ڈاکٹر سلطان روم صاحب ایک بین الاقوامی سطح کے معروف اور تسلیم شدہ محقق و مورخ ہیں۔ انگریزی، اُردو اور پشتو میں 8 تحقیقی کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں 4 کتابیں اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ ہیں۔ اس طرح 4 تحقیقی مونوگراف لکھے ہیں۔ بین الاقوامی اور قومی تسلیم شدہ جرائد میں ان کے 43 مقالے شائع ہوچکے ہیں۔ انھوں نے 12 مقالے مختلف کتابوں یا انسائیکلوپیڈیاز میں شائع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ عام رسائل اور جرائد میں 16 مقالے شائع کیے ہیں۔
قارئین! اس مختصر تحریر میں ڈاکٹر سلطان روم کی چیدہ چیدہ علمی و ادبی خدمات اور اُن کی لکھی ہوئی کتابوں اور بعض مقالات کا تعارف مقصود ہے۔ اُن کی علمی و ادبی خدمات اور تحقیقی کاموں کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ ڈاکٹر سلطان روم کا مختصر تعارف کرایا جائے۔
تعارف:۔
ڈاکٹر سلطان روم سوات کے نیک پی خیل علاقے، یعنی تحصیل کبل، کے ہزارہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ سکول کے ریکارڈ کے مطابق اُن کی تاریخِ پیدایش 20 اپریل 1959ء ہے، جب کہ اصل تاریخِ پیدایش 16 اپریل 1960ء ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ہزارہ سے حاصل کی۔ 1977ء میں گورنمنٹ ہائی سکول کبل سے دسویں جماعت پاس کی۔ گیارھویں جماعت میں جہانزیب کالج سوات میں داخلہ لیا، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر باقاعدہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ 1981ء میں پرائیویٹ طور پر بارھویں جماعت کا امتحان دیا اور پاس بھی کیا۔ 1983ء میں جہانزیب کالج سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ 1987ء میں کراچی یونیورسٹی سے جنرل ہسٹری میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ 2002ء میں پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ماسٹر کے بعد ملازمت کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا اور 3 نومبر 1988ء کو گورنمنٹ کالج پاڑہ چنار میں تاریخ کے لیکچرار کی حیثیت سے چارج سنبھالا۔ 27 مئی 2005ء کو پبلک سروس کمیشن کے انتخاب کے نتیجے میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی پاگئے۔ 30 مئی 2013ء کو جہانزیب کالج میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنے۔ بالآخر 20 اپریل 2019ء کو جہانزیب کالج سوات ہی سے ملازمت سے سبک دوش ہوگئے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر سلطان روم نے جہانزیب کالج میں تاریخ کا بی ایس پروگرام شروع کیا، جو پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں شعبۂ تاریخ میں شروع ہونے والا اولین بی ایس پروگرام تھا۔ وہ اپنی سبک دوشی تک جہانزیب کالج سوات کے شعبۂ تاریخ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمے داری ادا کرتے رہے۔ تحقیق میں اُن کی دل چسپی کے موضوعات میں پشتون خطے کی سیاست، سماجی زندگی، معیشت، تاریخ، ثقافت اور قدرتی وسائل شامل ہیں۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ ڈاکٹر سلطان روم صاحب نے انگریزی، اُردو اور پشتو میں متعدد کتابیں اور مقالات لکھے ہیں۔
سو انگریزی زبان میں اُن کی 4 کتابیں اور 2 ورکنگ پیپرز شائع ہوئے ہیں۔ مذکورہ چاروں کتابیں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہیں۔ مطبوعہ کتابوں کے علاوہ اُنھوں نے متعدد ملکی اور بین الاقوامی معتبر جرائد میں اپنے مقالات بھی شائع کیے ہیں اور متعدد ملکی و بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں اپنے مقالات پیش کیے ہیں۔
انگریزی میں ڈاکٹر سلطانِ روم کی چار مطبوعہ کتابیں، جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہیں، ذیل میں ان کے ٹائٹل درج کیے جارہے ہیں:
Swat State (1915-1969): From Genesis to Merger (First edition 2008, second revised edition 2025)
The North-West Frontier (Khyber Pukhtunkhwa): Essays on History (First edition 2013; 2nd revised edition 2022)
Land and Forest Governance in Swat: Transition from Tribal System to State to Pakistan (2016)
Swat Through the Millennia: From Prehistory to the Early Twentieth Century (2021)
انگریزی میں مذکورہ چار کتابوں کے علاوہ، ڈاکٹر سلطان روم نے 126 صفحات پر مشتمل ایک ورکنگ پیپر ’’فارسٹری اِن دی پرنسلی اسٹیٹ آف سوات اینڈ کالام (نارتھ ویسٹ پاکستان): اے ہسٹوریکل پرسپیکٹو آن نورمز اینڈ پریکٹسز‘‘ این سی سی آر نارتھ ساؤتھ کی جانب سے 2005ء میں، اور 154 صفحات پر مشتمل ایک اور ورکنگ پیپر ’’فارسٹ گورننس اِن ٹرانزیشن: فرام دی پرنسلی اسٹیٹ آف سوات اینڈ کالام ٹو دی اسٹیٹ آف پاکستان‘‘ بھی این سی سی آر نارتھ ساؤتھ ہی کی جانب سے 2008ء میں شائع کیا ہے۔
اس کے علاوہ، ’’مرجر آف سوات اسٹیٹ وِد پاکستان: کازز اینڈ ایفیکٹس‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر سلطان روم کا ایک اوکیژنل پیپر جنیوا کے ماڈرن ایشیا ریسرچ سینٹر سے شائع ہوا ہے۔ مزید برآں، ’’سوات: اے کرٹیکل اینالیسس‘‘ کے عنوان سے انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ اسٹڈیز، دہلی سے ایک تحقیقی مقالہ بھی جنوری 2009ء میں شائع ہوا ہے۔
سوات اسٹیٹ (1915–1969): فرام جینیسس ٹو مرجر:۔ ڈاکٹر سلطان روم کی پہلی کتاب ’’سوات اسٹیٹ (1915–1969): فرام جینیسس ٹو مرجر‘‘ ہے، جو اُنھوں نے انگریزی میں لکھی ہے۔ مذکورہ کتاب پہلی مرتبہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے 2008ء میں شائع ہوئی۔ بعد میں 2025ء میں اس کی نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن بھی شائع ہوئی۔ سوات کی ریاست کی تاریخ کے بارے میں معیاری اور معتبر کتابوں میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ اس میں متعدد دیگر موضوعات کے ساتھ سوات کا جغرافیہ، تاریخی پس منظر، سوات کی ریاست کا آغاز، توسیع، خارجہ تعلقات، ریاستی انتظام، سوات کے سماجی و ثقافتی حالات، ریاست کا انضمام اور انضمام کے بعد کے حالات جیسے اہم موضوعات ہیں۔ ان تمام موضوعات پر بنیادی ماخذوں کے حوالے سے گہری تحقیق کی گئی ہے۔
مذکورہ کتاب کا اُردو ترجمه پروفیسر احمد فواد صاحب نے کیا ہے اور اسے شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات نے شائع کیا ہے۔
دی نارتھ ویسٹ فرنٹیئر خیبر پختونخوا ایسیز ان ھسٹری:۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 2013ء اور بعد میں اس کی نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن 2022ء میں شائع ہوئی۔ یہ بھی ایک جامع کتاب ہے۔ اس میں جن بنیادی موضوعات کا نہایت علمی انداز میں تنقیدی تجزیہ کیا گیا ہے، اُن میں دیگر موضوعات کے ساتھ پشتونوں کے اصل و نسل کے بارے میں مختلف نظریات کا تنقیدی جائزہ، پشتو یا پشتونولی، برطانوی قبضہ، ڈیورنڈ لائن معاہدہ، خدائی خدمت گار تحریک، مسلم لیگ، سیاست اور تعلیم کی ترقی میں صاحب زادہ عبدالقیوم کا کردار، اور سیاست و تعلیم کی ترقی میں عبدالغفار خان کا کردار شامل ہیں۔
لینڈ اینڈ فارسٹ گورننس ان سوات: ٹرانزیشن فرام ٹرائبل سسٹم ٹو سٹیٹ ٹو پاکستان:۔ یہ کتاب ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی تیسری کتاب ہے، جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 2016ء میں شائع کیا ہے۔ اس میں جن اہم موضوعات پر تحقیق کی گئی ہے، وہ یہ ہیں: سیاسی تاریخ، زمین کی ملکیت اور اس سے متعلقہ اُمور کی تفصیل، سوات کی ریاست سے پہلے کے دور میں جنگلات کی ترقی کی حالت، والیوں کا دور اور سوات کے جنگلات، سوات کی ریاست کے انضمام کے بعد کا دور، اور کالام کا علاقہ 1947ء سے پہلے اور بعد میں۔
سوات تھرو دی میلینیا: فرام پری ھسٹری ٹو دی ارلی ٹونٹی یتھ سنچری:۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کی چوتھی کتاب ہے، جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے 2021ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے نام ہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں سوات کی قدیم تاریخ سے لے کر 20ویں صدی تک کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ سوات اور اس خطے کی تاریخ میں یہ دور بہت اہم ہے، لیکن اس پر تحقیق بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ مذکورہ دور کے بارے میں تحقیقی مواد بہت کم ہے۔ اگر کچھ مواد موجود ہے، تو وہ کتبے یا قدیم آثار کی شکل میں ہے، جن کا زیادہ تعلق آثارِ قدیمہ سے ہے۔ ڈاکٹر سلطان روم نے برسوں کی محنت اور سخت کاوشوں کے بعد مذکورہ منتشر معلومات جمع کیں اور 20ویں صدی تک سوات کے قدیم دور کی ایک مستند تاریخ لکھی۔ اگرچہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اُس دور کی تاریخ کے بہت سے پہلوؤں میں مزید کام کی گنجایش موجود ہے، تاہم پھر بھی ڈاکٹر سلطان روم کا یہ کام اور کاوش قابلِ قدر ہے اور محققین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مذکورہ کتاب میں دیگر بہت سے موضوعات کے علاوہ یونانی دور، موریہ دور، یوسف زئیوں کی آمد سے پہلے کا دور، یوسف زئیوں کا قبضہ، سماجی نظام، مغل اور سوات، خوشحال خان خٹک اور سوات، اور سوات کوہستان پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
انگریزی زبان میں لکھی گئی ان چار مطبوعہ کتابوں اور دو ورکنگ پیپرز کے علاوہ مختلف معتبر جرائد، رسائل، کتابوں اور انسائیکلوپیڈیاز میں مختلف موضوعات پر لکھے گئے مقالات کے مجموعوں پر مشتمل کتابوں اور سیمیناروں، کانفرنسوں اور ورکشاپوں کی کارروائیوں میں ڈاکٹر سلطان روم کے 75 مقالات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں 4 علاحدہ مقالہ جات، 43 مقالات مختلف جرائد میں شائع ہوئے ہیں اور 12 مقالات کتابوں اور پروسیڈنگز وغیرہ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس طرح 16 مقالہ جات مختلف رسائل اور جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔
اس طرح بین الاقوامی اور قومی تسلیم شدہ جرائد میں ڈاکٹر صاحب نے جو مقالات انگریزی زبان میں شائع کیے ہیں، اُن کے عنوانات کا اردو ترجمہ یہاں پیش کرنے جا رہا ہوں:
1) سوات کے یوسف زئیوں کا سماجی نظام۔
2) خوشحال خان خٹک: ایک افغان قوم پرست یا ایک مغل وفادار۔
3) سوات میں فوجی کارروائیوں کا قانونی پہلو: ’’ایکشنز (اِن ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن، 2011ء‘‘ کا تجزیہ۔
4) سوات کے بحرانوں کا طبقاتی جنگ کے تناظر میں مطالعہ۔
5) خوشحال خان خٹک اور سوات۔
6) سکندرِ اعظم اور سوات۔
7) مسلم دور سے قبل سوات کا مذہبی تناظر۔
8) تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی اور جمہوریت: ٹی این ایس ایم کی جمہوریت پر تنقید۔
9) سوات میں بحران اور مفاہمت۔
10) پختونوں کی اصل: مخلوط نسل کا نظریہ۔
11) 1947ء میں صوبہ سرحد میں ریفرنڈم۔
12) پختونوں کی اصل: آریائی نسل کا نظریہ۔
13) ریاستِ سوات میں تعلیم۔
14) صوبہ سرحد کی تشکیل۔
15) ریاستِ سوات کے علاقوں میں خواتین کا حقِ ملکیتِ اراضی: ریاستِ سوات کا دور اور بعد از ریاست صورتِ حال۔
16) 1897ء کی بغاوت: برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے میں قبائلیوں کی طاقت ور برطانوی اقتدار کے خلاف جد و جہد کا جائزہ۔
17) ریاستِ سوات۔
18) قبائلی نظامِ انتظام کا طریقۂ کار۔
19) سوات اور آل انڈیا مسلم لیگ۔
20) خدائی خدمت گار تحریک: آغاز سے زوال تک۔
21) ریاستِ سوات کا انتظامی نظام۔
22) پختو: پختونوں کا ضابطۂ حیات۔
23) پختونوں کی اصل: بنی اسرائیل کا نظریہ۔
24) صوبہ سرحد کا تاریخی تناظر میں جغرافیہ۔
25) لارڈ رابرٹس کی ’’فورٹی ون ایئرز اِن انڈیا‘‘: ایک جائزہ۔
26) ریاستِ سوات کے برطانوی حکومت کے ساتھ تعلقات: میاں گل عبدالودود کے دورِ حکومت کا جائزہ۔
27) معاہدۂ ڈیورنڈ لائن (1893ء): فوائد اور نقصانات۔
28) صوبہ سرحد سے متعلق آئینی ارتقا۔
29) تحریکِ خلافت اور تحریکِ ہجرت میں صوبہ سرحد کا کردار۔
30) تاریخی تحقیق میں معروضیت۔
31) مغل اور سوات۔
32) سوات میں عدالتی نظام، عدلیہ اور انصاف: ریاستِ سوات کا دور اور بعد از ریاست صورتِ حال۔
33) احادیث کے معروف مجموعے۔
34) نظام الملک طوسی اور اُن کی سیاست نامہ۔
35) ریاستِ سوات کا پاکستان کے ساتھ الحاق: اسباب اور اثرات۔
36) سوات کے پہاڑ یا آزادی کی تاریخ کے ابواب: ایک تجزیہ۔
37) بایزید انصاری، خیرالبیان اور قلندر مومند کا مقدمہ۔
38) احادیث: اہمیت، تدوین اور تنقید۔
39) سیدو بابا جی سے والیِ سوات تک: ایک تنقیدی جائزہ۔
40) بایزید انصاری اور ان کی خیرالبیان۔
41) ملاکنڈ جہاد (1897ء): ملاکنڈ اور چکدرہ سے انگریزوں کو نکالنے کی ایک ناکام کوشش۔
42) سرتور فقیر: زندگی اور برطانوی سامراج کے خلاف جد و جہد۔
43) عبدالغفور (اخوند)، سیدو بابا سوات: زندگی، خدمات اور کردار۔
جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ مختلف مقالات کے مجموعوں، کتابوں، انسائیکلوپیڈیاز اور پروسیڈنگز میں ڈاکٹر سلطان روم کے بارہ مقالات انگریزی میں شائع ہوئے ہیں۔ ان مقالات کے عنوانات کا اردو میں ترجمہ یہاں دیا جاتا ہے:
1) سوات وادی کے مقامی باشندے۔
2) صوبہ سرحد/ خیبر پختونخوا کی ریاستیں۔
3) عبدالغفور، اخوندِ سوات۔
4) تاریخی تناظر میں جنگلات کا انتظام: ریاستِ سوات اور کالام کی مثالیں۔
5) سوات کا بحران۔
6) جنگلات کی متنازع ملکیت: ضلع سوات، خیبر پختونخوا، پاکستان کا ایک مطالعہ۔
7) جنگِ آزادی 1857ء اور سوات۔
8) منتقلی کے دور میں سوات۔
9) سوات میں جنگلات کا انتظام۔
10) میاں گل عبدالودود۔
11) سوات میں زمین کی ملکیت: تاریخی اور عصری تناظر۔
12) ریاستِ سوات میں قوانین کی تشکیل میں جرگے کا کردار۔
اُردو میں ڈاکٹر سلطان روم کی ایک کتاب ’’سوات: تاریخ کے دوراہے پر‘‘ ہے، جو 2020ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب متعدد علمی مضامین پر مشتمل ہے۔ دیگر موضوعات کے علاوہ یہ کتاب سوات میں طالبان اور فوج کی آمد کے ساتھ پیدا ہونے والے خراب حالات کو سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ جیسا کہ کتاب کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے، اُس وقت سوات واقعی تاریخ کے دوراہے پر کھڑا تھا اور فیصلہ سوات کے لوگوں نے کرنا تھا کہ انھیں کس طرف جانا ہے؟
مذکورہ کتاب کے علاوہ ڈاکٹر سلطان روم نے سوات کے مقامی اخبارات، مثلاً روزنامہ چاند اور روزنامہ آزادی، میں ڈھیر سارے اُردو کالم بھی لکھے ہیں۔ اُردو اخبارات کے علاوہ اُن کی اُردو تحریریں مختلف اُردو رسالوں اور ویب سائٹس میں بھی شائع ہوئی ہیں۔ ویب سائٹس میں زما سوات ڈاٹ کام اور لفظونہ ڈاٹ کام اور باخبر سوات ڈاٹ کام پہ ڈاکٹر صاحب کے آرٹیکل موجود ہیں۔ اُردو میں مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں کی مکمل تعداد معلوم نہیں، تاہم نمونے کے طور پر چند کالموں کے عنوانات اُردو میں پیشِ خدمت ہیں:
سوات کی ریاست کا خفیہ فنڈ۔
سوات کا مثالی امن۔
پختانہ پہ جر مست یا سیاسی طور پر نا بالغ۔
سوات کے جنگلات۔
سوات کے جنگلات کی ملکیت کا تنازع۔
پاٹا کی قانونی حیثیت۔
خواتین یونیورسٹی سوات۔
تاریخی جہانزیب کالج۔
سیکیورٹی کے نام پر انسانیت کی تذلیل۔
اس طرح پشتو میں بھی ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی تین کتابیں اور متعدد علمی و تحقیقی مقالات شائع ہوئے ہیں۔ پشتو میں اُن کی پہلی کتاب ’’متلونه‘‘ ہے۔
متلونہ:۔
ڈاکٹر سلطان روم کی پشتو میں پہلی کتاب ’’متلونہ‘‘ 2013ء میں شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات کی طرف سے شائع ہوئی۔ اگرچہ ’’متل‘‘ (کہاوت) کے متعدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں، لیکن اس کتاب کی جدت یہ ہے کہ اس میں کہاوتیں اسی طرح لکھی گئی ہیں، جیسے لوگ انھیں بولتے ہیں، یعنی مقامی لہجے میں۔ ڈاکٹر سلطان روم نے تمام کہاوتیں اسی صورت میں لکھیں اور پھر ان کے ساتھ فٹ نوٹ میں معیاری لہجے کے الفاظ بھی درج کیے۔ اس حوالے سے یہ کتاب لسانیات کے فیلڈ ورک میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔
’’متلونہ‘‘ کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر کہاوت کی مختلف شکلیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ یعنی کبھی کبھی ایک کہاوت معمولی رد و بدل کے ساتھ کسی دوسرے علاقے میں مختلف انداز میں بیان کی جاتی ہے، سو اس کتاب میں بھی ایک ہی کہاوت کی مختلف شکلیں شامل ہیں۔ کہاوتوں کو جمع کرنے میں کبھی کبھی لوگ نسلی، علاقائی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر مختلف مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں، بعض کہاوتوں کو نظر انداز کرتے اور بعض کو شامل کرتے ہیں، لیکن یہاں مصنف نے بالکل غیر جانب دار رہتے ہوئے تمام کہاوتیں جمع کی ہیں۔ ایک قسم کی کہاوتیں، جن سے مصنف نے دوستوں کے مشورے پر خود کو الگ رکھا اور جنھیں شامل نہ کرنے کا اعتراف بھی کیا، وہ کہاوتیں ہیں جن میں، مصنف کے بقول، ’’غیر پارلیمانی زبان‘‘ استعمال ہوئی ہے۔
اس کتاب میں شامل کہاوتیں حروفِ تہجی کی ترتیب سے دی گئی ہیں۔ چوں کہ مصنف کا تعلق سوات سے ہے اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا، اُن کی زیادہ تر کتابیں بھی سوات پر ہیں، اس لیے یہ کہاوتیں بھی انھوں نے سوات میں فیلڈ ورک کے دوران میں جمع کیں۔ چناں چہ ڈھیر ساری کہاوتیں علاقائی اور مقامی رنگ میں رنگی ہیں، جن سے سوات کی تہذیب، ثقافت، رسم و رواج اور کئی دوسرے پہلوؤں کے بارے میں مفید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کتاب کے شروع میں مصنف نے ایک مقدمہ لکھا ہے، جس میں کہاوتوں کے ارتقا کے بارے میں گفت گو کی ہے اور خاص طور پر سوات میں طالبان اور فوجیوں کے ہاتھوں جو حالات پیدا ہوئے، اُن کے بارے میں بھی حقیقت پر مبنی باتیں لکھی ہیں۔ یہ کتاب 3483 کہاوتوں پر مشتمل ہے۔
ٹپہ:۔
’’ٹپہ‘‘ ڈاکٹر سلطان روم کی پشتو میں شائع شدہ کتابوں میں دوسری کتاب ہے۔ یہ کتاب 2018ء میں شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز، مینگورہ، سوات کی طرف سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے 336 صفحات ہیں اور اس میں کل 3289 ٹپے شامل ہیں۔
مذکورہ کتاب میں ٹپے حروفِ تہجی کی ترتیب سے لکھے گئے ہیں۔ ’’متلونه‘‘ کی طرح ’’ٹپہ‘‘ میں بھی ٹپے معیاری املا میں نہیں لکھے گئے، بل کہ اس طرح لکھے گئے ہیں، جیسے لوگ انھیں بولتے ہیں۔
اس مجموعے میں بھی مصنف نے اپنی پسند یا ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا، بل کہ جو ٹپے انھوں نے جمع کیے، انھیں لکھ دیا، تاہم کہاوتوں کی طرح یہاں بھی دوستوں کے مشورے سے ’’غیر پارلیمانی‘‘ ٹپے لکھنے سے اجتناب برتا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں ٹپوں میں جو رد و بدل نظر آتا ہے، مصنف نے اسے بھی اسی طرح لکھا ہے، اس لیے بعض مقامات پر تکرار نظر آتی ہے۔
کہاوتوں کی طرح ڈاکٹر سلطان روم کے یہ ٹپے بھی اُن کے فیلڈ ورک کا مجموعہ ہیں۔ انھوں نے انھیں گاڑیوں، دیواروں، رسالوں، مجلوں اور اخبارات کے مطالعے سے جمع کیا ہے۔ سفر کے دوران میں گاڑیوں میں کیسٹوں سے جو ٹپہ سنا، اُسے نوٹ کیا، لوگوں نے انھیں پیغامات میں جو ٹپے بھیجے، نوٹ کیے۔ بعض ٹپے انھوں نے خود بھی تخلیق کیے۔
مذکورہ کتاب کے آغاز میں مصنف نے 17 صفحات کا مقدمہ لکھا ہے، جس میں بہت سی دل چسپ باتیں اور معلومات شامل ہیں۔ اسی مقدمے میں وہ ایک جگہ پہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ سوات میاندم کی سیر کی غرض سے نکلا تھا۔ وہاں چند بچوں کو ٹپے سنانے کو کہا۔ اُن میں ایک تیسری جماعت کے طالب علم نے یہ ٹپے سنائے:
دَ غرہ دَ سرہ می راٹوپ کڑو
دَ جینکو پہ مینز کے سخے وڈرقیدمہ
مشرہ د بوسو بوساڑہ دہ
کشرے زما سرہ واخہ راوڑی دینہ
اسی دوران میں چوتھی جماعت کے ایک اور بچے نے یہ ٹپہ سنایا:
دَ سکول پہ گیٹ کی می نوکر کڑئ
دَ سکول پہ گیٹ کی ورتہ نقل گوزارمہ
ڈاکٹر سلطان روم صاحب نے لکھا ہے کہ جب انھوں نے مذکورہ بچوں کے ٹپے لکھے، تو وہ پہلے ڈر گئے، لیکن جب بچوں کو مطمئن کیا گیا، تو انھوں نے بڑی معصومیت سے کہا کہ یہ کہیں فوجیوں کو نہ دے دینا، ورنہ فوجی ہمیں پکڑ لیں گے۔
مطلب یہ کہ سوات میں فوجیوں نے لوگوں کو اتنا خوف زدہ کیا تھا کہ بچے بھی اُن سے ڈرتے تھے۔
پختون تاریخ لیکنہ: تاریخی او تنقیدی سیڑنی:۔
یہ کتاب پشتو زبان میں لکھی گئی کتابوں میں ڈاکٹر صاحب کی تیسری کتاب ہے، جو سال 2025ء میں کتاب کور پشاور سے شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں درجِ ذیل مقالہ جات یا ابواب شامل ہیں:
1) افغان، پٹھان اور پشتون۔
2) پشتون قام پرستی، شخصیات پرستی اور تاریخ۔
3) جندول کے عمرا خان اور حقائق۔
4) بایذید انصاری کی خیرالبیان اور قلندر مومند کا مقدمہ۔
5) سیدو بابا سے لے کر والیِ سوات تک: ایک تنقیدی جائزہ۔
6) سوات کے پہاڑ یا آزادی کی تاریخ کے ابواب: ایک تجزیہ۔
7) سوات: طالبان سے لے کر اولسی پاسون تک۔
8) پشتو کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور مشکلات۔
9) تاریخ دشمنی۔
پشتو میں ذکر شدہ تین کتب کے علاوہ ڈاکٹر سلطان روم صاحب کے مختلف رسالوں میں پشتو میں مقالات بھی شائع ہوئے ہیں۔ پشتو میں انھوں نے جو مقالات لکھے اور شائع کیے، اُن میں سے بعض کی تفصیل یہ ہے:
1) ’’سیدو باباجی نه تر والی سوات پورے‘‘ مجلہ پشتو، پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی، جلد 29، شمارہ 11 اور 12 (نومبر، دسمبر 1997)
2) ’’بایزید انصاری خیرالبیان او د قلندر مومند مقدمه‘‘ مجلہ پشتو، پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی، جلد 30، شمارہ 3، 4 (مارچ، اپریل 1998)
3) ’’د سوات غرونه او کہ د ازادئ د تاریخ بابونہ: یوه تجزیہ‘‘ مجلہ پشتو، پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی، جلد 30، شمارہ 11، 12 (نومبر، دسمبر 1998)
4) ’’ریاستِ سوات‘‘ مجلہ مینه، سوات، جلد دوم، شمارہ اول (اپریل، مئی، جون 2007)
5) ’’یو سو متلونہ او د ھغے پس منظر‘‘ مجلہ ماندور، مٹہ کالج سوات (2003-2004)
6) ’’د نوکری نہ د ریٹائرمنٹ پہ موقعہ دستورے تہ خبری‘‘ سالانہ علمی و ادبی مجلہ ايلم، جہانزیب کالج سوات (2020-2021)
7) ’’د جندول عمرا خان او حقائق‘‘ درے میاشتیزہ گلورین (جنوری ۔ مارچ 2025)
8) ’’تاریخ دشمنی‘‘، گلورین (اپریل۔جون 2024)
9) ’’د پختو د ودے پہ لارہ کی ستونزی او خنڈان‘‘ ماہنامہ لیکوال (فروری ۔ مئی 2024)
10) ’’افغان، پٹھان او پختون‘‘، ماہنامہ لیکوال (دسمبر 2023 ۔ جنوری 2024)
11) ’’د باچا خان سرہ زما د سفر یادداشت‘‘ ماہنامہ لیکوال (اکتوبر ۔ نومبر 2023)
12) ’’پشتون قام پرستی، اتلان پرستی او تاریخ‘‘ ماہنامہ لیکوال (جنوری 2023)
13) ’’د طالب علمانو دستورے تہ خبرے‘‘، ایلم (2022-23)
14) ’’سوات: د طالبانو نہ تر اولسی پاسون پوری‘‘، ماہنامہ لیکوال (نومبر 2022)
ڈاکٹر سلطان روم صاحب متعدد علمی و ادبی سوسائٹیوں اور اداروں کے رکن رہے ہیں اور متعدد اداروں کی تاحیات رکنیت رکھتے ہیں۔ نمونے کے طور پر چند سوسائٹیوں اور اداروں کے نام ذیل میں دیے جاتے ہیں، جن کے ڈاکٹر صاحب رکن رہے ہیں، یا اب تک رکن ہیں:
پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی — تاحیات رکن
کونسل آف سوشل سائنسز پاکستان — تاحیات رکن
پشتو ادبی بورڈ — تاحیات رکن
مختلف رسائل کے ادارتی بورڈ کے رکن
مختلف یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے بورڈ آف اسٹڈیز کے رکن
مختلف اداروں کے بورڈ آف گورنرز کے رکن
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تاریخ کے مضمون کی سب کمیٹی کے رکن
سوات ماحولیاتی تحفظ سوسائٹی کے رکن
ٹیکسٹ بک بورڈ کی نویں سے بارھویں جماعت تک اسلامی تاریخ کے مضمون کی ریویو کمیٹی کے رکن۔
جاتے جاتے چند نِکات، جو ضروری سمجھتا ہوں، رقم کرتا چلوں:
ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی زندگی، تعلیم اور تحقیق کے بارے میں بنیادی معلومات مَیں نے یکم اگست 2021ء کو ان کے دیرے میں ایک انٹرویو کے موقع پر ان ہی سے حاصل کیں۔
اس مضمون کا ابتدائی ورژن دسمبر 2022ء کے ’’پختون‘‘ رسالے میں شائع ہوچکا ہے۔
پس نوشت:۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سیدو شریف سوات کے شعبہ ’’پاکستان سٹڈیز‘‘ سے آفتاب عالم نے 2023 میں لیکچرار عبدالصمد کی نگرانی میں ’’ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی زندگی اور خدمات‘‘ کے عنوان سے بی ایس لیول کا ایک مقالہ لکھا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










