پروفیسر احمد حسن دانی، لیگسی کا سوال

Blogger Doctor Rafi Ullah

پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان کے نام ور دانش ور مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی  ’’اکیڈیمک لیگسی‘‘ کے حوالے سے ایک غیر ضروری بحث شروع کی گئی ہے۔ اس ضمن میں، مَیں اپنی تاریخ شناسی کی تحقیق کی روشنی میں اپنا ہی نکتۂ نظر پیش کرنے جا رہا ہوں۔
لیگسی (Legacy) ایک عام تصور نہیں۔ اس لیے اس کی تعریف کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ اس پیچیدگی میں مختلف اقسام کی لیگسی بھی شامل ہے، جیسے سیاسی، ادارہ جاتی، تعلیمی وغیرہ۔ ہمیں یہاں آخری قسم میں دل چسپی ہے… خاص طور پر پروفیسر احمد حسن دانی (1920 – 2009) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔
دانی نے انگریزوں کے ہندوستان سے نکلنے سے صرف دو یا تین سال پہلے گریجویشن کی تھی۔ اور وہ خوش قسمت تھے کہ انھیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا میں بھرتی کیا گیا۔ جیسا کہ تقدیر نے طے کیا تھا، تقسیم نے انھیں پاکستان کا سرکردہ ماہرِ آثارِ قدیمہ بنا دیا۔ ان کی موجودگی نے 20ویں صدی کے آخر کو اس قدر نشان زد کیا کہ اب دانی اور آثارِ قدیمہ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا، یہ بالکل بے جا نہیں کہ ان کی ’’لیگسی‘‘ پر بات کی جاتی ہے۔
لیگسی کیا ہے اور کیا دانی نے روٹینائزڈ لیگسی چھوڑی ہے؟
لیگسی کو کسی شخص کی پائیدار اور بامعنی موجودگی کے طور پر سمجھا جانا چاہیے، جو اس کے بنیادی، اختراعی اور اثر انگیز کام، قیادت یا حتیٰ کہ ’’آئیکونوکلاسٹک‘‘ (روایات شکن) عقیدے اور راستے کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا اظہار ٹھوس ڈھانچوں، جیسے عمارتوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ فکری بلندیوں میں بھی ہونا چاہیے۔  
لیگسی پر اخلاقی پہلوؤں جیسے کام کی اخلاقیات، صداقت، اعتبار اور جواب دہی پر غور کیے بغیر بات نہیں کی جاسکتی۔ سب سے بڑھ کر، ہماری نظر اس بات پر ہونی چاہیے کہ کیا لوگ حال میں اس لیگسی کو اپنے معیاری کام کے ذریعے زندہ رکھتے ہیں، جو لیگسی میکر نے چھوڑی ہے؟ مَیں اسے ’’میکس ویبر‘‘ کے ’’روٹینائزیشن آف کرزما‘‘ کی مدد سے روٹینائزڈ لیگیسی کے طور پر دیکھتا ہوں۔
اگر دانی نے اپنی علمی جست جو کو مستحکم کرنے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا ہوتا، تو ہی انھوں نے اپنی لیگسی چھوڑی ہوتی۔ کرزما کے نظریے میں ’’ڈبل کرزما‘‘ کا تصور بھی شامل ہے۔ یہ دو کرزمیٹک شخصیات کی بات کرتا ہے، جو یا تو مل کر یا یکے بعد دیگرے کام کرتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے، جو روایتی یا قانونی-عقلی میکانزم کے ذریعے کرزما کو مستحکم اور مضبوط کرتی ہے۔ کیا دانی نے اپنی علمی کوششوں کے ذریعے ایسا کیا یا ہونے دیا؟ یہ سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی نکتہ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دانی نے آثارِ قدیمہ کو یونیورسٹی کے ایک سبجیکٹ کے طور پر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے قبل از تاریخ اور تاریخی مقامات کی کھدائی کی اور علمی مباحثوں کا مرکز رہے۔ انھوں نے عجائب گھروں کے قیام میں بھی سہولت فراہم کی۔ علمی جرائد جیسے ’’اینشنٹ پاکستان‘‘ اور ’’جرنل آف دی سولائزیشنز آف سینٹرل ایشیا‘‘ (اب ’’جرنل آف ایشین سولائزیشنز‘‘) شروع کیے گئے۔ پھر انھوں نے گلگت-بلتستان میں ’’کارل یٹمار‘‘ کے ساتھ کام کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد، شاہ راہِ ریشم کی سیاسی-ثقافتی رومانویت نے انھیں مصروف رکھا۔ ان تمام چیزوں نے دانی کو ہر جگہ نمایاں بنا دیا… لیکن کیا ہم پاکستان میں اپنی دانش ورانہ زندگیوں پر ان کا پائیدار اثر دیکھ سکتے ہیں؟
بالکل، نہیں۔
لیگسی ایک بے جان شے کی مانند نہیں، بل کہ یہ "Fluid” ہے اور ہمیشہ حرکت میں رہتی ہے۔ لہذا، میرا مشورہ ہے کہ اس کو ایک ’’عمل‘‘ (پروسیس) کے طور پر سمجھا جائے۔ یہ کسی شخص کی زندگی کے دوران میں ابتدائی حالت میں موجود ہوتی ہے اور یہ ان کے مرنے کے بعد جاری رہتی ہے۔
دانی کو اس تناظر میں دیکھیں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی علمی اور تحقیقی کاوشیں ان کے بعد زندہ نہ رہ سکیں۔ وہ ’’سنسکرت‘‘ اور ’’ایپیگرافی‘‘ کے مشہور ماہر تھے… مگر آج پاکستان میں کوئی بھی عالمی سطح پر تسلیم شدہ سنسکرت دان یا ایپیگرافسٹ نہیں ملتا۔ ان کے شروع کردہ رسالے بین الاقوامی سطح پر اُس وقت تک مقبول رہے، جب تک وہ خود علمی مباحث اور علم کی تخلیق میں سرگرم تھے۔ جس دن وہ علمی کام کرنے کے قابل نہ رہے، ان کا علمی رجیم گرنا شروع ہوگیا۔ نہ کوالیفائیڈ ایڈیٹرز رہے، نہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر معروف محققین کے مضامین ان جرائد کو چھاپنے کے لیے پیش کیے گئے۔
دانی نے پاکستانی طلبہ اور ماہرینِ آثار قدیمہ کو ان نئے آثارِ قدیمہ کے ’’پیراڈائمز‘‘ سے بھی روشناس نہیں کرایا، جو 1960 کی دہائی سے عالمی آثارِ قدیمہ میں انقلاب برپا کرچکے تھے۔ وہ کم از کم دو وجوہات کی بنا پر ایسا کرسکتے تھے:
پہلی وجہ، 1960 کی دہائی سے 1980 تک (اور حتیٰ کہ 1990 کی دہائی) وہ دور تھا، جس پر ان کی غالب موجودگی چھائی ہوئی تھی۔
دوسری وجہ، وہ اپنی بین الاقوامی رسائی اور روابط کے لحاظ سے بے مثال تھے۔
دانی کے ذاتی کتابوں کے ذخیرے سے پتا چلتا ہے کہ وہ ان نئی ’’تھیوریٹیکل‘‘ اور ’’میتھڈالوجیکل‘‘ پیش رفتوں سے کافی واقف تھے… لیکن انھوں نے پاکستانی آثارِ قدیمہ کے میدان میں اس سلسلے میں کیوں کچھ نہیں کیا؟ یہ ایک معمہ ہے، جس کو حل کرنے کا انتظار ہے۔
اس طرح کی متعدد دیگر مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
آخر میں کہنا چاہوں گا کہ دانی کے تقریباً تمام اقدامات یا تو زوال پذیر ہوئے، یا دانی کی جگہ اور عہدہ تبدیل ہونے کے بعد ان کی رفتار ترقی کھو بیٹھی۔ ان کی بنائی ہوئی اداروں، جرائد اور علمی تعاون کی مثالیں، فکری نقطۂ نظر سے دیکھیں۔ ایک طرح سے، چند ایک سکالرز کے علاوہ، کوئی نمایاں ’’ہیومن ریسورس‘‘ پیدا نہیں کیا گیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے