یوں تو پرائمری جماعت سے لے کر ایف ایس سی تک میرے تمام اساتذۂ کرام میرے لیے انتہائی قابلِ احترام رہے ہیں۔ تقریباً ہر ایک نے میری علمی و فکری تربیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اُن کی محبت و شفقت آج بھی میرے دل میں محفوظ ہیں۔ تاہم نویں اور دسویں جماعت کے ہمارے سائنس کے استادِ محترم صاحب زادہ فاروق جان صاحب کے ساتھ عقیدت، محبت اور احترام کا رشتہ ان سب سے بڑھ کر ہے۔
صاحب زادہ فاروق جان صاحب کا تعلق چارباغ، محلہ شنگرئی کے ایک انتہائی معزز اور قابلِ احترام خاندان، صاحب زادگان، سے ہے۔ مگر اُن کی اصل پہچان صرف ایک معزز خاندان سے تعلق نہیں، بل کہ اُن کا کردار، علمی وقار، فرض شناسی، حسنِِ اخلاق اور طلبہ کے ساتھ مشفقانہ رویہ ہے، جو اُنھیں ایک مثالی اُستاد بناتا ہے۔
فاروق جان صاحب نے ہمیں مسلسل دو سال تک فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی جیسے اہم مضامین پڑھائے۔ روزانہ ہمارے ساتھ اُن کی تین کلاسیں ہوتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ اُن دو سالوں کے دوران میں ہماری سب سے زیادہ کلاسیں اور سب سے زیادہ وقت استادِ محترم کے ساتھ گزرا۔ بلا مبالغہ، وہ دو سال میرے لیے محض نصابی تعلیم کے سال نہیں تھے، بل کہ اُستاد کے کردار اور عملی زندگی سے سیکھنے کا ایک خوب صورت دور بھی تھے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ استادِ محترم صرف اُسی وقت کرسی پر بیٹھتے تھے جب طلبہ کی نوٹ بکس یا پریکٹیکل چیک کر رہے ہوتے۔ بہ صورتِ دیگر پوری کلاس کے دوران میں کھڑے ہوکر تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے۔ حتیٰ کہ طبیعت کی خرابی بھی اُنھیں اپنے فرائض کی ادائی سے روکنے میں آسانی سے کام یاب نہ ہو پاتی تھی۔
اُستادِ محترم کی ڈیوٹی سے وابستگی اور وقت کی پابندی اپنی مثال آپ تھی۔ انتہائی مجبوری کے علاوہ چھٹی کرنا اُن کے معمول میں شامل نہیں تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ مذکورہ دو سالوں کے دوران میں اُنھوں نے کبھی بلاوجہ رخصت لی ہو۔ اُن کے لیے تدریس محض ایک ملازمت نہیں، بل کہ ایک ذمے داری، ایک عہد اور ایک مقدس فریضہ تھی۔
استادِ محترم اگرچہ ہمارے سائنس ٹیچر تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُنھوں نے ہمیں صرف فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی نہیں پڑھائی؛ اُنھوں نے اپنے عمل اور طرزِ تربیت سے ہمیں اخلاق، کردار، رحم دلی، محبت، شفقت، ایمان داری اور دیانت داری جیسے اوصاف سے بھی روشناس کرایا۔
اُستادِ محترم کی تربیت کا ایک نمایاں اُصول یہ تھا کہ بہترین کارکردگی پر جزا اور غلطی یا جرم پر سزا ہونی چاہیے۔ وہ ہمیں عملی طور پر یہ سمجھاتے تھے کہ زندگی ایک ذمے داری ہے اور ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔
آج جب برسوں بعد اُن دنوں کو یاد کرتا ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ اُستادِ محترم دراصل ہمیں صرف دنیا کے امتحان کے لیے تیار نہیں کر رہے تھے، بل کہ اُس عظیم عدالت کے لیے بھی تیار کر رہے تھے جہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ قرآنِ مجید اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے:
فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ۔ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔
(ترجمہ) پس جس نے ذرّہ بھر نیکی کی ہوگی، وہ اُسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرّہ بھر برائی کی ہوگی، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔
شاید یہی وہ بنیادی سبق تھا، جو اُستادِ محترم اپنے عملی کردار سے ہمارے ذہنوں میں بٹھا رہے تھے کہ دنیا کے امتحان میں نمبر کم یا زیادہ ہوسکتے ہیں، مگر آخرت کی عدالت میں ہر عمل کا حساب ہوگا۔
اُستادِ محترم کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ تھا کہ اُن کی سنجیدگی کبھی سخت مزاجی میں تبدیل نہیں ہوئی۔ وہ کلاس روم میں نظم و ضبط کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ تھے، لیکن ہر طالب علم کے ساتھ اُن کا رویہ محبت، شفقت اور خیرخواہی پر مبنی ہوتا۔ وہ طالب علم کی کم زوری کو صرف تنقید کا موضوع نہیں بناتے تھے، بل کہ اُسے بہتر بنانے کی کوشش کرتے۔ اُن کے اندازِ تدریس میں ایک ایسے اُستاد کی جھلک دکھائی دیتی تھی، جو اپنے شاگردوں کو صرف امتحان پاس کروانے کے لیے نہیں، بل کہ اُنھیں زندگی کے میدان میں کام یاب دیکھنے کے لیے پڑھاتا ہے۔
اُستادِ محترم کے نزدیک طالب علم محض کلاس روم کا ایک نام یا رول نمبر نہیں تھا، بل کہ ایک امانت تھا، جس کی علمی اور اخلاقی تربیت استاد کی ذمے داری تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ برسوں گزرنے کے باوجود اُن کی یاد ہمارے دلوں میں اُسی احترام کے ساتھ زندہ ہے۔
استادِ محترم کی شخصیت میں ظاہری خوب صورتی کے ساتھ ساتھ باطنی خوب صورتی بھی نمایاں تھی۔ خوب صورت اور باوقار شخصیت، نفیس انداز، بہترین اور دل کش لکھائی، گفت گُو میں شایستگی اور رویے میں متانت… یہ سب اُن کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
لیکن میرے نزدیک اُن کی سب سے بڑی خوب صورتی اُن کا حسنِ سیرت تھا۔ ایک اچھے اُستاد کی پہچان صرف اُس کے مضمون پر عبور سے نہیں ہوتی؛ اُس کی اصل پہچان یہ ہے کہ اُس کے شاگرد اُس کی موجودگی میں علم کے ساتھ ساتھ اخلاق، نظم، محنت، دیانت اور ذمے داری بھی سیکھیں۔ فاروق جان صاحب مذکورہ معیار کے اُستاد تھے۔ اُنھوں نے ہمیں کتابوں کے صفحات سے آگے بڑھ کر اپنے عمل سے سبق دیا۔ اُن کی پابندیِ وقت نے ہمیں وقت کی قدر سکھائی۔ اُن کی محنت نے ہمیں محنت کی اہمیت بتائی۔ اُن کی سنجیدگی نے ذمے داری کا احساس دیا اور طلبہ کے ساتھ اُن کی شفقت نے ہمیں یہ سمجھایا کہ حقیقی اُستاد علم کے ساتھ محبت بھی بانٹتا ہے۔
وقت گزر جاتا ہے، کلاسیں ختم ہوجاتی ہیں، کتابیں بدل جاتی ہیں اور طالب علمی کے سال یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں، مگر اچھے اُستاد کی شخصیت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ اُستاد کا دیا ہوا علم شاید وقت کے ساتھ ذہن کے کسی گوشے میں مدھم پڑ جائے، لیکن اُس کا کردار، اُس کی شفقت، اُس کی نصیحت اور اُس کا عملی نمونہ انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
صاحب زادہ فاروق جان صاحب بھی ہمارے لیے ایسے ہی استاد ہیں، جنھوں نے صرف مضامین نہیں پڑھائے، بل کہ اپنے عمل سے یہ سکھایا کہ فرض سے وفاداری، وقت کی پابندی، محنت، حسنِ اخلاق اور انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا عمل ہی ایک باوقار زندگی کی بنیاد ہیں۔
آج جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں ہمیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے سامنے کھڑا یہ اُستاد ہماری زندگی کی یادوں میں اتنا گہرا نقش چھوڑ جائے گا… مگر آج برسوں بعد اُن کی شخصیت کو یاد کرتا ہوں، تو دل بے اختیار احترام سے بھر جاتا ہے۔ ایسے اساتذہ کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ نسلیں بناتے ہیں، کردار سنوارتے ہیں اور خاموشی سے معاشرے کے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔
دنیا میں اُستاد کو بہت سے اعزازات مل سکتے ہیں، لیکن اُستاد کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوگا کہ اُس کے شاگرد برسوں بعد بھی اُسے محبت اور احترام سے یاد کریں۔ صاحب زادہ فاروق جان صاحب ہمارے لیے اسی اعزاز کے مستحق ہیں۔ اُنھوں نے ہمیں بتایا کہ اُستاد کا مقام صرف کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ اپنے شاگرد کے کردار میں زندہ رہتا ہے، اُس کی گفت گو میں نظر آتا ہے، اُس کے فیصلوں میں جھلکتا ہے اور اُس کے اچھے اعمال میں اپنی تربیت کی خوش بو جگاتا رہتا ہے۔
آج اگر ہم اپنے ماضی کے اُس دور کو یاد کرتے ہیں، تو فزکس کے فارمولے، کیمسٹری کے فارمولے اور بیالوجی کے اسباق شاید مکمل طور پر یاد نہ ہوں، لیکن استادِ محترم کا کھڑے ہوکر پڑھانا، پابندیِ وقت، فرض شناسی، خوب صورت لکھائی، سنجیدہ انداز، محبت بھرا رویہ اور کردار سازی کا جذبہ آج بھی پوری طرح یاد ہے۔ یہی ایک اُستاد کی سب سے بڑی کام یابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے محترم استاد صاحب زادہ فاروق جان صاحب کو صحت، عافیت، سکون، عزت، خوش حالی اور فراخیِ عمر عطا فرمائے۔ اُن کے علم و عمل میں برکت ڈالے۔ اُن کی تمام علمی و تربیتی خدمات کو اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور اُن کے شاگردوں کو اُن کے دیے ہوئے سبق کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
نیز اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر، اُن کے احترام اور اُن کی محنتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے، آمین!
جاتے جاتے اتنا ہی کہوں گا کہ اے استادِ محترم! آپ نے ہمیں صرف سائنس کے مضامین نہیں پڑھائے، آپ نے ہمیں زندگی کا ایک خوب صورت سبق بھی دیا کہ انسان اپنے فرض سے مخلص ہو، تو اُس کا کردار ہی اُس کی سب سے بڑی پہچان بن جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










