کوکین اُن خطرناک منشیات میں شامل ہے، جسے اکثر ’’امیر لوگوں کا نشہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسے فلموں، نائٹ کلبوں، مافیا کہانیوں اور اشرافیہ کی رنگین زندگی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے… مگر حقیقت اس تصور سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین محض ایک نشہ نہیں، بل کہ اربوں ڈالر کی عالمی غیر قانونی معیشت، بین الاقوامی جرائم، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور انسانی تباہی کی ایک مکمل داستان ہے۔
کوکین دراصل ’’کوکا‘‘ نامی پودے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے، جس کی کاشت صدیوں سے جنوبی امریکہ خصوصاً کولمبیا، پیرو اور بولیویا میں ہوتی رہی ہے۔ ابتدائی زمانوں میں مقامی لوگ کوکا کے پتے تھکن کم کرنے اور توانائی بڑھانے کے لیے استعمال کرتے تھے، مگر 19ویں صدی عیسوی میں سائنس دانوں نے ان پتوں سے ایک طاقت ور کیمیکل الگ کیا، جسے ’’کوکین‘‘ کہا گیا۔ ابتدا میں مغربی دنیا میں اسے دوا کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، یہاں تک کہ بعض پرانی ادویہ اور مشروبات میں اس کے اجزا شامل ہوتے تھے… لیکن جلد ہی دنیا نے اس کے تباہ کن اثرات دیکھ لیے اور یہ ایک عالمی خطرہ قرار پائی۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد کوکین استعمال کرتے ہیں، جب کہ اس کی عالمی تجارت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ کولمبیا آج بھی دنیا میں کوکین پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کے منشیات کارٹلز جنگلات میں خفیہ لیبارٹریاں قائم کرتے ہیں، جہاں کوکا کے پتوں کو کیمیکل پراسیس سے گزار کر سفید پاؤڈر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہی زہر مختلف راستوں سے امریکہ، یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا تک پہنچتا ہے۔
کوکین کی اسمگلنگ ایک انتہائی منظم عالمی نیٹ ورک کے ذریعے ہوتی ہے۔ سمندری راستے، کنٹینر، نجی جہاز، انسانی اسمگلر، خفیہ خانوں والی گاڑیاں اور حتیٰ کہ انسانی جسم کے اندر کیپسول چھپا کر بھی یہ منشیات منتقل کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کی ایئرپورٹ سکیورٹی فورسز ہر سال سیکڑوں افراد کو گرفتار کرتی ہیں، جو اپنے معدے میں کوکین بھرے کیپسول لے کر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ منشیات فروش گروہ جدید ٹیکنالوجی، خفیہ مالیاتی نظام اور کرپشن کا استعمال کرتے ہوئے اس کاروبار کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں۔
پاکستان میں کوکین کا استعمال چرس یا ہیروئن کی نسبت کم ضرور ہے، مگر گذشتہ چند برسوں میں اس کی موجودگی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ پہلے یہ صرف بڑے شہروں کے پوش علاقوں، اشرافیہ کی تقریبات یا مخصوص حلقوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، لیکن اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی رسائی نوجوانوں اور متوسط طبقے تک بھی بڑھ رہی ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور بعض سیاحتی مقامات پر کوکین کی فروخت کے متعدد کیس سامنے آچکے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اور کسٹمز حکام وقتاً فوقتاً ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور کورئیر نیٹ ورکس سے کوکین برآمد کرتے رہتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بھی اس عالمی اسمگلنگ روٹ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
کوکین استعمال کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ سب سے عام طریقہ اسے ناک کے ذریعے سونگھنا ہے، جسے عام زبان میں ’’سنف‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعض افراد اسے پانی میں حل کرکے انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں، جب کہ ایک شکل ’’کریک کوکین‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، جسے دھوئیں کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کوکین وقتی طور پر دماغ میں خوشی، طاقت، اعتماد اور توانائی کا احساس بڑھاتی ہے، مگر یہی کیفیت انسان کو تیزی سے اس کا عادی بنا دیتی ہے۔ مسلسل استعمال سے دل کے دورے، ذہنی امراض، بے خوابی، شدید ڈپریشن، فالج اور اچانک موت تک واقع ہوسکتی ہے۔
اکثر لوگ چرس اور کوکین کو ایک ہی نوعیت کی منشیات سمجھتے ہیں، حال آں کہ دونوں میں بنیادی فرق موجود ہے۔ چرس ’’کینابس‘‘ یا بھنگ کے پودے سے حاصل کی جاتی ہے اور عموماً انسان کو غنودگی، سستی اور وقتی سکون کی کیفیت میں لے جاتی ہے، جب کہ کوکین ایک طاقت ور ’’اسٹیمولینٹ‘‘ یعنی محرک منشیات ہے، جو دماغ اور اعصابی نظام کو غیر معمولی طور پر متحرک کر دیتی ہے۔ چرس کا اثر نسبتاً دھیمی نوعیت کا ہوتا ہے، جب کہ کوکین فوری اور شدید اثرات پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے کوکین کو زیادہ خطرناک، مہنگی اور تیزی سے لت لگانے والی منشیات سمجھا جاتا ہے۔
یہ تاثر بڑی حد تک درست ہے کہ کوکین کو ’’امیر لوگوں کا نشہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کی قیمت ہے۔ پاکستان میں کوکین کی قیمت عام منشیات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ماضی میں اس کا استعمال زیادہ تر دولت مند طبقے، نائٹ لائف، شوبز اور مخصوص سوشل حلقوں سے جوڑا جاتا تھا۔ تاہم اب صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے۔ منشیات فروش گروہ نوجوانوں کو ابتدا میں مفت یا کم قیمت پر نشہ فراہم کرتے ہیں، تاکہ وہ جلد اس کے عادی ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ صرف اشرافیہ تک محدود نہیں رہی۔
پاکستانی قانون میں کوکین کی اسمگلنگ اور فروخت انتہائی سنگین جرم شمار ہوتی ہے۔ ’’کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ‘‘ کے تحت کوکین رکھنے، فروخت کرنے، خریدنے یا اسمگلنگ میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے، طویل قید اور بعض سنگین کیسوں میں عمر قید تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اگر بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوں، تو مقدمہ انسدادِ منشیات عدالتوں میں چلایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر اتنی سخت سزاؤں کے باوجود یہ کاروبار ختم کیوں نہیں ہو رہا؟
اس کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی منشیات مافیا، بدعنوانی، کم زور نگرانی اور بعض بااثر حلقوں کی مبینہ پشت پناہی ہے۔
اصل خطرہ صرف منشیات نہیں، بل کہ وہ سماجی تباہی ہے، جو اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ کوکین انسان سے اس کی صحت، ذہنی توازن، خاندانی تعلقات اور مالی استحکام سب کچھ چھین لیتی ہے۔ دنیا بھر میں جرائم، تشدد، گھریلو ٹوٹ پھوٹ اور ذہنی بیماریوں کے بے شمار واقعات منشیات کے استعمال سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ خطرہ مزید سنگین ہے، کیوں کہ یہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کوکین اور دیگر منشیات کے خلاف صرف پولیس کارروائیوں پر انحصار نہ کیا جائے، بل کہ تعلیمی اداروں، میڈیا، والدین، علما، سماجی تنظیموں اور ریاستی اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ نوجوانوں کو محض خوف زدہ کرنا کافی نہیں۔ انھیں آگاہی، ذہنی معاونت، صحت مند سرگرمیاں اور بہتر مستقبل دینا ہوگا۔ کیوں کہ جب ایک نوجوان منشیات کا شکار ہوتا ہے، تو درحقیقت پورا معاشرہ کم زور ہو جاتا ہے۔
کوکین ایک سفید پاؤڈر ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا سیاہ زہر ہے، جو خاموشی سے نسلوں کو نگل رہا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اسے صرف ’’امیروں کا شوق‘‘ سمجھ کر نظر انداز کیا، تو کل یہ آگ ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










