تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ وہ بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی ریاست کے وجود کا اولین جواز اور اس کی آئینی ذمے داری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل ’’25-اے‘‘ واضح طور پر ریاست کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکم ران طبقے نے ہمیشہ عوامی فلاح کے منصوبوں سے ہاتھ کھینچنے ہی کو اصل ’’انتظامی مہارت‘‘ سمجھا ہے۔ اسی سوچ کے تحت اب سرکاری سکولوں کی نج کاری کا ایک ایسا فیصلہ کیا جا رہا ہے، جسے کسی بھی طور تعلیم دوست یا عوام دوست نہیں کہا جاسکتا۔ امسال 200 سرکاری سکولوں کو ’’آؤٹ سورس‘‘ کرنے یعنی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ دراصل غریب عوام کے سروں پر تعلیمی پس ماندگی کا کلھاڑا چلانے کے مترادف ہے۔ حکومت اپنی اس بنیادی آئینی ذمے داری سے پیچھا چھڑا کر نجی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے، جس کے بھیانک نتائج ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑیں گے۔
جب بھی سرکاری اداروں کی نج کاری کی بات ہوتی ہے، تو معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ، جو ’’بغضِ معلم‘‘ میں مبتلا ہے، خوشی کے شادیانے بجانے لگتا ہے۔ اس طبقے کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے اساتذہ کو سزا ملے گی اور نظام سدھر جائے گا… لیکن یہ اُن کی خام خیالی اور سطحی سوچ ہے۔ حقیقت پسندانہ نظر دوڑائی جائے، تو اس فیصلے سے آج کے سرکاری استاد کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اُن کی ملازمتیں، اُن کی تن خواہیں اور اُن کے مراعات قانونی طور پر محفوظ ہیں۔ اس فیصلے کا اصل نقصان اُس استاد کو نہیں، بل کہ اُس غریب بستی کے بچے کو ہوگا، جس کے پاس پڑھنے کے لیے سرکاری سکول کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ یہ فیصلہ استاد کو سزا دینے کے لیے نہیں، بل کہ غریب کی جیب پر ڈاکا ڈالنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس پر خوش ہونے والے دانش وروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسی کو کاٹ رہے ہیں۔
اس تعلیمی نج کاری کا سب سے ہول ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے بعد ہماری آیندہ نسلوں میں کوئی بھی سرکاری ملازم پیدا نہیں ہوسکے گا۔ جب سرکاری اسکول ہی ختم ہو جائیں گے اور تعلیم ایک مہنگا کاروبار بن جائے گی، تو غریب کا بچہ اعلا ملازمتوں کے خواب ہی دیکھنا چھوڑ دے گا۔ مقابلے کے امتحانات اور اعلا سرکاری عہدے صرف ایک مخصوص اور مراعات یافتہ طبقے کی جاگیر بن کر رہ جائیں گے۔
دوسری طرف، اس فیصلے کا دوسرا بڑا شکار ہمارا اعلا تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بنے گا۔ پہلے ہی ملک میں بے روزگاری کا طوفان ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایم اے، ایم ایس سی اور ایم فل پاس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان نجی اسکولوں کے مالکان کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ جہاں انھیں 10 سے 20 ہزار روپے کی معمولی اور شرم ناک تن خواہ پر صبح سے شام تک بیگار کرنی پڑے گی۔ یہ باعزت روزگار کی فراہمی کے بہ جائے نوجوانوں کے استحصال کا ایک نیا اور قانونی راستہ کھولنے کی کوشش ہے۔
ہمیں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں غربت اس نہج پر پہنچ چکی ہے، جہاں والدین کی اکثریت اپنے بچے کو روزانہ 20 روپے جیب خرچ دینے سے بھی قاصر ہے۔ وہ مزدور، وہ دہاڑی دار اور وہ ریڑھی بان جو صبح سے شام تک خون پسینہ بہا کر بہ مشکل دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتا ہے، وہ ان نجی اسکولوں کی باقاعدہ ماہانہ فیسیں کہاں سے ادا کرے گا؟ جب سرکاری سکول نجی ہاتھوں میں چلے جائیں گے، تو وہ فلاحی ادارے نہیں رہیں گے، بل کہ منافع کمانے والی دکانیں بن جائیں گے۔ ایسے میں غریب کا بچہ اسکول کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جائے گا اور ’’چائلڈ لیبر‘‘ یعنی کم عمری کی مزدوری میں ایک ہول ناک اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
یہاں یہ سوال اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ سرکاری اسکولوں کی نج کاری، تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کی جا رہی ہے یا یہ غریب اور مڈل کلاس طبقے کے بچوں سے سستی تعلیم اور نوجوانوں سے باعزت روزگار چھیننے کے مترادف ہے؟ جواب بالکل واضح ہے۔ اگر حکومت واقعی تعلیمی نظام کو بہتر بنانا چاہتی، تو وہ بجٹ میں تعلیم کا حصہ بڑھاتی، اسکولوں کی حالتِ زار درست کرتی، اساتذہ کی تربیت کا انتظام کرتی اور نگرانی کے نظام کو سخت کرتی۔ اداروں کو بہتر بنانے کے بہ جائے انھیں بیچ دینا یا نجی شعبے کے حوالے کر دینا کسی بھی طور دانش مندی نہیں، بل کہ اپنی نااہلی کا اعتراف ہے۔ یہ نظام کی بہتری نہیں، بل کہ غریب دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔ تعلیم کی نج کاری کا مطلب ایک پوری نسل کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنا ہے۔ اگر آج ہم نے اس فیصلے کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارے بچے ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ سرکاری سکولوں کی نج کاری کو روکنے کے لیے معاشرے کے ہر فرد، خواہ وہ والدین ہوں، اساتذہ ہوں، طلبہ ہوں یا سول سوسائٹی کے ارکان، سب کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ باور کرانا ہوگا کہ تعلیم کوئی بکنے والی جنس نہیں، بل کہ ریاست کا فرض اور شہریوں کا حق ہے۔ اس تعلیمی شب خون کے خلاف ایک توانا آواز اٹھانا ہم سب کا قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










