یہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کا دور تھا۔ 1664ء میں جب خوشحال خان خٹک کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں رہا کر دیا گیا، تو انھوں نے مغل حکومت کے خلاف جد و جہد کا آغاز کیا۔ 1672ء/1673ء میں جب وہ سوات آئے، تو اُس وقت سوات کی قیادت اخوند میاں نور بابا، دوست محمد المعروف انگنڑ بابا اور الہ ڈھنڈ کے الہ داد خان کے ہاتھ میں تھی۔ خوشحال خان خٹک نے اُن سے مغل حکومت کے خلاف جہاد میں شرکت کی درخواست کی، لیکن اُن تینوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ مسلمان حکم ران کے خلاف جہاد روا نہیں۔ خوشحال خان خٹک نے اپنی کتاب سوات نامہ میں مذکورہ واقعات کا ذکر کیا ہے۔
اس کے برعکس یار محمد پاپینی، جو میرے جد کے چچا زاد تھے، مہمند درہ کے ایمل خان مہمند کو مغلوں کے خلاف جد و جہد کے لیے پگڑی پہنا رہے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مغل حکومت نے اُن کے پیر سید آدم بنوریؒ کے ساتھ زیادتی کی تھی، جب کہ دوسری وجہ اُس وقت کی علاقائی سیاسی صورتِ حال تھی۔
میاں یار محمد پاپینیؒ، اخوند درویزہؒ کی کتاب مجموعۃ النادرات کے کاتب بھی تھے، انھوں نے کتابِ مذکورہ 17 اکتوبر 1677ء میں لکھی تھی۔ اسی کتاب کے اختتام پر میاں یار محمد کے دست خط بھی ہیں۔ یہ کتاب اخون درویزہؒ کے نواسے میاں ظاہر شاہ قادری (مدین، حال پشاور) کے ساتھ محفوظ ہے۔
سوات میں 1690ء تا 1849ء کا دور
1690ء سے 1849ء تک سوات ایک اہم عبوری دور سے گزرا۔ اس عرصے میں مغل سلطنت کا اثر و رسوخ بہ تدریج کم زور ہوتا گیا، جب کہ بعد ازاں درانی (افغان) حکم رانوں کی بالادستی بھی قائم رہی۔ تاہم سوات کے اندرونی معاملات زیادہ تر مختلف قبائل کے جرگوں، مقامی روایات اور مشران کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ اُس زمانے میں سوات صرف یوسف زئی قبیلے تک محدود نہیں تھا، بل کہ دیگر قبائل بھی یہاں آباد تھے اور اپنے اپنے علاقوں میں قبائلی نظام کے تحت زندگی بسر کرتے تھے۔
اُس دور میں مختلف قبائل، خصوصاً یوسف زئی اور دیگر قبائل، زمین، چراگاہوں اور مقامی اثر و رسوخ کے معاملات پر باہم تنازعات میں بھی مبتلا رہتے تھے۔ مضبوط اور بااثر قبیلہ اکثر اپنی قوت کے بل پر اپنا مؤقف منوا لیتا تھا۔ عام حالات میں طاقت ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی، جسے عوامی زبان میں ’’جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے قبائلی جرگوں کو تنازعات کے حل میں بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
قبائل کی معیشت بنیادی طور پر زراعت، مویشی بانی اور مقامی تجارت پر مشتمل تھی۔ زمین قبائلی نظام کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، اس لیے اس کی ملکیت اور تقسیم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ ہر قبیلے میں ایک تعلیم یافتہ اور قابلِ اعتماد شخص مقرر کیا جاتا تھا، جو قبیلے کا رجسٹر مرتب کرتا تھا۔ اس رجسٹر کو مقامی زبان میں ’’وھئ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس میں قبیلے کے افراد، خاندانوں، زمینوں اور دیگر متعلقہ معلومات درج کی جاتی تھیں، تاکہ ریکارڈ محفوظ رہے۔
اُس دور میں ملاکنڈ کے علاقے میں قبائلی جرگے بھی منعقد ہوتے تھے، جہاں مختلف قبائل کے اہم معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے جاتے تھے۔ خاندانی روایت کے مطابق ان جرگوں میں پاپین خیل قبیلے کی شرکت کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی، اور جب تک پاپین خیل کے نمایندے شریک نہ ہوتے، جرگے کی کارروائی شروع نہیں کی جاتی تھی۔
ہمارے خاندانی بیان کے مطابق ہمارے ٹبر میں فضل رحیم، نواسۂ بہرام شاہ قبیلے کے ’’وھئ‘‘ مرتب کرنے کی ذمے داری انجام دیتے تھے۔ خاندانی روایت کے مطابق امکان ہے کہ یہ قدیم رجسٹر آج بھی ان کے صاحب زادے ابراہیم باچا آف ہیبت گرام، ملاکنڈ کے پاس محفوظ ہو۔
1845ء میں اخوند آف سوات عبدالغفور نے مردان، چارسدہ وغیرہ میں روحانی تعلیم حاصل کرکے سوات میں مستقل رہایش اختیار کی۔ بتایا جاتا ہے کہ سوات واپسی پر انھوں نے کچھ عرصہ شموزئی میں سکونت اختیار کی۔ اس دوران میں وہ نجیگرام ابا چینہ ’’چلہ‘‘ کاٹنے آیا کرتے تھے۔ اخوند عبدالغفور کا نجیگرام کے قدرت شاہ دادا کے ساتھ تعلق تھا۔ قدرت شاہ دادا کے نواسے عبدالبصیر دادا کے مطابق، شموزئی میں سکونت کے بعد اخوند صاحب سپل بانڈئی منتقل ہوئے۔ وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد سپل بانڈئی کے میاں گان، اولادِ اخون درویزہ بابا، کے ساتھ رشتہ قائم کیا۔ اخوند صاحب سپل بانڈئی میں قیام کے بعد سیدو شریف منتقل ہوئے۔ سیدو شریف میں اخوند صاحب، پاپینی میاں گان کے امامِ مسجد بنے۔ سیدو کے پاپینی میاں گان نے اخوند صاحب کو رہایش فراہم کی۔ رفتہ رفتہ اخوند صاحب کا حلقۂ احباب بڑھتا گیا اور اہلِ سوات انھیں ایک روحانی پیر تصور کرنے لگے۔ اس سے پہلے اخوند صاحب کے طلبہ وظیفے اکٹھا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخوند صاحب نے اپنا لنگر تعمیر کیا۔ دور دراز سے لوگ لنگر میں مویشی اور اجناس جمع کرایا کرتے تھے۔
1849ء میں اخوند صاحب نے مختلف قبائل کا جرگہ منعقد کیا۔ سوات، بونیر وغیرہ کے قبائل نے محسوس کیا تھا کہ برطانوی سام راج نے پشاور تک قبضہ جمالیا تھا۔ قبائل نے اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے سر جوڑ لیے تھے اور ایک منظم حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جرگے میں اخوند صاحب نے سیتانہ، بونیر کے سید اکبر شاہ کا نام تجویز کیا، جسے جرگے نے قبول کیا، اور سید اکبر شاہ کو سیتانہ، بونیر سے لاکر سوات کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس وقت سوات کا دارالحکومت غالیگے، بری کوٹ بنا۔
1863ء میں بونیر، سوات وغیرہ کے قبائل نے امبیلہ میں انگریزوں کے ساتھ جنگ کی۔ اس جنگ میں اخوند صاحب کی شرکت نے قبائلی شرکا کو حوصلہ دیا تھا، لیکن بعد میں امن مذاکرات اور قبائل کی مبینہ شکست نے اخوند صاحب کے کردار کو مشکوک بنا دیا تھا۔
سید اکبر شاہ 1857ء تک سوات کے بادشاہ رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے مبارک شاہ نے حکم رانی کرنا چاہی، لیکن سوات کے قبائل نے انھیں قبول نہیں کیا۔ چوں کہ اخوند صاحب کا اثر و رسوخ بڑھ چکا تھا، اس لیے سید اکبر شاہ کے بعد سوات کے معاملات اخوند صاحب کے ہاتھ میں چلے گئے۔ اخوند صاحب 1877ء میں انتقال کر گئے۔ ان کے دونوں بیٹے، میاں گل عبدالحنان اور میاں گل عبدالخالق، اخوند صاحب کی مذہبی حیثیت سے ان کی درگاہ کے متولی بنے۔ ان دونوں بیٹوں نے سوات کی سیاست سے تعرض نہیں رکھا، بل کہ انھیں وہ مقام حاصل نہ تھا جو اخوند صاحب کو حاصل تھا۔
1895ء میں انگریزوں کے خلاف ملاکنڈ میں جنگ ہوئی۔ یہ جنگ ’’چرچل پیکٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس جنگ میں نجیگرام کے پاپین خیل میاں گان کے سپوت سکندر شاہ اور ان کے دو بیٹے، محبوب شاہ اور قیصر شاہ، شریک ہوئے۔ سکندر شاہ انگریزوں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ جس کا بدلہ اُسی دن اُن کے دونوں بیٹوں نے درگئی میں ایک برطانوی میجر کو جہنم واصل کرکے لے لیا تھا اور میجر کا پستول بھی ساتھ لے آئے تھے۔ چوں کہ دشمن سر پر تھا اور اُن کے بیٹے سکندر شاہ کو گاؤں لانے سے قاصر تھے، اس لیے انھیں ملاکنڈ ٹاپ پر دفن کر دیا گیا تھا۔ یہ قبر سپین شہید کے نام سے مشہور ہے۔ آج کل اس قبر پر حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ اوقاف نے ایک سبز گنبد تعمیر کیا ہے۔
اسی جنگ میں ہمارے گاؤں کے متین کاکا کے دادا اور ترکھان گھرانے کے ایک سپوت بھی شہید ہوئے تھے۔ انھیں نجیگرام لاکر دفن کیا گیا تھا۔
اسی طرح 1897ء میں سرتور فقیر کی جنگ میں سکندر شاہ کے بیٹے قیصر شاہ نے دوبارہ حصہ لیا۔ وہاں انھوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ وہ بھی ملاکنڈ ٹاپ کے قبرستان میں مدفون ہیں۔
مذکورہ دونوں جنگوں میں پاپین خیل قبیلے کے دیگر افراد نے بھی حصہ لیا تھا۔ ان جنگوں میں کئی پاپین خیل جامِ شہادت نوش کرگئے تھے۔ انھیں جلالہ کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ اس قبرستان میں جن شہدا کو دفن کیا گیا تھا، انھی قبروں کو ’’غزا کے شہدا‘‘ (د غزا شہیدان) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
سکندر شاہ کا واقعہ یہاں اس لیے ذکر کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے، جس میں ایک انگریز فوجی افسر کو اُسی وقت مار کر حساب چکتا کیا گیا تھا اور اس کا پستول بھی چھین لیا گیا تھا۔ یہ پستول کچھ عرصہ سکندر شاہ کے نواسے عالمزیب باچا کے گھر رہا۔ بعد میں سکندر شاہ کے نواسوں، بریکوٹ کے زمان خیلوں، کے گھر چلا گیا۔ ممکن ہے یہ پستول آج بھی انھی کے پاس ہو۔ اسی طرح سکندر شاہ کی تلوار، ڈھال اور ’’زغرہ‘‘ آج بھی عالمزیب باچا کے گھر محفوظ ہیں۔
اسی طرح 1877ء تا 1915ء سوات ایک بار پھر مقامی قبائلی مَلَکیوں اور آپس کی قبائلی جنگوں کی نذر ہوگیا۔ اسے ’’سوات کا دوسرا تاریک دور‘‘ کہا جاسکتا ہے۔
1915ء کے آغاز میں شامیزئی، سبوجنی اور نیکپی خیل کے علاقوں کے لوگوں نے سندکئی بابا (ولی احمد) کی سرپرستی میں نوابِ دیر کی فوج کو شکست دی۔ اس کے بعد ایک پنج رکنی جرگہ (Council/ Jirga) تشکیل دیا گیا، تاکہ آزاد شدہ علاقے کا انتظام چلایا جاسکے۔ اسی جرگے نے 24 اپریل 1915ء کو سید عبدالجبار شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ سید عبدالجبار شاہ، سید اکبر شاہ کے پوتے تھے، اس لیے اُن کی شخصیت کو قبائل کے درمیان اتحاد کی علامت سمجھا گیا۔
سید عبدالجبار شاہ نے سوات میں عشر و زکات کا نظام قائم کرنا چاہا، لیکن بعض لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ اسی طرح سید عبدالجبار شاہ پر میاں گل عبدالودود کی ایما پر سندکئی بابا کے ذریعے قادیانیت کا فتوا لگایا گیا اور وہ احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔
1917ء میں جرگے نے میاں گل عبدالودود کو سوات کا حکم ران بنایا۔ چوں کہ میاں گل عبدالودود ناخواندہ تھے، لیکن انھوں نے حکم رانی کے رموز سیکھ لیے تھے۔ انھوں نے ابتدائی اصلاحات شروع کر دیں۔
1926ء تک سوات چند علاقوں تک محدود ریاست تھا۔ چوں کہ سوات، بونیر، شانگلہ وغیرہ میں مختلف قبائلی اکائیاں آباد تھیں، اس لیے ریاستِ سوات کے جغرافیائی پھیلاو میں مشکلات پیش آئیں۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










