امپیریل کالج لندن، ہمارے لیے آئینہ

Blogger Hazir Gul

آج کل لندن میں امپیریل کالج کے پڑوس میں رہنے کا اتفاق ہو رہا ہے۔ روزانہ اس کی تاریخی عمارتوں، مصروف راہ داریوں، آتے جاتے طلبہ اور علمی سرگرمیوں سے بھرپور ماحول کو دیکھتا ہوں۔ چند روز پہلے کالج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، تو خیال آیا کہ بعض ادارے محض عمارتوں، کلاس روموں اور امتحانات کا مجموعہ نہیں ہوتے؛ وہ اپنے اندر ایک پوری فکری روایت، تحقیقی مزاج اور مستقبل کا تصور لیے ہوتے ہیں۔
امپیریل کالج لندن (Imperial College London) بھی ایسا ہی ایک ادارہ ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے پاکستان کی جامعات کا خیال آنا فطری ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستانی طلبہ ذہانت میں کسی سے کم ہیں یا ہمارے اساتذہ صلاحیت نہیں رکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں نے دنیا بھر میں اپنی قابلیت منوائی ہے اور ہمارے کئی اساتذہ محدود وسائل کے باوجود قابلِ قدر تحقیق کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے انھیں وہ ماحول، سہولتیں اور ادارہ جاتی تسلسل کیوں فراہم نہیں کر پاتے، جو دنیا کی بہترین جامعات کی پہچان ہے؟
لندن کے جنوبی کینسنگٹن میں واقع امپیریل کالج کی تاریخ تقریباً دو صدیوں پر محیط ہے۔ اس کی جڑیں 19ویں صدی کے اُن اداروں میں پیوست ہیں، جنھوں نے برطانیہ میں جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کی بنیاد رکھی۔ 1851ء میں رائل اسکول آف مائنز قائم ہوا، 1881ء میں رائل کالج آف سائنس وجود میں آیا اور 1884ء میں سٹی اینڈ گلڈز کالج قائم کیا گیا۔ یہ ادارے جنوبی کینسنگٹن میں سائنس، صنعت اور فنون کے لیے بنائے جانے والے وسیع تعلیمی مرکز کا حصہ تھے۔ اس منصوبے میں شہزادہ البرٹ اور سر ہنری کول جیسے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔ 1851ء کی عظیم نمایش سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عجائب گھروں، تجربہ گاہوں اور تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے استعمال کیا گیا۔ یوں لندن کے اس علاقے میں ایک ایسا علمی ماحول تشکیل پایا، جہاں سائنس محض کتابوں میں نہیں رہی، بل کہ صنعت، معاشرت اور انسانی ترقی سے جُڑ گئی۔
جولائی 1907ء کو رائل اسکول آف مائنز، رائل کالج آف سائنس اور سٹی اینڈ گلڈز کالج کو یک جا کرکے امپیریل کالج کا چارٹر منظور کیا گیا۔ اس کے بعد ادارے نے طب، حیاتیاتی علوم، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، کاروباری انتظام، توانائی، مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں نمایاں ترقی کی۔
2007ء میں امپیریل کالج، یونیورسٹی آف لندن سے الگ ہوکر ایک آزاد یونیورسٹی بن گیا، جس کے بعد اسے اپنی تعلیمی اور تحقیقی ترجیحات طے کرنے میں مزید خود مختاری حاصل ہوئی۔
امپیریل کالج کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تعلیم کو تحقیق اور عملی زندگی سے الگ نہیں سمجھا جاتا۔ انجینئرنگ کا طالب علم صنعتی مسائل سے واقف ہوتا ہے، طب کا طالب علم جدید تحقیق کے قریب رہتا ہے اور کمپیوٹر سائنس کا طالب علم مصنوعی ذہانت، اعداد و شمار اور نئی ٹیکنالوجی کے عملی استعمال پر کام کرتا ہے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین مل کر صحت، توانائی، ماحول، ٹرانسپورٹ اور صنعت جیسے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔
پاکستان کی جامعات میں بھی تحقیق کے روشن جزیرے موجود ہیں، مگر مجموعی صورتِ حال اتنی حوصلہ افزا نہیں۔ کئی اداروں میں تجربہ گاہیں موجود ہیں، لیکن جدید آلات، اُن کی دیکھ بھال، تربیت یافتہ تکنیکی عملے اور مسلسل تحقیقی فنڈنگ کا فقدان رہتا ہے۔ بعض اوقات عمارت اور آلات تو فراہم کر دیے جاتے ہیں، مگر انھیں فعال رکھنے کا انتظام نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ عملی تجربے کے بہ جائے کتابی معلومات اور امتحانی تیاری تک محدود ہو جاتے ہیں۔ یہی فرق صنعت اور جامعہ کے تعلق میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
امپیریل کالج میں تحقیق کو صنعت، کاروبار اور معاشرتی ضرورت سے جوڑنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ طالب علم کسی حقیقی صنعتی مسئلے پر کام کرسکتا ہے، کسی کمپنی کے ساتھ تحقیقی منصوبہ بناسکتا ہے یا اپنے خیال کو کاروباری منصوبے میں تبدیل کرسکتا ہے۔ پاکستان میں اس نوعیت کے روابط موجود تو ہیں، لیکن اُن کا دائرہ ابھی محدود ہے۔ ہماری بہت سی جامعات اور صنعت کے درمیان ایسا مستقل اور باقاعدہ تعلق قائم نہیں ہوسکا، جس سے تحقیق بہ راہِ راست قومی معیشت اور روزگار کے مواقع میں تبدیل ہوسکے۔
کتب خانوں اور علمی وسائل کا معاملہ بھی اہم ہے۔ امپیریل کی عبدالسلام لائبریری اور دیگر مطالعاتی مراکز طلبہ کو مطبوعہ اور آن لائن کتابوں، تحقیقی جرائد اور عالمی معلوماتی ذخیروں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق کے طریقۂ کار، حوالہ نویسی اور علمی مواد کے استعمال میں بھی راہ نمائی ملتی ہے۔
پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جرائد اور آن لائن علمی وسائل کی فراہمی کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں، لیکن ہر جامعہ ان سہولتوں سے یک ساں فائدہ نہیں اٹھا پاتی۔ کہیں انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے، تو کہیں مطالعاتی جگہ کم ہے اور کہیں طلبہ کو یہ تک معلوم نہیں کہ عالمی علمی ذخیرے سے مؤثر استفادہ کیسے کیا جائے؟
پاکستانی جامعات کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ تحقیقی معیار اور اشاعتی دیانت داری کا بھی ہے۔ بعض مقالے کم زور تحقیقی طریقۂ کار، محدود جدت، سرقۂ علمی یا جرائد کی ہدایات پر عمل نہ ہونے کے باعث بین الاقوامی جرائد کی ابتدائی جانچ ہی میں مسترد ہو جاتے ہیں۔ بعض محققین جعلی یا نقلی جرائد کا شکار بھی ہوئے ہیں، جس سے پاکستانی تحقیق کی ساکھ متاثر ہوئی۔
کسی جامعہ کا معیار صرف اُس کی تجربہ گاہوں اور کتب خانوں سے نہیں ناپا جاتا؛ کیمپس کی زندگی بھی اس کا آئینہ ہوتی ہے۔ امپیریل کالج میں طلبہ یونین کے تحت سیکڑوں کلب اور انجمنیں کام کرتی ہیں۔ طلبہ کھیل، موسیقی، ڈرامے، مباحثے، ٹیکنالوجی، کاروبار اور سماجی خدمت میں حصہ لیتے ہیں۔ کھیلوں کے لیے جم اور مختلف کلب موجود ہیں، جب کہ ذہنی صحت، رہایش، مالی معاملات اور انتظامی مشکلات کے بارے میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستان کی کئی جامعات میں طلبہ کی غیر نصابی سرگرمیاں محدود ہیں۔ کھیلوں کے میدان، مطالعاتی مراکز، مشاورتی خدمات اور ذہنی صحت کے پروگرام اکثر بنیادی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں طالب علم سے عموماً یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کلاس میں جائے، لیکچر سنے، امتحان دے اور ڈگری لے کر رخصت ہو جائے، حال آں کہ عملی زندگی صرف کتابی علم سے نہیں چلتی۔ قیادت، ٹیم ورک، گفت گو، اختلافِ رائے، تخلیقی صلاحیت اور سماجی ذمے داری بھی تعلیم کا حصہ ہیں۔
امپیریل کالج طلبہ کی رہایش، کھانے پینے، کھیل، ذہنی صحت اور انتظامی راہ نمائی کے لیے بھی منظم سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ طالب علم کو فیس، رہایش، مالی مشکلات، تعلیمی دباو اور ذاتی مسائل کے سلسلے میں مختلف شعبوں سے مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کی جامعات میں بھی بعض جگہ ایسی سہولتیں موجود ہیں، لیکن اُن کا دائرہ محدود ہے اور اکثر طلبہ کو اُن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کئی انتظامی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر ذہنی صحت اور نفسیاتی مشاورت کا شعبہ ابھی ہماری جامعات میں پوری طرح مستحکم نہیں ہوا۔
امپیریل کالج سے وابستہ شخصیات اس ادارے کی علمی روایت کی گواہی دیتی ہیں:
سر الیگزینڈر فلیمنگ نے ’’پنسلین‘‘ دریافت کی، جس نے طب کی دنیا بدل دی۔
سر ارنسٹ چین نے ینسلین کو طبی استعمال کے قابل بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
ڈینس گابر نے ’’ہولوگرافی‘‘ پر اہم کام کیا اور نوبیل انعام حاصل کیا۔
سر راجر بینسٹر نے ایک میل کی دوڑ چار منٹ سے کم وقت میں مکمل کر کے کھیلوں کی تاریخ میں نام پیدا کیا۔
مشہور موسیقار اور گٹارسٹ برائن مے نے امپیریل میں فلکی طبیعیات کی تعلیم حاصل کی۔ وہ دنیا کے معروف موسیقی بینڈ کوئن کے اہم رکن بنے، لیکن سائنس سے اپنا تعلق بھی برقرار رکھا اور بعد ازاں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ ایک جامعہ طالب علم کو صرف ایک پیشے کے خانے میں بند نہیں کرتی، بل کہ اس کی مختلف صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی ہے۔
مشہور ادیب ایچ جی ویلز بھی امپیریل سے وابستہ رہے۔ سائنس فکشن کے اس عظیم مصنف نے ’’دی ٹائم مشین‘‘، ’’دی وار آف دی ورلڈز‘‘ اور ’’دی اِنویزیبل مین‘‘ جیسی تصانیف کے ذریعے ادب میں نئی دنیا آباد کی۔
بھارت کے سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی بھی امپیریل کالج میں زیرِ تعلیم رہے۔
پیٹرک بلیکٹ، سر والٹر ہاورث اور سر جیفری ولکنسن جیسے نوبیل انعام یافتہ سائنس دان بھی اس ادارے کی علمی روایت کا حصہ رہے ہیں۔
پاکستانی جامعات کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انصاف کا تقاضا ہے کہ اُن کی کام یابیوں کو بھی تسلیم کیا جائے۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی، لمز، آغا خان یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور بعض دیگر اداروں نے تحقیق، طب، انجینئرنگ اور کاروباری تعلیم میں قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ ہمارے کئی طلبہ دنیا کی معروف جامعات میں داخلہ حاصل کرتے اور بین الاقوامی مقابلوں میں کام یابیاں حاصل کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام یابیاں پورے قومی نظام میں یک ساں طور پر نظر نہیں آتیں۔ بہت سی جامعات مالی مشکلات، سیاسی مداخلت، انتظامی کم زوری، اساتذہ کی کمی، فرسودہ نصاب اور تحقیقی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہیں۔
اس طرح بعض اداروں میں میرٹ پر مبنی تقرر اور ترقی کا نظام کم زور ہے۔ جب کسی جامعہ میں علمی کارکردگی کے بہ جائے سفارش، سیاسی اثر و رسوخ یا انتظامی مصلحت غالب آ جائے، تو اس کی فکری فضا متاثر ہوتی ہے۔ پاکستانی جامعات کا مسئلہ صرف پیسے کی کمی نہیں؛ یہ ترجیحات اور نظمِ حکم رانی کا مسئلہ بھی ہے۔ نئی عمارتیں تعمیر کرنا ضروری ہوسکتا ہے، مگر عمارتیں خود تحقیق پیدا نہیں کرتیں۔ تحقیق کے لیے قابل اُستاد، فعال تجربہ گاہ، مستقل فنڈنگ، آزادانہ سوچ، عالمی علمی روابط اور شفاف احتساب درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح صرف مقالوں کی تعداد بڑھا دینا کافی نہیں؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ تحقیق نے معاشرے، صنعت، صحت، زراعت یا معیشت کے لیے کیا نیا پیدا کیا؟
امپیریل کالج کی مثال ہمیں احساسِ کم تری میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں، بل کہ اپنی کم زوریوں کو سمجھنے کے لیے سامنے رکھنی چاہیے۔ پاکستان کے نوجوان ذہانت، محنت اور تخلیقی صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ فرق زیادہ تر اُس ماحول کا ہے، جس میں انھیں کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک طالب علم کو اگر جدید تجربہ گاہ، معیاری کتب، تربیت یافتہ راہ نمائی، صنعت سے رابطہ، اظہارِ خیال کی آزادی اور ناکامی سے سیکھنے کا موقع ملے، تو اس کی کارکردگی کئی گنا بہتر ہوسکتی ہے۔
لندن میں امپیریل کالج کے پڑوس میں رہتے ہوئے روزانہ یہ احساس ہوتا ہے کہ عالمی معیار کی جامعہ صرف ایک خوب صورت عمارت یا ایک بلند عالمی درجہ بندی کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی، مستقل سرمایہ کاری، ادارہ جاتی خود مختاری، شفاف انتظام اور علم کے احترام کی روایت ہوتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہیں، جن سے پاکستان کی جامعات کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے چاہییں جو صرف امتحان لینے اور ڈگریاں دینے کے مراکز نہ ہوں، بل کہ سوال پیدا کریں، تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں، صنعت کے ساتھ مل کر کام کریں اور معاشرے کے حقیقی مسائل کا حل تلاش کریں۔
اگر پاکستان اپنی جامعات میں میرٹ، تحقیق، علمی آزادی، جدید سہولتوں اور مؤثر انتظام کو ترجیح دیں، تو ہمارے ادارے بھی عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
امپیریل کالج کے پڑوس سے میرا دیکھا گیا یہ منظر دراصل پاکستان کی جامعات کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہمیں صرف اپنی کم زوریاں نہیں، بل کہ اپنی صلاحیتیں بھی نظر آتی ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی ذہانت کو کم زور نظام کی نذر ہونے سے بچائیں… کیوں کہ قومیں صرف عمارتوں سے نہیں، سوال کرنے والے ذہنوں، دیانت دار تحقیق اور علم کو ترجیح دینے والی قیادت سے بنتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے