ہر زندگی اپنے اندر ایک کہانی لیے ہوتی ہے، مگر کچھ زندگیاں محض ایک فرد کی داستان نہیں رہتیں؛ وہ ایک ادارے، ایک طبقے، ایک پیشے اور ایک پوری نسل کی اجتماعی تاریخ بن جاتی ہیں۔
ایسی ہی شخصیات میں حاجی بشیر احمد کا شمار بھی ہوتا ہے، جنھوں نے ملازمت کو محض روزگار نہیں، بل کہ خدمت سمجھا، علم کو اپنی قوت بنایا، تجربے کو اپنی پہچان بنایا اور قیادت کو منصب نہیں، بل کہ ذمے داری اور امانت سمجھ کر نبھایا۔
حاجی بشیر احمد میرے چچا زاد بھائی ہیں۔ اُن کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور اُن کے سفر کو سمجھنے کا موقع ملا، اس لیے اُن کی زندگی میرے لیے محض ایک شخصیت کا تعارف نہیں، بل کہ محنت، استقامت، خدمت اور اُصول پسندی کی ایک ایسی داستان ہے، جسے لکھتے ہوئے فخر بھی محسوس ہوتا ہے اور خوشی بھی۔
ایک علمی و تربیتی سفر
حاجی بشیر احمد 8 اگست 1966ء کو ایک مذہبی اور باوقار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدِ محترم مولانا محمد فیاض مرحوم تھے۔ حاجی بشیر احمد کا بنیادی تعلق سوات سے ہے، تاہم اُن کے والدِ محترم بعد ازاں بونیر منتقل ہوگئے، جہاں خاندان نے اپنی زندگی کا ایک اہم دور گزارا۔
حاجی صاحب نے تعلیم کو ہمیشہ ترقی اور خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ اُنھوں نے 1982ء میں میٹرک، 1984ء میں ایف ایس سی اور 1986ء میں بی اے کیا۔ علمی سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے 1989ء میں ایم اے اُردو اور 1991ء میں ایم اے پشتو کی ڈگری حاصل کی۔
اُنھوں نے صرف روایتی تعلیم تک خود کو محدود نہیں رکھا، بل کہ صحت کے شعبے میں بھی مسلسل علمی و فنی تربیت حاصل کی۔ 1987ء میں میڈیکل ٹیکنیشن کا کورس، 2002ء میں ہیلتھ کے شعبے میں دو سالہ ڈپلوما اور 2009ء میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ (MPH) کی ڈگری حاصل کی۔ المختصر، یہ تعلیمی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ حاجی بشیر احمد کے نزدیک سیکھنے کا عمل کسی ایک مرحلے پر ختم نہیں ہوتا تھا۔ وہ ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرتے رہے۔
محکمہ صحت میں 38 سالہ خدمت
حاجی بشیر احمد نے محکمۂ صحت میں اپنی عملی زندگی کا آغاز 1988ء میں میڈیکل ٹیکنیشن کی حیثیت سے کیا۔ یہ صرف ملازمت کا آغاز نہیں تھا، بل کہ ایک ایسے طویل سفر کی ابتدا تھی، جو تقریباً چار دہائیوں پر محیط رہا۔ 38 سال، 5 ماہ اور 5 دن محکمۂ صحت سے وابستہ رہتے ہوئے اُنھوں نے مختلف ذمے داریاں ادا کیں اور صحت کے نظام کے انتظامی، تکنیکی اور تربیتی پہلوؤں کو قریب سے دیکھا۔
حاجی صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک نمایاں پہلو تربیت تھا۔ ایک بہترین ماسٹر ٹرینر کی حیثیت سے اُنھوں نے محکمۂ صحت کے مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 8 ہزار ہیلتھ پروفیشنلز کو تربیت کے مواقع فراہم کیے۔ یوں اُنھوں نے جو کچھ سیکھا، اُسے اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بہ جائے دوسروں تک منتقل کیا اور ایک ایسی نسل کی تیاری میں کردار ادا کیا، جو آگے چل کر صحت کے شعبے میں خدمات انجام دیتی رہی۔
حاجی بشیر احمد نے مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی تربیتی اور پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دیں، جن میں آئی ایم سی، پیمان، مرلن، ای پی ایس، جے آئی سی اے اور ڈبلیو ایچ اُو جیسے ادارے شامل رہے۔ ان تجربات نے اُن کی شخصیت کو مقامی عملی تجربے سے نکال کر بین الاقوامی اداروں کے کام کے طریقۂ کار، تربیتی نظام اور صحتِ عامہ کے جدید تصورات سے روشناس کرایا۔
صحتِ عامہ اور ہسپتال مینجمنٹ کے میدان میں بھی حاجی صاحب کو وسیع تجربہ حاصل رہا۔ قدرتی آفات ہوں، یا انسانی بحران، زلزلہ ہو یا سیلاب، ڈینگی کا چیلنج ہو یا کووڈ نائن ٹین کی عالمی وبا، اُنھوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کو نبھاتے ہوئے ہر مشکل مرحلے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ایک کارکن سے صوبائی راہ نما تک
حاجی بشیر احمد کی زندگی کا سب سے اہم اور تاریخی باب اُن کی پیرامیڈیکل تنظیمی جد و جہد ہے۔ 1991ء میں اُنھوں نے ضلع سوات کی سطح پر پیرامیڈیکل تنظیمی سیاست میں باقاعدہ اور فعال کردار کا آغاز کیا۔ ’’ون مین، ون ووٹ‘‘ کے انتخابی نظام کے ذریعے ساتھیوں کا اعتماد حاصل کیا اور یہ اعتماد وقت کے ساتھ ایک مضبوط تنظیمی سفر میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔
ضلع سوات کی قیادت سے شروع ہونے والا یہ سفر ملاکنڈ ڈویژن تک پہنچا۔ اُن کی تنظیمی صلاحیتوں، کارکنوں سے رابطے اور مسلسل جد و جہد نے اُنھیں ملاکنڈ ڈویژن کی سطح پر جنرل سیکرٹری کی ذمے داری تک پہنچایا۔ بعد ازاں اُنھوں نے چار سال تک صوبائی جائنٹ سیکرٹری اور تین مرتبہ ملاکنڈ ڈویژن کے صدر کی ذمے داری بھی نبھائی۔ یہ عہدے محض تنظیمی مناصب نہیں تھے، بل کہ ہزاروں پیرامیڈیکل ملازمین کے مسائل، حقوق اور آواز کی نمایندگی کی ذمے داری تھے۔
2026ء میں ساتھیوں کے اعتماد نے حاجی صاحب کو صوبائی چیئرمین پیرامیڈیکس ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی ذمے داری سونپی۔ یوں ایک عام کارکن سے شروع ہونے والا سفر صوبائی قیادت تک پہنچا… مگر حاجی بشیر احمد کے لیے عہدہ کبھی منزل نہیں تھا۔ اُن کے لیے اصل اہمیت اعتماد کی تھی، کارکنوں کی تھی اور اس ذمے داری کی تھی، جو ساتھیوں نے اُن کے کندھوں پر رکھی تھی۔
34 سالہ برادری کی خدمت
اگر محکمۂ صحت میں اُن کی تقریباً 4 دہائیوں کی خدمت اُن کی پیشہ ورانہ زندگی کا روشن باب ہے، تو تقریباً 34 سالہ تنظیمی جد و جہد اُن کی اجتماعی زندگی کی نمایاں شناخت ہے۔ اس طویل عرصے میں اُنھیں مشکلات بھی پیش آئیں، اختلافات کا بھی سامنا کیا اور کڑی آزمایشوں کا بھی… لیکن اُنھوں نے اپنے اُصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ پیرامیڈیکل برادری کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی، مسائل کے حل کے لیے جد و جہد کی اور ساتھیوں کے اعتماد کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھا۔ حاجی صاحب کے سفر کی اصل خوب صورتی یہی ہے کہ اُنھوں نے تنظیمی سیاست کو ذاتی مفاد یا منصب کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، بل کہ اسے کارکنوں کی خدمت اور اُن کے حقوق کی ترجمانی کا وسیلہ سمجھا۔
ایک باوقار علمی و خاندانی ورثہ
حاجی بشیر احمد جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ علم، تعلیم، سرکاری خدمت اور سماجی کردار کے حوالے سے بھی ایک نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ حاجی صاحب، مولانا محمد فیاض (مرحوم) کے فرزند ہیں، جب کہ سابق ڈی جی ایگری کلچر عابد کمال مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اسی طرح ممتاز ماہرینِ تعلیم سابق ڈی ای اُو ایجوکیشن محمد شیراز (مرحوم)، سابق پرنسپل محمد عجم اور فضل سبحان کے بھتیجے ہیں۔
یہ شان دار خاندانی پس منظر یقیناً اپنی جگہ اہم ہے، مگر حاجی بشیر احمد کی اصل پہچان صرف خاندانی نسبت نہیں، بل کہ وہ کردار ہے، جو اُنھوں نے اپنی محنت، قابلیت اور مسلسل جد و جہد سے خود تعمیر کیا۔
عہدہ ختم ہوتا ہے، کردار نہیں
حاجی بشیر احمد کی زندگی کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے، تو شاید یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک کارکن نے سفر شروع کیا، ایک راہ نما نے ذمے داری سنبھالی اور ایک باوقار کردار نے تاریخ رقم کردی۔
ملازمت سے سبک دوشی، زندگی کے سفر کا اختتام نہیں ہوتی۔ عہدے آتے جاتے ہیں، ذمے داریاں بدلتی رہتی ہیں، دفاتر اور کرسیاں نئے لوگوں کے حوالے ہوجاتی ہیں، مگر انسان کا کردار سبک دوش نہیں ہوتا۔ حاجی صاحب کی زندگی اسی حقیقت کی ایک خوب صورت مثال ہے۔
آج جب حاجی صاحب محکمۂ صحت کی ملازمت اور پیرا میڈیکل قیادت کے ایک طویل سفر سے سبک دوش ہوئے ہیں، تو اُن کے پیچھے صرف عہدوں کی ایک فہرست نہیں، بل کہ 38 سال، 5 ماہ اور 5 دن کی پیشہ ورانہ خدمت، تقریباً 34 سالہ تنظیمی جد و جہد، ہزاروں تربیت یافتہ ہیلتھ پروفیشنلز، لاتعداد ساتھیوں کا اعتماد اور کئی دہائیوں پر محیط ایک روشن تاریخ موجود ہے۔
یہ سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اُس کی کرسی، عہدے یا اختیار سے نہیں ہوتی؛ اصل پہچان اُس کے کردار، کردار کی مضبوطی، خدمت کے جذبے اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑی ہوئی یاد سے ہوتی ہے۔
حاجی بشیر احمد نے علم کو طاقت بنایا، تجربے کو پہچان بنایا، تربیت کو مشن بنایا، تنظیم کو خدمت کا ذریعہ بنایا اور قیادت کو امانت سمجھ کر نبھایا۔
آج ایک عہد اختتام پذیر ہوا، ایک منصب پیچھے رہ گیا… مگر ایک کردار تاریخ کا حصہ بن چکا۔
حاجی بشیر احمد! آپ کا سفر ختم نہیں ہوا، صرف ایک باب مکمل ہوا ہے۔ آگے کی زندگی اُن تمام تجربات، یادوں اور دعاؤں کے ساتھ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی گذشتہ خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آپ کو صحت، عافیت، عزت اور سکون والی طویل زندگی عطا فرمائے اور آپ کی آیندہ زندگی کو بھی خدمت، خوشیوں اور کام یابیوں سے بھر دے، آمین!
ایک عہد تھا جو گزر گیا، ایک جد و جہد تھی جو تاریخ بن گئی… بس ایک کردار ہے، جو کبھی سبک دوش نہیں ہوتا۔
حاجی بشیر احمد ایک عہد ہیں، سراپا جد و جہد ہیں اور اب تاریخ کا یاد رکھا جانے والا حصہ ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










