منشیات اور ریاستی بے بسی

Blogger Comrade Sajid Aman

پاکستان اس وقت جن بڑے داخلی خطرات سے دوچار ہے، اُن میں منشیات سرفہرست ہیں۔ یہ محض ایک سماجی برائی یا اخلاقی مسئلہ نہیں، بل کہ قومی سلامتی، معیشت، خاندانی نظام اور نوجوان نسل کے مستقبل کے خلاف ایک منظم حملہ ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان کے تعلیمی ادارے، گلی محلے، پارکس، ہاسٹلز اور حتیٰ کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی منشیات فروشوں کی پہنچ سے محفوظ نہیں۔ آئس، ہیروئن، چرس، افیون، کوکین، شیشہ، نشہ آور گولیاں اور کیمیکل ڈرگز ایک ایسی خاموش جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، جس میں روزانہ سیکڑوں نوجوان ذہنی، جسمانی اور اخلاقی موت مر رہے ہیں۔ خاندانی نظام بکھر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) اور پاکستان اینٹی نارکوٹکس فورس کی مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد کسی نہ کسی شکل میں نشے کے عادی ہیں، جب کہ نوجوانوں میں آئس اور مصنوعی کیمیکل منشیات کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چرس منشیات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نشہ ہے، اس کے بعد ہیروئن، افیون، آئس اور سکون آور ادویہ کا نمبر آتا ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آئس کا استعمال ’’فیشن‘‘ اور ’’اسٹیٹس سمبل‘‘ کے طور پر پھیل رہا ہے، جس نے والدین، اساتذہ اور سماجی ماہرین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کی 2024 کی کارروائیوں کے مطابق ملک بھر میں ہزاروں چھاپوں کے دوران میں سیکڑوں میٹرک ٹن منشیات برآمد کی گئیں، جب کہ ہزاروں ملزمان گرفتار ہوئے۔ ان کارروائیوں میں ہیروئن، چرس، آئس، کوکین اور نشہ آور ادویہ شامل تھیں… مگر سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی مقدار پکڑی جا رہی ہے، تو پھر وہ اصل حجم کتنا ہوگا جو مارکیٹ تک پہنچ رہا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو ریاستی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
پاکستان میں منشیات کی آسان دست یابی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں افغانستان کئی دہائیوں تک دنیا میں افیون کی سب سے بڑی پیداوار کا مرکز رہا۔ غیر محفوظ سرحدیں، اسمگلنگ کے غیر قانونی راستے اور بین الاقوامی منشیات مافیا اس کاروبار کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض سرحدی علاقے اسمگلنگ کے لیے طویل عرصے سے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات مقامی سہولت کار، بدعنوان اہل کار اور سیاسی سرپرستی بھی اس ناسور کو جڑیں مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ غربت، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ ہے۔ ایک ایسا نوجوان جس کے پاس روزگار نہ ہو، مستقبل غیر یقینی ہو، معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہو اور گھریلو ماحول ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، وہ آسانی سے نشے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ منشیات فروش گروہ خاص طور پر ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو نفسیاتی تنہائی یا معاشی مسائل کا شکار ہوں۔ ابتدا ’’دوستی‘‘ سے ہوتی ہے، پھر مفت نشہ دیا جاتا ہے اور بعدازاں وہی نوجوان اس جال کا مستقل شکار بن جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے بھی منشیات کے کاروبار کو خطرناک حد تک آسان بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا، خفیہ چیٹس، آن لائن ادائی اور ہوم ڈیلیوری کے ذریعے اب منشیات کی خرید و فروخت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ شہروں میں آئس اور دیگر کیمیکل ڈرگز کی سپلائی اب صرف جرائم پیشہ علاقوں تک محدود نہیں رہی، بل کہ پوش علاقوں، نجی جامعات اور نوجوانوں کی تقریبات تک پہنچ چکی ہے۔
اس صورتِ حال میں سب سے پہلی ذمے داری معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔ والدین اگر صرف بچوں کی تعلیمی کام یابی پر توجہ دیں اور اُن کی ذہنی کیفیت، دوستوں اور روزمرہ معمولات سے غافل رہیں، تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بچوں کو وقت دینا، اُن سے مکالمہ کرنا اور اُن کے مسائل کو سننا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط گھر ہی منشیات کے خلاف پہلی دفاعی دیوار بن سکتا ہے۔
اساتذہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کی نفسیاتی تبدیلی سب سے پہلے محسوس کرسکتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں انسدادِ منشیات آگاہی پروگرام، کونسلنگ سینٹرز اور اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے بیش تر تعلیمی ادارے محض امتحانی نتائج تک محدود ہوچکے ہیں، جب کہ کردار سازی اور ذہنی تربیت نظر انداز کی جا رہی ہے۔
صحافت کی ذمے داری محض منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی خبریں شائع کرنا نہیں، بل کہ اس پورے نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچنا ہے۔ ایک ذمے دار صحافی کو یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ آخر تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات کیسے پہنچتی ہیں؟ کون لوگ ان کاروباروں کی پشت پناہی کرتے ہیں؟ کیوں بعض بڑے کردار قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں؟ تحقیقاتی صحافت اس ناسور کے خلاف ایک مؤثر ہتھ یار بن سکتی ہے۔
علمائے کرام اور مذہبی قیادت بھی اس جنگ میں اہم ستون ہیں۔ اسلام انسانی عقل، جان اور اخلاق کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔ جمعہ خطبات، دینی اجتماعات اور مذہبی فورمز پر منشیات کے خلاف مسلسل آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو صرف خوف نہیں، بل کہ اخلاقی شعور اور زندگی کا مقصد دینا ہوگا۔
سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بہ حالی مراکز، نفسیاتی معاونت، نوجوانوں کے لیے کھیل اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات وہ اقدامات ہیں، جو ہزاروں زندگیاں بچاسکتے ہیں۔ نشے کے عادی افراد کو محض مجرم سمجھنا مسئلے کا حل نہیں؛ انھیں علاج، بہ حالی اور دوبارہ معاشرے میں جگہ دینے کی ضرورت ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر تھانوں کی حدود میں منشیات کھلے عام فروخت ہو رہی ہوں، تعلیمی اداروں کے باہر ڈیلرز سرگرم ہوں اور مقامی سطح پر لوگوں کو سب معلوم ہو، مگر کارروائی نہ ہو، تو عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ انسدادِ منشیات کے لیے صرف نمایشی آپریشن نہیں، بل کہ مستقل، غیر جانب دار اور سخت کارروائی درکار ہے۔ قانون کی گرفت اگر صرف کم زور افراد تک محدود رہے اور بڑے کردار محفوظ رہیں، تو یہ جنگ کبھی نہیں جیتی جاسکتی۔
ریاست کی ذمے داری سب سے زیادہ ہے۔ حکومت کو سرحدی نگرانی مضبوط کرنا، منشیات فروشوں کے مالی نیٹ ورکس توڑنا، تعلیمی اداروں کو محفوظ بنانا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بہ حالی مراکز کی تعداد بڑھانا ہوگی۔ ایک ایسی قومی پالیسی درکار ہے، جو محض بیانات نہیں، بل کہ عملی اقدامات پر مبنی ہو۔ کیوں کہ جب نوجوان نسل تباہ ہو جائے، تو کوئی معیشت، کوئی سیاست اور کوئی ترقی قوم کو بچا نہیں سکتی۔
منشیات دراصل ایک خاموش دہشت گردی ہے۔ یہ بندوق کے بغیر نسلوں کو مفلوج کر دیتی ہے، خاندانوں کو توڑ دیتی ہے اور معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کھوکھلی کر دیتی ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو محض وقتی خبر سمجھ کر نظر انداز کیا، تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست، معاشرہ، والدین، اساتذہ، میڈیا، علما اور نوجوان سب ایک مشترکہ محاذ بنائیں۔ کیوں کہ منشیات کے خلاف یہ جنگ دراصل پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے