سانحۂ کبل اور سیاسی موقع پرستی

Blogger Suhail Sohrab

کچھ سانحات صرف جانیں نہیں لیتے، بل کہ قوموں کے ضمیر کا امتحان بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون عوام کے دکھ میں شریک ہے، کون صرف نعروں کا تاجر ہے… اور کون ہر حال میں اپنی سیاست چمکانے میں مصروف رہتا ہے؟
ضلع سوات آج جن الم ناک حالات سے گزر رہا ہے، اُن پر ہر ذی شعور انسان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کبل امن پاسون میں پولیس پر خود کُش حملہ کوئی معمولی حادثہ نہیں کہ چند دن گزرنے کے بعد اسے فراموش کر دیا جائے، بل کہ یہ ایسا سانحہ ہے، جس نے ہر حساس دل کو غم، کرب اور بے بسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہدا کے لواحقین کا دکھ، زخمیوں کی تکلیف اور پوری وادی کی سوگوار فضا اس بات کی گواہ ہے کہ سوات کے عوام ایک گہرے صدمے سے دوچار ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے، جسے عوام کے دکھ، درد اور مصیبت سے کوئی سروکار نہیں۔ انھیں صرف اپنی سیاسی نمایش اور جماعتی مفادات عزیز ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں، جو خود کو عوام کا خادم قرار دیتے ہیں، ہر موقع پر عوامی خدمت کے دعوے کرتے ہیں، لیکن کبل سوات کے الم ناک سانحے نے اُن کے دعوؤں کی حقیقت پوری قوم کے سامنے آشکار کر دی۔
ایک طرف سوات سوگ کی چادر اوڑھے ہوئے تھا، ہر گھر میں غم کی کیفیت تھی، ہر آنکھ اشک بار تھی، جب کہ دوسری طرف یہ ٹولہ ’’قیدی 804‘‘ کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر جشن منانے، رقص کرنے اور بھنگڑے ڈالنے میں مصروف تھا۔ کم از کم حالات کی نزاکت اور عوامی جذبات کا احترام ہی کرلیتے۔ انھیں سوچنا چاہیے تھا کہ جب ایک پورا ضلع غم میں ڈوبا ہوا ہو، تو ایسے وقت میں جشن اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
اس طرزِ عمل نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی کہ عوامی خدمت صرف نعروں اور تقریروں سے ثابت نہیں ہوتی، بل کہ مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے سے ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ مصیبت کے وقت اپنے ہی عوام کے احساسات کو نظر انداز کر دیں، وہ عوامی نمایندگی کے اخلاقی حق دار نہیں رہتے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام جذبات کے بہ جائے شعور، بصیرت اور حقیقت پسندی سے فیصلے کریں۔ اپنے خیرخواہوں اور محض سیاسی مفاد پرستوں میں فرق کریں… اور یہ دیکھیں کہ آزمایش کی گھڑی میں کون ان کے ساتھ کھڑا تھا اور کون انھیں تنہا چھوڑ کر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف رہا۔
قومیں صرف نعروں سے نہیں، بل کہ اجتماعی شعور سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے حالات سے سبق نہ سیکھا، تو کل ایسے ہی سانحات پر ہمارے نام پر سیاست ہوتی رہے گی اور ہمارے زخموں کو مفادات کی منڈی میں بیچا جاتا رہے گا۔
آئیں، عہد کریں کہ ہم ہر اُس فکر، ہر اُس رویے اور ہر اُس سیاست کو مسترد کریں گے، جو عوام کے دکھ پر اپنے مفادات کی عمارت کھڑی کرنا چاہتی ہے۔ یہی شہدا سے وفاداری، سوات سے محبت اور ایک باشعور معاشرے کی پہچان ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے