یومِ آزادی آتے ہی گلی کوچوں، بازاروں اور شاہ راہوں پر سبز ہلالی پرچم کے ساتھ ایک اور چیز بھی پوری آب و تاب سے نمودار ہوتی ہے: باجا!
اور ایسا ویسا باجا بھی نہیں، بل کہ ایسے باجے جن کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ صبح ہو یا شام، بازار ہو یا محلہ، گاڑی ہو یا موٹر سائیکل، ہر طرف اس سماعت خراش آواز کی ایسی یلغار ہوتی ہے کہ آدمی سوچنے لگتا ہے کہ ہم یومِ آزادی منا رہے ہیں یا سماعتوں کا امتحان لے رہے ہیں؟
اس شور پر ہر سال تنقید ہوتی ہے۔ لوگ شکایت کرتے ہیں، بزرگ پریشان ہوتے ہیں، مریض اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں اور والدین بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ دوسروں کے آرام کا بھی خیال رکھا کرو… مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی تنقید بڑھتی ہے، باجوں کی فروخت بھی اتنی ہی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ بچے ہوں یا نوجوان، باجا ہاتھ میں آتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے آزادی کی روح ان کے اندر حلول کرگئی ہو۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے: یہ محض شور ہے یا کوئی چیخ؟
ہم عام طور پر ہر مسئلے کو اس کے ظاہری پہلو سے دیکھتے ہیں۔ باجا بجا، تو شور ہوا… شور ہوا، تو بدتمیزی ہوئی… اور بدتمیزی ہوئی، تو اسے روک دینا چاہیے۔ بات بہ ظاہر درست ہے، مگر انسانی رویوں کی تہہ میں اُتر کر دیکھیں، تو معاملہ اتنا سادہ نہیں رہتا۔
انسان جب بول سکتا ہو، تو بولتا ہے… اور جب بولنے کا موقع نہ ملے، تو آواز بلند کرتا ہے… پھر جب اس کی آواز بھی نہ سنی جائے، تو وہ شور مچانے لگتا ہے۔ شاید ہمارے معاشرے میں باجے کا یہ بے ہنگم شور بھی اسی اجتماعی نفسیات کی ایک علامت ہے۔
ایک عام آدمی کو برسوں سے یہ احساس ہو کہ اس کی بات اہم نہیں، اس کی رائے کسی فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی، اس کے مسائل سننے کے لیے کوئی سنجیدہ فورم موجود نہیں اور اس کی زندگی کے بارے میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، تو اس کے اندر ایک عجیب قسم کی بے بسی جنم لیتی ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہے۔
وہ چیخ کر کہتا ہے: مجھے بھی دیکھو، مجھے بھی سنو…!
لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی میں حقیقی مکالمے کی جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم سنتے کم اور بولتے زیادہ ہیں۔ ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے، مگر دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ گفت گو آہستہ آہستہ شور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یومِ آزادی کا باجا اسی شور کی ایک علامتی صورت بھی ہوسکتا ہے۔ اسے محض بچوں کی شرارت کَہ کر نظر انداز کرنا شاید مسئلے کو بہت سطحی انداز میں دیکھنا ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس شور میں خوشی ہو، جشن ہو، بچپن کی بے فکری ہو اور قومی دن سے وابستہ جذبات کا اظہار ہو۔ آخر بچوں کو باجا بجانے میں کوئی سیاسی فلسفہ تو معلوم نہیں ہوتا… مگر معاشرتی رویوں کا ایک دل چسپ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات معصوم سرگرمیاں بھی بڑے اجتماعی رویوں کی عکاسی کرنے لگتی ہیں۔
ہم نے شاید آزادی کو بھی شور سے جوڑ لیا ہے۔ جتنا بلند نعرہ، اتنا بڑا جذبہ… جتنا زیادہ ہنگامہ، اتنا شان دار جشن۔ خاموشی، سنجیدگی اور ذمے داری کو ہم اکثر جشن کی ضد سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حال آں کہ آزادی صرف شور مچانے کا نام نہیں۔ آزادی کا ایک خوب صورت مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنی بات کہنے کا حق ہو، اختلاف کرنے کی گنجایش ہو، سوال پوچھنے کی آزادی ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے سنا جائے۔ جس معاشرے میں لوگوں کو سنا جاتا ہے، وہاں انھیں اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے ہر وقت شور نہیں مچانا پڑتا۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یومِ آزادی پر اگر ایک بچہ باجا بجا رہا ہے، تو وہ کس چیز کی خوشی منا رہا ہے؟ شاید اُس کے لیے پاکستان ایک ایسا خواب ہے، جس میں سب کچھ اچھا ہے۔ شاید وہ سبز پرچم دیکھ کر مستقبل کی امید محسوس کرتا ہے۔ شاید اُس کے لیے آزادی کا مطلب صرف خوشی، کھیل اور جشن ہے۔ ہماری ذمے داری ہے کہ اُس معصوم خوشی کو نفرت یا ممانعت کے ذریعے نہیں، بل کہ شعور کے ذریعے بہتر بنائیں۔
باجے پر پابندی لگانا آسان ہے، مگر اس رویے کے پیچھے موجود نفسیات کو سمجھنا مشکل ہے۔ شور کو خاموش کر دینا آسان ہے، مگر دل کی چیخ سننا مشکل ہے۔ ہمیں دونوں کاموں میں فرق سمجھنا ہوگا۔ یومِ آزادی ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم صرف سڑکوں پر جشن نہ منائیں، بل کہ اپنے اندر بھی جھانکیں۔ کیا ہم واقعی ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں؟
کیا عام شہری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کا برابر کا مالک ہے؟
کیا نوجوان کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں اپنا کردار نظر آتا ہے؟
کیا غریب آدمی کو یقین ہے کہ اس کی آواز ایوانوں تک پہنچ سکتی ہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب کم زور ہے، تو پھر ہمیں باجے کے شور سے زیادہ اُس خاموشی پر فکر کرنی چاہیے، جو کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بسی ہوئی ہے۔ شاید باجے کی آواز ہمیں تکلیف دیتی ہے، مگر ممکن ہے اس کے پیچھے چھپی خاموش چیخ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہو۔ اس لیے اگلی بار جب یومِ آزادی پر کوئی بچہ باجا بجائے، تو اس کے ہاتھ سے باجا چھیننے سے پہلے اُسے یہ ضرور بتائیں کہ آزادی صرف شور کا نام نہیں، ذمے داری کا بھی نام ہے… اور جب کسی عام آدمی کی آواز بلند ہو، تو اُسے شور کَہ کر دبانے کے بہ جائے ایک لمحے کے لیے رک کر سنیں۔ کیوں کہ شاید وہ شور نہیں مچا رہا۔ شاید وہ صرف یہ کَہ رہا ہے کہ خدا کے لیے مجھے بھی دیکھو، مجھے بھی سنو…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










