ڈاکٹر محمد علی دیناخیل…. (دوسری قسط)

Blogger Abdul Sattar Azad

ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کے ساتھ میری رفاقت  کی سرگزشت:
کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد علی دیناخیل سے میرا تعلق ربع صدی پر محیط ہے۔ ہم دونوں گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج تھانہ، ملاکنڈ میں 2002ء میں  زیرِ تعلیم تھے۔ اُس وقت محمد علی دیناخیل پی ٹی سی ٹریننگ کر رہے تھے، جب کہ میں سی ٹی پروگرام میں داخل ہوا تھا۔ ہم دونوں نے اُس وقت صرف انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا تھا اور زندگی کے ایک نئے تعلیمی سفر کا آغاز کر رہے تھے۔ ابتدائی دنوں ہی میں محمد علی دیناخیل کی ذہانت، سنجیدگی اور علم دوستی نمایاں ہوگئی تھی۔ ہاسٹل میں اُن کا کمرہ گراؤنڈ فلور پر تھا، جب کہ ہمارا کمرا پہلی منزل پر واقع تھا۔ شام ڈھلتے ہی دوستوں کی محفل اُن کے کمرے میں سج جاتی۔ ہم  رات دیر  تک مختلف موضوعات پر گفت گو کرتے، علمی مباحث ہوتے، مستقبل کے خواب بُنے جاتے اور نوجوانی کی بے فکریاں بھی ساتھ ساتھ چلتی رہتیں۔
تھانہ ملاکنڈ کے اُن دن کی یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ ہم نے نہ صرف ایک ساتھ تعلیم حاصل کی، بل کہ تھانے کی گلیوں، بازاروں اور راستوں سے بھی خوب واقفیت حاصل کی۔ تھانے کے ایک ایک کوچے اور گزرگاہ سے ہماری یادیں وابستہ ہیں۔ کالج کے احاطے میں موجود الائچی کے خوش بو دار درختوں کے سائے تلے ہم گھنٹوں بیٹھ کر مطالعہ کیا کرتے تھے۔
محمد علی دیناخیل کا تعلق خوازہ خیلہ کے نواحی گاؤں ’’جیشاڑ‘‘ (شالپین) سے ہے۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ہمیں اُن کے ساتھ جیشاڑ جانے کا بھی موقع ملا۔ یہ وہ دور تھا، جب موبائل فون نہیں تھے۔ دوستوں سے رابطے کے لیے ڈاک کا سہارا لیا جاتا تھا اور اگر کسی کے پاس پی ٹی سی ایل کا نمبر ہوتا، تو اُسے بڑی احتیاط سے ڈائری میں محفوظ رکھا جاتا۔ تھانہ ملاکنڈ میں یک سالہ تربیت مکمل ہونے کے بعد ہماری راہیں وقتی طور پر جدا ہوگئیں۔ مَیں کراچی چلا گیا، جب کہ محمد علی دیناخیل نے یہاں علمی سفر جاری رکھا۔ کراچی میں میرے قیام کے دوران میں محمد علی دیناخیل کے دو خطوط میرے نام آئے، جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ یہ خطوط اُس دور کی یادگار ہیں، جب دوستی کا اظہار الفاظ اور کاغذ کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں مصروفیاتِ زندگی کے باعث ایک طویل عرصے تک ہمارا رابطہ منقطع رہا۔
2013ء میں معلوم ہوا کہ محمد علی دیناخیل لیکچرار (پشتو) کے طور پر گورنمنٹ ڈگری کالج چھوٹا لاہور، صوابی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کراچی سے واپسی پر میں نے ان سے رابطہ کیا اور صوابی جاکر اُن سے ملاقات کی۔ کالج میں اُن کے ساتھ ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔ پرانی یادیں تازہ ہوئیں اور یوں دوستی کا سلسلہ پھر سے جُڑ گیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ بعد ازاں اُن کا تبادلہ گورنمنٹ  افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ (سابقہ گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ) میں ہوا، جہاں انھوں نے اپنی تدریسی اور تحقیقی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔
ڈاکٹر محمد علی دینا خیل   کی تعلیمی  اور پیشہ وارانہ زندگی کی سرگزشت:
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل 30 مارچ 1983ء کو ضلع سوات کی تحصیلِ خوازہ خیلہ کے ایک نواحی گاؤں کے جیشاڑ (شالپین) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول جیشاڑ سے حاصل کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ مڈل اسکول فقیرا سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور 1999ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شالپین خوازہ خیلہ سے میٹرک پاس کیا۔ انھوں نے 2001ء میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول خوازہ خیلہ سے ایف اے مکمل کیا، جب کہ بی اے (انگریزی ادب) گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ، سوات میں کرکے ڈگری حاصل کی۔ اُنھوں نے 2007ء میں ملاکنڈ یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جب کہ 2009ء میں اسی یونیورسٹی سے پشتو ادبیات میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیمی میدان میں مسلسل پیش رفت کرتے ہوئے انھوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ اُن کے ایم فل  مقالے کا عنوان “Beginning and Evolution of Pashto Literature in Swat State: 1915-1969” تھا، جسے اُنھوں نے پروفیسر ڈاکٹر مہجور خیشگی (پشتو اکیڈمی، جامعہ پشاور) کی نگرانی میں مکمل کیا۔ بعد ازاں اُنھوں نے 2017ء  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پی ایچ ڈی میں اُن کے نگرانِ تحقیق ڈاکٹر عبداللہ جان عابد تھے، جو اُس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے Pakistani Languages کے شعبے کے چیئرمین ہیں۔
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کو پی ایچ ڈی کے دوران میں "Exchange Scholar” کے تحت جرمنی کی ہَمبولٹ یونیورسٹی، برلن میں تحقیق کا موقع ملا، جہاں اُنھوں نے معروف ماہرِ لسانیات اور مستشرق ’’پروفیسر لوٹس ژہاک‘‘ کی نگرانی میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ سنہ 2019ء میں اُنھیں جرمن ادارہ تبادلۂ علمی خدمات (DAAD) کے مالی تعاون سے ہَمبولٹ یونیورسٹی، برلن میں ریسرچ فیلو مقرر کیا گیا۔ اس دوران میں اُنھوں نے پشتو زبان، ادب، تاریخ اور ثقافت سے متعلق متعدد تحقیقی منصوبوں پر کام کیا۔ 2022ء میں اُنھوں نے اسی جامعہ سے اپنا پہلا پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیقی پروگرام مکمل کیا۔
اکتوبر 2024ء میں اُنھوں نے فرانس کے معروف ادارے INALCO (Institut National des Langues et Civilisations Orientales)، پیرس میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کا آغاز کیا، جو ستمبر 2025ء میں مکمل ہوئی۔ اس کے بعد اکتوبر 2025ء میں اُنھوں نے اسی ادارے میں ایک اور یک سالہ پوسٹ ڈاکٹریٹ پروگرام شروع کیا، جو ستمبر 2026ء میں مکمل ہوگا۔
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 2004ء میں پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر ہوا۔ وہ 2009ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ بعد ازاں 2009ء تا 2010ء سی ٹی ٹیچر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دیں۔ نومبر 2010ء میں پشتو کے لیکچرار کے طور پر اُن کا تقرر ہوا اور مارچ 2018ء تک اسی منصب پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ مارچ 2018ء سے وہ جامعہ پشاور کے ایریا اسٹڈی سنٹر میں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کی شخصیت میرے لیے ایک ایسے مخلص دوست اور سنجیدہ محقق کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے مسلسل محنت، علم دوستی اور عزم کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل نے علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اُن  کے متعدد تحقیقی مقالات قومی اور بین الاقوامی معیاری جرائد میں شائع ہوچکے ہیں، جن میں پشتو زُبان، ادب، تاریخ، ثقافت اور لسانیات کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق پیش کی گئی ہے۔  یہ مقالات اُن کی علمی بصیرت، محنت اور تحقیق سے شغف کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔
تحقیقی مقالات کے علاوہ ڈاکٹر محمد علی دیناخیل نے ڈاکٹر محمد الیاس کی کتاب ’’پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ‘‘ کا پشتو ترجمہ ’’د پختنو جینیاتی سیڑنہ‘‘ کے نام  سے کیا ہے۔ یہ کتاب مفکورہ پشاور سے شائع ہوئی ہے۔ نیز اُن کی ایک اور علمی کاوش ’’مجمع الاشعار‘‘ کے نام سے مرتب کردہ تذکرہ ہے، جس کا مخطوطہ جرمنی میں محفوظ ہے۔ یہ تذکرہ 2021ء میں پشتو اکیڈمی، کوئٹہ سے شائع ہوا۔
زیرِ تبصرہ تصنیف ’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ دراصل ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کے پی ایچ ڈی مقالے کی کتابی صورت ہے۔ یہ تحقیقی کام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبۂ پاکستانی زبانیں (Department of Pakistani Languages) میں معروف ادیب اور محقق ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جس کی بنیاد پر اُنھیں2017ء میں ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی گئی۔
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کے تحقیقی مقالے کا اصل عنوان ’’د سوات د پختو ادب تہذیبی او ثقافتی مطالعہ: اول نه تر 2012ء پوری‘‘ تھا۔ بعد ازاں مصنف نے مقالے میں ضروری علمی اصلاحات، معمولی ترامیم اور اضافے کرکے اسے کتابی شکل دی اور عنوان کو مختصر کرتے ہوئے ’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ رکھا۔
مذکورہ کتاب کی تدوین اور ایڈیٹنگ افغانستان کے محقق رفیع اللہ نیازی  نے انجام دی، جب کہ اسے 2020ء میں افغانستان کے معروف علمی و تحقیقی اشاعتی ادارے "Academy of Sciences of Afghanistan” نے شائع کیا۔
یہ ضخیم اور وقیع تصنیف 703+32 یعنی مجموعی طور پر 735 صفحات پر مشتمل ہے۔ موضوع کی وسعت، تاریخی تسلسل اور سہولت کے پیشِ نظر  مصنف نے اسے آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ ہر باب کے اختتام پر اُس باب کا جامع خلاصہ اور تمام حوالہ جات تحقیق کے معیاری اُصولوں کے مطابق تفصیل سے درج کیے گئے ہیں۔
یہ کتاب بنیادی طور پر سولھویں صدی میں یوسف زئی قبائل کی سوات آمد سے لے کر 2012ء تک تقریباً پانچ صدیوں پر محیط سوات کی ادبی، تہذیبی، ثقافتی، سماجی اور فکری تاریخ کا تفصیلی اور مستند مطالعہ پیش کرتی ہے۔  مصنف نے ان پانچ صدیوں پر مشتمل تحقیقی دورانیے کو چار ذیلی ادوار میں تقسیم کیا ہے، اور ہر ذیلی دور میں سوات کے پشتو ادب کی ارتقائی منازل، ثقافتی تبدیلیاں، علمی تحریکیں، سماجی رسوم و رواج، سیاسی حالات اور ادبی رجحانات کو مدلل، منظم اور تحقیقی انداز میں بیان کیا ہے۔
ان ادوار میں پہلا دور سولھویں صدی میں یوسف زئی کی سوات آمد سے لے کر ریاستِ سوات کے قیام (1915ء) تک ، دوسرا دور ریاستی دور (1915ء- 1969ء)،  تیسرا دور ریاستِ سوات کا پاکستان کے ساتھ الحاق (1969ء) سے لے کر 2000ء تک، جب کہ چوتھا اور آخری دور اکیسویں صدی کے ابتدائی بارہ سال (2000ء-2012ء)  تک  کے دورانیے پر محیط ہے۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ  editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے