دسمبر 1979 کے آخری ایام میں افغانستان کی سرحدوں پر غیر معمولی سرگرمی شروع ہوچکی تھی۔ شمال کی جانب سے سوویت فوجی دستے، بکتر بند گاڑیاں، ٹینک، فضائی یونٹ اور رسد کے قافلے تیزی سے افغانستان میں داخل ہونے لگے۔ ابتدا میں کابل کے عوام کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ محدود فوجی تعاون ہے، یا ایک مکمل فوجی مداخلت… مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ حقیقت پوری دنیا پر آشکار ہوگئی کہ اب افغانستان کی جنگ ایک داخلی سیاسی بحران نہیں رہی، بل کہ سرد جنگ کا سب سے خطرناک محاذ بن چکی ہے۔
سوویت قیادت نے اس کارروائی کو اپنے اتحادی ملک کی حکومت کی مدد قرار دیا، جب کہ امریکہ، مغربی ممالک اور متعدد دیگر ریاستوں نے اسے ایک خودمختار ملک پر فوجی قبضہ قرار دیا۔ بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی اور اقوامِ متحدہ میں بھی اس پر گرما گرم بحث ہوئی… لیکن زمینی حقیقت یہ تھی کہ سوویت فوجیں اب افغانستان کے بڑے شہروں، ہوائی اڈوں اور اہم فوجی مراکز پر تیزی سے کنٹرول حاصل کر رہی تھیں۔
مداخلت کے منصوبے کا سب سے حساس حصہ کابل میں اقتدار کی تبدیلی تھا۔ سوویت قیادت نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ حفیظ اللہ امین کو اقتدار میں برقرار رکھنا اُن کے مفادات کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خفیہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، جسے بعد میں تاریخ میں ’’آپریشن اسٹورم 333‘‘ کے نام سے جانا گیا۔
27 دسمبر 1979 کی شام سوویت خصوصی دستوں اور منتخب افغان یونٹوں نے کابل کے قریب واقع تاج بیگ محل کا محاصرہ کرلیا، جہاں امین موجود تھے۔ کچھ ہی دیر بعد شدید فائرنگ، راکٹ حملوں اور عمارت کے اندر جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ محل کے محافظوں نے مزاحمت کی، لیکن سوویت خصوصی دستوں کی تربیت، جدید اسلحہ اور منصوبہ بندی کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔
چند گھنٹوں کے اندر محل پر قبضہ ہوگیا اور حفیظ اللہ امین ہلاک ہوگئے۔ اُن کی موت کی تفصیلات کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، مگر اس بات پر وسیع اتفاق ہے کہ وہ اسی کارروائی کے دوران میں مارے گئے۔ یوں صرف چند ماہ قبل اقتدار پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے والے امین بھی افغانستان کی خون آلود سیاست کا شکار بن گئے۔
اسی رات کابل ریڈیو سے ایک نئے دور کا اعلان کیا گیا۔ بیرونِ ملک موجود ببرک کارمل کو افغانستان کا نیا سربراہ قرار دیا گیا۔ چند ہی روز بعد وہ کابل پہنچے اور نئی حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی۔
ببرک کارمل نے اپنے پہلے خطاب میں اعلان کیا کہ سابق حکومت نے انقلاب کے مقاصد سے انحراف کیا تھا، بے گناہ لوگوں پر ظلم کیا تھا… اور اب ایک نئی قیادت عوام کے ساتھ مفاہمت، انصاف اور استحکام کی پالیسی اختیار کرے گی۔ اُنھوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، بعض سخت گیر پالیسیوں میں نرمی اور عوام کا اعتماد بہ حال کرنے کے وعدے کیے۔
تاہم زمینی حالات تقریروں سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھے۔ افغان عوام کے ایک بڑے حصے نے ببرک کارمل کو ایک ایسے راہ نما کے طور پر دیکھا، جو سوویت فوجوں کی مدد سے اقتدار میں آیا تھا۔ یہی تاثر اُن کی حکومت کی سب سے بڑی کم زوری بن گیا۔ اگرچہ پرچم دھڑے کو دوبارہ اقتدار میں اہم مقام ملا، لیکن خلق دھڑے کے بہت سے کارکن اور افسر اس تبدیلی سے مطمئن نہیں تھے۔
دوسری جانب دیہی افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد نے حکومت مخالف مزاحمت کو مزید تقویت دی۔ بہت سے ایسے قبائل اور مذہبی راہ نما جو پہلے صرف کابل حکومت کے مخالف تھے، اب غیر ملکی فوجی موجودگی کو بھی اپنی جد و جہد کا بنیادی جواز قرار دینے لگے۔ اس طرح مزاحمت کو ایک نیا جذبہ اور نئی وسعت ملی۔
اُسی زمانے میں مختلف اسلامی مزاحمتی تنظیمیں زیادہ منظم ہونے لگیں۔ اگرچہ اُن کے نظریات، قیادت اور سیاسی ترجیحات سب کچھ مختلف تھا، لیکن اُن کا مشترکہ مقصد سوویت افواج اور کابل حکومت کے خلاف جد و جہد تھا۔ یہی گروہ بعد میں اجتماعی طور پر ’’مجاہدین‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔
افغانستان کی جنگ اب صرف افغانوں تک محدود نہیں رہی تھی۔ پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین نے پناہ لینا شروع کی۔ سرحدی علاقوں میں مہاجر کیمپ قائم ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ کیمپ انسانی المیے کی علامت بھی بنے اور مزاحمتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بھی۔
دوسری طرف امریکہ نے اس جنگ کو ’’سرد جنگ‘‘ کے تناظر میں دیکھا۔ امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں نے مختلف ذرائع سے افغان مجاہدین کی حمایت شروع کی، جب کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی مختلف نوعیت کی مالی اور سیاسی مدد فراہم کی۔ یوں افغانستان عالمی طاقتوں کی ’’پراکسی وار‘‘ کا سب سے نمایاں میدان بنتا گیا۔
سوویت فوجی قیادت کو ابتدا میں امید تھی کہ وہ چند مہینوں میں مزاحمت ختم کرکے کابل حکومت کو مستحکم کر دے گی، لیکن افغان جغرافیہ، دشوار گزار پہاڑ، قبائلی ڈھانچا اور گوریلا جنگ کی حکمتِ عملی نے یہ اندازہ غلط ثابت کردیا۔ بڑے شہروں پر حکومت کا کنٹرول برقرار رہا، مگر دیہی علاقوں میں مزاحمت مسلسل پھیلتی گئی۔
کابل میں ببرک کارمل حکومت چلا رہے تھے، مگر اہم فوجی اور سیاسی فیصلوں میں سوویت مشیروں کا کردار نمایاں تھا۔ ناقدین نے اسی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ افغان حکومت اپنی خود مختاری کا بڑا حصہ کھوچکی تھی، جب کہ حکومت کے حامیوں کا استدلال تھا کہ بیرونی مداخلت کے بغیر ریاست کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا۔
1980 کا آغاز ہوتے ہوتے افغانستان ایک ایسے ملک میں تبدیل ہوچکا تھا، جہاں روزانہ کہیں نہ کہیں جھڑپیں، بم دھماکے، فوجی کارروائیاں یا مزاحمتی حملے ہو رہے تھے۔ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو رہے تھے، دیہات ویران ہونے لگے تھے اور ایک پوری نسل جنگ کے سائے میں پروان چڑھ رہی تھی۔ کابل کے حکم ران شاید اب بھی یقین رکھتے تھے کہ وقت کے ساتھ حالات اُن کے حق میں بدل جائیں گے، جب کہ ماسکو کو اُمید تھی کہ اپنی فوجی طاقت کے ذریعے وہ اس بحران پر قابو پالے گا۔ لیکن افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر ثابت کرنے جا رہی تھی کہ یہاں صرف فوجی قوت سے دیرپا سیاسی استحکام حاصل کرنا آسان نہیں۔
1980 کا سورج افغانستان پر ایک ایسے وقت طلوع ہوا، جب ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔ ایک طرف کابل اور چند بڑے شہر تھے، جہاں ببرک کارمل کی حکومت، افغان فوج اور سوویت افواج موجود تھیں، جب کہ دوسری طرف وسیع دیہی علاقے تھے، جہاں حکومت کی رٹ روز بہ روز کم زور ہوتی جا رہی تھی۔ پہاڑوں، دروں اور سرحدی علاقوں میں مزاحمت ایک منتشر ردعمل سے نکل کر ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر رہی تھی۔ ابتدائی مہینوں میں سوویت فوجی قیادت کو یقین تھا کہ جدید ٹینک، جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور تربیت یافتہ فوج چند ہی مہینوں میں بغاوت کو ختم کر دے گی، لیکن افغانستان کی جغرافیائی ساخت اُن کے لیے ایک غیر متوقع چیلنج ثابت ہوئی۔ ہندوکش کے دشوار گزار پہاڑ، تنگ درے، دور افتادہ دیہات اور قبائلی سماجی ڈھانچا ایسی جنگ کے لیے موزوں تھے، جس میں چھوٹے چھوٹے مسلح گروہ اچانک حملہ کرتے، نقصان پہنچاتے اور پھر پہاڑوں میں غائب ہو جاتے۔ یہی حکمتِ عملی بعد میں گوریلا جنگ کی کام یاب مثالوں میں شمار کی گئی۔ سوویت فوج بڑے شہروں، شاہ راہوں اور فوجی اڈوں پر تو کنٹرول قائم رکھتی تھی، مگر دیہی علاقوں میں اس کی موجودگی اکثر عارضی ثابت ہوتی۔ فوج کسی علاقے میں کارروائی کرتی، واپس چلی جاتی اور کچھ ہی عرصے بعد مزاحمتی گروہ دوبارہ وہاں متحرک ہو جاتے۔
اس دوران میں حکومت مخالف مختلف اسلامی جماعتیں زیادہ منظم ہوئیں۔ اُن میں نظریاتی، لسانی اور قبائلی اختلافات ضرور تھے، لیکن سب کا مشترکہ ہدف کابل کی کمیونسٹ حکومت اور سوویت فوجوں کا انخلا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ متعدد تنظیمیں نمایاں ہوکر سامنے آئیں۔ اُن میں برہان الدین ربانی کی قیادت میں قائم ’’جمیعت اسلامی‘‘ نسبتاً منظم تنظیم سمجھی جاتی تھی، جس کا اثر شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں زیادہ تھا۔ اسی تنظیم سے وابستہ ایک نوجوان کمانڈر احمد شاہ مسعود بعد میں ’’پنج شیر کا شیر‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے اور سوویت افواج کے خلاف اپنی غیر معمولی عسکری حکمتِ عملی کی وجہ سے عالمی سطح پر معروف ہوئے۔
دوسری طرف گلبدین حکمت یار کی قیادت میں حزبِ اسلامی، گلبدین گروپ ایک طاقت ور مزاحمتی قوت کے طور پر ابھری۔ حکمت یار سخت گیر موقف رکھنے والے راہ نما سمجھے جاتے تھے اور اُن کی تنظیم کو مختلف ادوار میں بیرونی حمایت بھی حاصل رہی۔ اس طرح عبدالرسول سیاف، یونس خالص، صبغت اللہ مجددی، محمد نبی محمدی اور پیر سید احمد گیلانی کی قیادت میں بھی مختلف جماعتیں سرگرم رہیں۔ ان تمام تنظیموں کے اپنے اپنے اثر و رسوخ کے علاقے، قبائلی روابط اور نظریاتی ترجیحات تھیں۔ اگرچہ یہ سب ایک مشترکہ دشمن کے خلاف برسرِ پیکار تھے، لیکن ان کے درمیان مکمل اتحاد کبھی قائم نہ ہوسکا۔ بعض اوقات وسائل، قیادت اور سیاسی مستقبل کے بارے میں اختلافات بھی سامنے آتے رہے۔ یہی اختلافات بعد میں سوویت انخلا کے بعد خانہ جنگی کی ایک بڑی وجہ بنے، اگرچہ اس مرحلے پر ان کی اولین ترجیح مزاحمت تھی۔
افغانستان کی جنگ نے جلد ہی بین الاقوامی سیاست کا رخ بھی بدل دیا۔ پاکستان اس تنازع کا سب سے اہم ہمسایہ ملک بن گیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین سرحد پار کرکے پاکستان پہنچے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مہاجرین کے بڑے بڑے کیمپ قائم ہوئے، جہاں وقت کے ساتھ لاکھوں خاندان آباد ہوئے۔ یہ انسانی بحران اپنی نوعیت کا دنیا کے بڑے مہاجر بحرانوں میں شمار ہونے لگا۔
اُس زمانے میں پاکستان کے سربراہ محمد ضیاء الحق تھے۔ اُن کی حکومت نے افغان مزاحمت کی سیاسی اور سفارتی حمایت کی۔ اس دوران میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف افغان مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ روابط قائم کیے۔ اس کردار پر مؤرخین کی مختلف آرا ہیں، مگر اس بات پر عمومی اتفاق ہے کہ پاکستان، افغانستان کی جنگ میں ایک مرکزی کردار بن گیا تھا۔
اُدھر امریکہ نے سوویت مداخلت کو سرد جنگ کے تناظر میں ایک اہم چیلنج سمجھا۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ اگر افغانستان میں سوویت اثر مزید مضبوط ہوا، تو خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت افغان مزاحمت کی مختلف شکلوں میں مدد کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک نے بھی مالی معاونت اور دیگر وسائل فراہم کیے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے مختلف اسلامی ممالک سے رضاکار بھی افغانستان آنے لگے۔ اُن میں سے کچھ صرف انسانی امداد کے لیے آئے، جب کہ بعض نے بہ راہِ راست جنگ میں حصہ لیا۔ انھی برسوں میں ایک سعودی انجینئر اسامہ بن لادن بھی افغانستان پہنچے، جہاں ابتدا میں اُن کی سرگرمیاں بنیادی طور پر مالی وسائل، تعمیراتی معاونت اور غیر ملکی رضاکاروں کی مدد سے متعلق تھیں۔ بعد کے برسوں میں اُن کا کردار ایک بالکل مختلف سمت اختیار کرگیا، مگر 1980 کی دہائی کے آغاز میں وہ ابھی عالمی سطح پر معروف شخصیت نہیں تھے۔
جنگ کا سب سے زیادہ بوجھ عام افغان عوام نے اٹھایا۔ دیہات بار بار لڑائی کا میدان بنتے، کھیت تباہ ہوتے، سکول بند ہوتے اور خاندان نقلِ مکانی پر مجبور ہو جاتے۔ لاکھوں افراد پاکستان اور ایران کی طرف ہجرت کرگئے، جب کہ لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک کے اندر بے گھر ہوگئے۔ ایک پوری نسل نے بچپن کھیل کے میدانوں میں نہیں، بل کہ پناہ گزین کیمپوں، مورچوں اور جنگ زدہ بستیوں میں گزارا۔
سوویت فوج نے مزاحمت کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں۔ ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے اور بھاری توپ خانہ استعمال کیا گیا، مگر گوریلا جنگ کے باعث فیصلہ کن کام یابی حاصل نہ ہوسکی۔ دوسری طرف مجاہدین بھی مسلسل حملے کرتے رہے، لیکن وہ بھی شہروں پر مستقل کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ یوں جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والی کش مہ کش میں بدل گئی۔
1980 کی دہائی کے وسط تک یہ واضح ہونے لگا کہ افغانستان میں کوئی بھی فریق آسانی سے فیصلہ کن فتح حاصل نہیں کرسکتا۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ جنگ مزید پیچیدہ، مہنگی اور خوں ریز ہوتی جا رہی تھی۔ کابل کی حکومت سوویت فوجی طاقت پر انحصار کر رہی تھی، جب کہ مزاحمت کو بیرونی حمایت اور مقامی جغرافیے کا فائدہ حاصل تھا۔ افغانستان اب صرف ایک ملک نہیں رہا تھا؛ وہ سرد جنگ کا استعارہ بن چکا تھا۔ واشنگٹن، ماسکو، اسلام آباد، ریاض، تہران اور دنیا کے کئی دوسرے دارالحکومتوں میں افغانستان سے متعلق فیصلے ہو رہے تھے، مگر ان فیصلوں کی قیمت سب سے زیادہ افغان عوام ادا کر رہے تھے۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










