’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ کی خصوصیات:
کتاب کے ابتدائی بتیس (32) صفحات، جن پر صفحہ نمبر درج نہیں، مقدماتی اور تعارفی مواد پر مشتمل ہیں:
صفحہ 1 اور 2 پر اشاعتی معلومات (Print Line Information) درج ہیں۔ صفحہ 3 پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تحریر کیا گیا ہے۔ صفحہ 4 کتاب کے اشاعتی معیار کے مطابق خالی (Blank) چھوڑا گیا ہے۔ صفحات 5 تا 8 پر ڈاکٹر عبدالظاہر شکیب (ڈائریکٹر، اکیڈمی آف سائنسز آف افغانستان) کے تاثرات شامل ہیں۔ صفحات 9 تا 25 کتاب کے تفصیلی مندرجات (Table of Contents) پر مشتمل ہیں۔ صفحہ 26 خالی چھوڑا گیا ہے۔ صفحات 27 تا 29 پر مصنف کا اظہارِ تشکر شامل ہے۔ صفحہ 30 خالی چھوڑا گیا ہے۔ صفحات 31 اور 32 پر کتاب کا مختصر خلاصہ درج ہے۔ یہاں سے باقاعدہ کتاب کے بابِ اول کا آغاز صفحہ 1 سے ہوجاتا ہے۔
پہلا باب:۔ یہ باب صفحہ 1 تا 18 تعارف پر مشتمل ہے، جس میں موضوع کی اہمیت، تحقیق کے اغراض و مقاصد، ابواب کی تقسیم، طریقۂ تحقیق اور تحقیق کے دائرۂ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ مزید برآں تہذیب، تمدن، ثقافت اور کلچر جیسے بنیادی تصورات کی لغوی اور اصطلاحی تعریفیں پیش کی گئی ہیں اور ان کے باہمی تعلق کو علمی انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ باب قاری کو پورے تحقیقی کام کی نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دوسرا باب:۔ یہ باب صفحہ 19 تا 28، Literature Review پر مشتمل ہے۔ اس میں موضوع سے متعلق پہلے سے موجود تحقیقی، تاریخی اور ادبی مواد کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔
تیسرا باب:۔ اس باب، صفحہ 29 تا 86، میں سوات کی تاریخی اور جغرافیائی شناخت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں سوات کے مختلف تاریخی ناموں، محلِ وقوع، رقبے، آبادی، مختلف تہذیبوں کے آثار، یوسف زئی قبائل کی آمد، اخوند عبدالغفور، عبدالجبار شاہ کی حکومت، ریاستِ سوات کے قیام اور پاکستان کے ساتھ الحاق جیسے اہم تاریخی موضوعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
چوتھا باب:۔ یہ باب، صفحہ 87 تا 288، کتاب کے اہم ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ اس میں یوسف زئی قبائل کی آمد سے لے کر ریاستِ سوات کے قیام (1915ء) تک یعنی پہلے دور کے پشتو ادب اور ثقافت کی ارتقائی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس میں پشتو ادب کی مختلف اصناف، ادبی تحریکیں، لوک ادب، تاریخی و مذہبی ادب، رسوم و رواج، جرگہ سسٹم، زمینوں کی تقسیم، مختلف علوم و فنون اور صوفیانہ تحریکات پر بحث کی گئی ہے۔ خصوصاً بایزید انصاری المعروف بہ پیر روخان اور روخانی مکتبِ فکر کے پشتو ادب پر اثرات، سوات میں تصوف کے مختلف سلسلے، سماجی ڈھانچے اور اُس دور کے اہم شعرا و ادبا کی خدمات کا تجزیہ اِس باب کو خصوصی اہمیت عطا کرتا ہے۔
پانچواں باب:۔ پانچویں باب، صفحہ 289 تا 418، میں سوات کے ریاستی دور (1915ء-1969ء ) کے ادبی و ثقافتی ارتقا کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اِس باب میں اُس دور میں پشتو زبان و ادب کی ترقی، پشتو زبان کی تدریس، نئی ادبی تخلیقات، فتاویٰ ودودیہ، میزان الصرف اور تاریخِ فرشتہ جیسی تصانیف، سوات کی صحافت اور اخبارات، مجلات اور رسائل، مشاعرے، تعلیمی نظام، عدالتی و سیاسی نظام، صحتِ عامہ، مسجد و حجرہ، لباس و پوشاک، دست کاری اور تجارت جیسے موضوعات پر سیر حاصل گفت گُو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی دور کے نمایاں ادبا، شعرا اور دانش وروں کا تعارف بھی شامل کیا گیا ہے، جب کہ اُس دور کا سابقہ عہد کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
چھٹا باب:۔ چھٹے باب، صفحہ 419 تا 518، میں ریاستِ سوات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد (1969ء تا 2000ء) کے سماجی، ثقافتی اور ادبی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اِس باب میں اُس دور میں سماجی تبدیلیاں، سیاسی اثرات، جدید ادبی رجحانات، تحقیقی و تخلیقی ادب، منظوم مکتوبات، منظوم تاریخ، بچوں کا ادب، اسلامی ادب، تصوف، صحت و تعلیم، مغربی تہذیب کے اثرات، شادی، غمی اور دیگر رسوم اور افغان جنگ کے سواتی ادب پر اثرات کو تحقیقی اور سائنسی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ساتواں باب:۔ یہ باب، صفحہ 519 تا 590، اکیسویں صدی کے ابتدائی بارہ برسوں (2001ء تا 2012ء) پر محیط ہے۔ اس میں 21ویں صدی کا ادب و ثقافت، جدید سواتی معاشرے اور ادب کے بدلتے ہوئے رجحانات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس آخری دور کے خصوصی موضوعات میں افسانہ، ناول، ادبی تذکرے، نعتیہ ادب، تصوفی ادب، بچوں کا ادب، انگریزی ادب کے پشتو ادب پر اثرات، سائنس و ٹیکنالوجی کے ادب پر اثرات، مہمان نوازی، فنونِ لطیفہ، امن و امان کی صورتِ حال، توہمات، ترقی پسند ادب اور جدید معاشرتی رسوم شامل ہیں۔ یہ باب سوات کے جدید ادبی و ثقافتی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
آٹھواں باب:۔ آٹھویں باب، صفحہ 591 تا 600، میں پوری تحقیق کا جامع خلاصہ پیش کیا گیا ہے، جس میں پانچ صدیوں پر محیط ادبی اور ثقافتی ارتقا کو مختصر، مگر جامع انداز میں سمیٹا گیا ہے۔
صفحات 601 تا 602 پر تحقیق کے نتائج درج ہیں۔
603 تا 604 پر مصنف کی تحقیقی سفارشات شامل ہیں۔
605 تا 634 پر کتابیات (Bibliography) درج ہے، جس میں مجموعی طور پر 468 ماخذات شامل ہیں۔ ان میں 410 اردو، پشتو اور فارسی، جب کہ 58 انگریزی ماخذات شامل ہیں، جو مصنف کی گہری تحقیق، علمی دیانت اور وسیع مطالعے کا واضح ثبوت ہے۔
635 اور 636 پر ریاستِ سوات کے نقشے شامل کیے گئے ہیں۔
637 تا 703 تک ضمیمے کے عنوان سے والیِ سوات کے 66 تاریخی حکم ناموں کی اسکین شدہ نقول شامل کی گئی ہیں، جو اس تحقیق کی تاریخی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
"د سوات پختو ادب او ثقافت” کا علمی اور تحقیقی مقام:
"د سوات پختو ادب او ثقافت” محض ایک تحقیقی مقالہ یا کتاب نہیں، بل کہ سوات کی ادبی، تہذیبی، سماجی، ثقافتی اور فکری تاریخ کا ایک جامع انسائیکلو پیڈیا ہے۔ مصنف نے تقریباً 5 صدیوں پر محیط مواد کو تاریخی تسلسل، مستند حوالوں اور علمی تجزیے کے ساتھ یک جا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب سوات کی تاریخ، پشتو ادب، پشتون ثقافت، لوک روایت، سماجی علوم، تاریخ اور لسانیات کے محققین کے لیے ایک بنیادی اور ناگزیر ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
سوات کے ادبی اور ثقافتی ورثے کو سمجھنے کے لیے اگر کسی ایک جامع اور مستند کتاب کا انتخاب کرنا ہو، تو "د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ بلا شبہ اولین ترجیح قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ماضی کی ادبی و ثقافتی روایت کو محفوظ کرتی ہے، بل کہ مستقبل کے محققین کے لیے تحقیق کے نئے دروازے بھی کھولتی ہے۔
’’د سوات پختو ادب او ثقافت” کے مطالعے سے ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کی غیر معمولی محنت، علمی انہماک، تحقیقی بصیرت اور اپنے موضوع سے والہانہ وابستگی اور تحقیق کے ساتھ عشق کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب کا ہر باب، ہر عنوان اور ہر حوالہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ مصنف نے محض ایک تحقیقی فریضہ انجام نہیں دیا، بل کہ سوات کی ادبی، تہذیبی اور ثقافتی تاریخ کو محفوظ کرنے کا ایک عظیم علمی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس میدان میں حقِ تحقیق ادا کر دیا ہے۔
یہ تصنیف اپنے موضوع، وسعت، تحقیقی معیار، حوالہ جاتی استناد اور علمی تجزیے کے اعتبار سے ایک مثالی تحقیقی نمونہ ہے، جسے جامعات میں زیرِ تعلیم طلبہ، نو آموز محققین اور اعلا سطح کے ریسرچ اسکالرز کے لیے بہ طور نمونۂ تحقیق پیش کیا جاسکتا ہے۔ مصنف نے پانچ صدیوں پر محیط تاریخی، ادبی اور ثقافتی مواد کو جس منظم، سائنسی اور تحقیقی انداز میں یک جا کیا ہے، وہ پشتو تحقیقی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔
اس کتاب کی اِفادیت صرف پشتو زبان و ادب کے دائرے تک محدود نہیں بلکہ اس کے موضوع کا دامن بہت وسیع ہے۔ پشتو ادب کے اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے یہ کتاب معلومات، حوالوں اور تجزیات کا ایک بیش بہا خزانہ ہے، جو ان کی علمی و تحقیقی ضروریات کو پورا کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح تاریخ، بشریات (Anthropology)، سماجیات (Sociology)، آثارِ قدیمہ (Archaeology)، ثقافتی مطالعات (Cultural Studies) اور علاقائی مطالعات کے ماہرین کے لیے بھی یہ ایک نہایت مستند اور قابلِ اعتماد ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
سوات کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، رسوم و رواج، سماجی ڈھانچے، ادبی رجحانات اور فکری ارتقا کو سمجھنے کے خواہش مند افراد کے لیے یہ کتاب ایک راہ نما کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب کی غیر معمولی علمی اہمیت اور اِفادیت کے پیشِ نظر ڈاکٹر محمد علی دیناخیل سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ اس کا اُردو اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ شائع کیا جائے۔ اگر یہ کتاب ان دونوں زبانوں میں دست یاب ہو جائے، تو نہ صرف اردو دان طبقہ، بل کہ بین الاقوامی علمی و تحقیقی حلقے بھی سوات کی ادبی و ثقافتی تاریخ کے اس نادر ذخیرے سے استفادہ کرسکیں گے۔ اس طرح اس کتاب کی اِفادیت کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور پشتون تہذیب، سوات کی تاریخ اور پشتو ادب کے حوالے سے عالمی سطح پر تحقیق کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
بلاشبہ ’’د سوات پختو ادب او ثقافت” ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے، جو نہ صرف پشتو علمی دنیا کا قیمتی سرمایہ ہے، بل کہ سوات کی اجتماعی یادداشت، تہذیبی ورثے اور ادبی تاریخ کی حفاظت و بقا میں بھی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل نے جس محنت، دیانت اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ اس اہم موضوع پر کام کیا ہے، وہ قابلِ ستایش ہے۔ کتاب کا مطالعہ قاری کو سوات کے ماضی اور حال، اس کی ادبی روایات، ثقافتی اقدار، سماجی تبدیلیوں اور فکری ارتقا سے روشناس کراتا ہے۔
تمام اہلِ علم، طلبہ، محققین، ادبا، تاریخ دانوں اور سوات کے بارے میں مطالعہ کرنے والے قارئین کو اس کتاب کے مطالعے کی بھرپور سفارش کی جاتی ہے۔ یقیناً اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف علمی افق کو وسعت دے گا، بل کہ قاری کو سوات کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کے مختلف پہلوؤں سے بھی گہری آگاہی فراہم کرے گا۔ اگر پشتو ادب اور سوات کی تاریخ کے حوالے سے چند بنیادی اور مستند کتب کی فہرست مرتب کی جائے، تو ’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ بلا شبہ ان میں نمایاں مقام کی مستحق ہے۔
اس کتاب کو ’’کتاب کور پشاور‘‘ سے 03140051546 پر رابطہ کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اب تو جاتے ہیں میکدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










