسلام، قومی اتحاد اور روایتی اقدار کا ذکر زیادہ نمایاں ہونے لگا۔ آئین اور سرکاری تقاریر میں بھی ایسے الفاظ شامل کیے گئے، جن سے عوامی حساسیت کو مدنظر رکھنے کی کوشش جھلکتی تھی۔ تاہم یہ تبدیلیاں ایک مشکل سوال سے دوچار تھیں۔ حکومت قومی مفاہمت کی بات کر رہی تھی، مگر ملک میں اب بھی ہزاروں سوویت فوجی موجود تھے۔ بہت سے مجاہدین راہ نماؤں کا مؤقف تھا کہ جب تک غیر ملکی افواج افغانستان سے نہیں جاتیں، مذاکرات بے معنی ہیں۔ اسی لیے نجیب اللہ کی اپیل کو محدود کام یابی حاصل ہوئی۔
اُدھر جنگ کے میدان میں بھی ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ افغان مجاہدین کو جدید اسلحے کی فراہمی میں اضافہ ہونے لگا۔ خاص طور پر فضائی طاقت کے مقابلے میں اُن کی صلاحیت بڑھنے سے سوویت فضائیہ کو پہلے جیسی برتری حاصل نہ رہی۔ اس کے نتیجے میں سوویت فوجی کارروائیوں کی موثریت متاثر ہوئی اور جنگ مزید مہنگی اور پیچیدہ ہوتی گئی۔
گورباچوف کی حکومت نے پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی تیز کر دیں۔ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں افغانستان، پاکستان، سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان مختلف سطحوں پر مذاکرات شروع ہوئے۔ اگرچہ اُن مذاکرات میں بار بار رکاوٹیں آئیں، لیکن اب پہلی مرتبہ سنجیدگی سے اس سوال پر غور ہو رہا تھا کہ سوویت افواج کا انخلا کس طریقے سے ممکن بنایا جائے؟
دوسری طرف ڈاکٹر نجیب اللہ اپنی جماعت کے اندر بھی ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے، مگر وہ دونوں دھڑوں کو ایک مشترکہ ریاستی ڈھانچے میں ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ اُنھیں معلوم تھا کہ اگر پارٹی دوبارہ اندرونی لڑائی کا شکار ہوئی، تو حکومت کے لیے مزاحمت کا مقابلہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
1987 تک افغانستان کی فضا بدلنے لگی تھی۔ پہلی بار یہ احساس پیدا ہوا کہ شاید سوویت یونین ہمیشہ کے لیے افغانستان میں نہیں رہے گا… لیکن ایک بڑا سوال اب بھی اپنی جگہ موجود تھا کہ اگر سوویت فوجیں واپس چلی گئیں، تو کیا کابل کی حکومت اپنے بل بوتے پر قائم رہ سکے گی، یا پھر پورا نظام چند ہی مہینوں میں بکھر جائے گا؟ یہ سوال صرف کابل یا ماسکو کا نہیں تھا، بل کہ واشنگٹن، اسلام آباد، تہران اور دنیا کے دوسرے دارالحکومت بھی اسی کا جواب تلاش کر رہے تھے۔
القصہ، افغانستان ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا تھا، جہاں ہر فیصلہ آنے والے کئی برسوں کی تاریخ لکھنے والا تھا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے