7 اگست 2026ء کو کبل پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ پر ہونے والے دھماکے میں 7 پولیس اہل کاروں سمیت 10 عام شہری شہید، جب کہ دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکا اُس وقت ہوا جب کبل چوک میں امن کے لیے مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔
قارئین، پاکستان میں دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری۔ معلوم نہیں کہ ہم کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
دہشت گردی دنیا کے لیے کسی ناسور سے کم نہیں، جو تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے… اور پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ دہشت گردی کسی بھی معاشرے اور ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے؛ قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی بھی رُک جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی عمارت کی پہلی اینٹ اُس وقت رکھی گئی تھی، جب پاکستان کے حکم رانوں، مقتدرہ حلقوں اور پالیسی سازوں نے روس کی جاسوسی کے لیے امریکہ کو پشاور کا ہوائی مستقر استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی… اور امریکہ کی خوش نودی کے لیے 1979ء میں اس بنیاد پر پوری عمارت تعمیر کی گئی تھی۔
پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے دہشت گردوں کے سرپرستِ اعلا ’’امریکہ‘‘ کے حوالے کیے، جہاں ’’جہاد‘‘ کے نام پر سادہ لوح عوام کو تربیت دی جاتی تھی۔ ہم کئی دہائیوں تک امریکہ کی پراکسی جنگ لڑتے رہے۔ ملک عزیز سے مسلح افراد افغانستان میں داخل ہوکر وہاں دہشت گردانہ کارروائیاں کیا کرتے تھے اور واپس پاکستان آ جایا کرتے تھے۔ نتیجے میں روس، افغانستان سے نکلنے اور باقاعدہ پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔
روس کے جانے کے بعد بھی مذکورہ سلسلہ نہ تھما، تا آں کہ افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوگیا۔ امریکہ میں نائن الیون کے واقعے کے بعد پاکستانی پالیسی سازوں نے افغانستان کے خلاف امریکہ کو بھرپور مدد فراہم کی، اور پاکستان کی حمایت سے امریکہ افغانستان پر قبضہ کرنے میں کام یاب ہوا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان درپردہ افغان طالبان کی مدد کرتا رہا، اور اسی وجہ سے امریکہ کو افغانستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو اب بھی امریکہ کے سینے میں خار کی طرح چھبا پڑا ہے۔ پاکستان نے اپنی سرزمین، افغانستان کے خلاف استعمال کی، جس کی شکایت افغان حکومت بار بار کرتی رہی، لیکن پاکستان کے پالیسی سازوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ سو بدلے کے طور پر آج افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
قارئین! دہشت گردی کی ہر واردات پر شور مچتا ہے، مذمتیں ہوتی ہیں، حکومت اور نام نہاد حزبِ اختلاف کے سیاست دان مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں اور سرکاری دانش ور نت نئی تاویلیں پیش کرتے ہیں، لیکن وہی ڈھاک کے تین پات والی بات ہے؛ پَر نالا وہی گرتا دکھائی دیتا ہے، جہاں پہلے گرا کرتا تھا۔ اب تو یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ حکم ران، سیاست اور ریاست میں ہونے والی دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہیں۔ فوجی آپریشنوں کا ڈنکا بجایا جا رہا ہے اور ’’اسٹریٹیجک ڈیپتھ‘‘ کی پالیسی بھی جاری و ساری ہے۔ یہ کیا تضاد ہے… آپریشن کہاں کہاں کیا جائے گا…؟ کیوں کہ پورے ملک میں دہشت گردوں کی درجنوں نہیں، بل کہ ہزاروں خفیہ آماج گاہیں موجود ہیں اور پیسا بے حساب ہو، تو وہ مہنگے سے مہنگا اسلحہ، بڑی سے بڑی گاڑیاں اور مکانات بہ آسانی خرید سکتے ہیں۔
جہاں سماجی رتبے سے لے کر انصاف، سیاست اور ریاستی طاقت تک سب کچھ بکاو مال ہو، وہاں پیسے سے کیا نہیں خریدا جاسکتا؟ جب تک دہشت گردی کے ناسور کو خون فراہم کرنے والے سرمائے کی سپلائی لائن نہیں کاٹی جاتی، دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے دہشت گردی کی اس بیماری کو ایک انقلابی جراح کی ضرورت ہے… لیکن ایسا لگ نہیں رہا۔ کیوں کہ ملک پر فارم 47 کے حکم ران مسلط ہیں، جنھیں تجربہ ہے اور نہ وہ اپنے مفادات سے آگے سوچتے ہی ہیں۔
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ کسی نے گھر میں نٹ ڈالنے کے لیے الیکٹریشن کو بلایا ہو، دیواروں کو پلستر کرنے کے لیے پلمبر کو لگایا ہو اور گھر کی سفیدی کے لیے حلوائی کو کام پر لگایا ہو؟ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ مذکورہ کاموں کے لیے اپنے متعلقہ ماہرین کو لگایا جاتا ہے… لیکن افسوس کہ ہمارے ملک کے ساتھ وہ کچھ ہو رہا ہے، جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ یہاں بیش تر سرکاری عہدے پر ماہر سرے سے موجود ہی نہیں۔ حکومتی کارندے آئے دن نئی نئی تاویلیں پیش کرتے نہیں تھکتے۔
شدت پسندی اور دہشت گردی کے محرکات جو ہمارے اکابرین اور اُن کے حواری سوچتے ہیں، اور جنھیں وہ اپنی زبان و قلم، تبصروں، فیچرز وغیرہ کے ڈھانچے میں ڈالتے ہیں، وہ نہیں، بل کہ اس کے محرکات کچھ اور ہیں… جنھیں مذکورہ صاحبان بیان ہی نہیں کرتے۔ دہشت گردی کی آب یاری میں ہمارے حکم ران، طبقۂ اشرافیہ، مقتدرہ حلقے، بعض ریاستی ادارے اور پالیسی ساز برابر کے شریک ہیں، اور یہ سراسر اُن کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اپنے وقت کی جہادی تنظیمیں، آج کی ’’ٹی ٹی پی‘‘ اور ’’بی ایل اے‘‘ نام کی کوئی تنظیمی اکائیاں موجود نہیں تھیں، مگر امریکی سام راج اور پاکستانی حکم رانوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنے اپنے مقاصد کے تحت انھیں پیدا کیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










