ڈاکٹر علی شریعتی (زندگی اور جدوجہد)

Blogger Comrade Sajid Aman

بیسویں صدی کی مسلم دنیا میں اگر چند شخصیات نے مذہب، سیاست اور سماج کے باہمی رشتے کو نئی معنویت عطا کی ہے، تو اُن میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر علی شریعتی کا ہے۔
شریعتی محض ایک استاد یا مصنف نہیں تھے، بل کہ ایک ایسی فکری تحریک تھے، جس نے ایران کی نوجوان نسل کے ذہنوں میں سوال، احتجاج اور بیداری کی ایک تیز لہر پیدا کی اور اسے ایک بلند شعلے میں تبدیل کر دیا۔ ان کے لیکچر اور تحریریں بعد ازاں آنے والے انقلابِ ایران کی فکری فضا کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ شریعتی نے مذہب کو محض روحانی یا فردی معاملہ نہیں سمجھا، بل کہ اسے ظلم، استبداد اور طبقاتی ناانصافی کے خلاف ایک زندہ اور متحرک نظریے کے طور پر پیش کیا۔
شریعتی پی ایچ ڈی تھے۔ وہ عام مذہبی طبقات کی طرح پگڑی یا ٹوپی نہیں پہنتے تھے، بل کہ سوٹ، ٹائی اور ہاتھ میں سگار لیے مغربی لباس میں بھی اپنی تہذیبی اساس پر فخر کرنے والے فرد تھے۔ مغرب زدہ ایرانی نوجوانوں میں ایرانی شناخت پر شرمندگی کے بہ جائے فخر کرنا اُنھوں نے سکھایا۔
1933ء میں ایران کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر علی شریعتی کی ابتدائی تربیت اُن کے والد محمد تقی شریعتی کے زیرِ اثر ہوئی، جو خود ایک مذہبی مفکر اور اُستاد تھے۔ اسی ماحول میں شریعتی کے اندر مطالعے، سوال کرنے اور تاریخ کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا۔ بعد ازاں وہ اعلا تعلیم کے لیے فرانس گئے، جہاں پیرس کی فکری فضا نے اُن کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ یہ آج کا فرانس نہیں تھا، بل کہ وہ فرانس تھا، جو انقلاب کی بھٹی سے گزر چکا تھا، جہاں دنیا بھر کے فلاسفر اور انقلابی موجود تھے، الجزائر کی آزادی کی تحریک چل رہی تھی اور وہ اُس میں شامل ہو کر گرفتار ہوئے اور کچھ مہینے فرانس کی قید میں بھی رہے۔
فرانس ہی میں اُنھوں نے مغربی فلسفے، سماجیات اور انقلابی تحریکوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ خاص طور پر کارل مارکس کی تحریروں سے بھی واقفیت حاصل کی۔ شریعتی نے مارکس ازم کو بہ طور نظریہ مکمل طور پر قبول نہیں کیا، اور اس کی وجہ وہ خود تھے۔ اُس دور میں کارل مارکس کے فلسفے نے ہر سوچنے والے کو متاثر کیا تھا۔ شریعتی نے ایک منفرد فیصلہ کیا: اُنھوں نے قرآنِ کریم کو مارکسی نظریات کی روشنی میں پڑھنا شروع کیا۔ وہ مارکس سے بہت حد تک ہم آہنگ ہوئے، مگر ’’مذہب ایک افیون ہے‘‘ کے تصور سے اختلاف کیا۔ اُنھوں نے مذہب کی موجودہ صورت پر تنقید کی، مگر اس کی روح کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔
ڈاکٹر علی شریعتی نے سوشل ازم اور اسلام کو اس حد تک قریب قرار دیا کہ جلیل القدر صحابی حضرت ابوذر غفاریؓ کو دنیا کا پہلا اصلاح پسند قرار دیا۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام میں چھپے طبقاتی استحصال اور سماجی ناانصافی کو بے نقاب کیا۔ شریعتی کے نزدیک اسلام بھی دراصل اسی طرح ظلم کے خلاف ایک انقلابی دعوت ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مارکس نے ہمیں بتایا کہ معاشرے میں ظلم کیسے پیدا ہوتا ہے، مگر انبیا ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اُس ظلم کے خلاف کھڑا کیسے ہونا ہے!
ایران واپس آنے کے بعد ڈاکٹر علی شریعتی نے تدریس اور خطابت کا سلسلہ شروع کیا اور جلد ہی اُن کی آواز نوجوانوں کے لیے ایک نئی امید بن گئی۔ خاص طور پر تہران کے ادارے الحسینی ارشاد میں اُن کے لیکچر ہزاروں نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اُن کی گفت گو میں تاریخ، مذہب، فلسفہ اور سیاست اس طرح یک جا ہو جاتے تھے کہ سامعین کو پہلی بار محسوس ہوتا تھا کہ اسلام صرف ماضی کی روایت نہیں، بل کہ حال اور مستقبل کی جد و جہد کا نام بھی ہے۔ شریعتی کی تحریروں میں ایک خاص ولولہ اور ادبی رنگ بھی تھا، جس نے انھیں ایک غیر معمولی مقرر اور مصنف بنا دیا۔
ڈاکٹر علی شریعتی کی فکر کا سب سے نمایاں تصور ’’سرخ تشیع‘‘ تھا، جسے اُنھوں نے اپنی کتاب ’’سرخ تشیع بمقابلہ سیاہ تشیع‘‘ (Red Shi’ism vs Black Shi’ism) میں واضح کیا۔ اُن کے نزدیک تشیع کی اصل روح وہ انقلابی روایت ہے، جو ظلم کے خلاف مزاحمت اور قربانی کی علامت ہے، اور جس کی سب سے بڑی مثال حسین ابنِ علیؓ کی کربلا میں نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر شریعتی کے نزدیک کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں، بل کہ ایک دائمی پیغام ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کی تائید کے مترادف ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق اور باطل کی کش مہ کش تاریخ کا مستقل حصہ ہے اور ہر دور کے انسان کو اپنا موقف طے کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی کے نزدیک ’’سیاہ تشیع‘‘ شامِ غریباں، رنج و الم، آہ و بکا اور ماتم کی طرف مائل کرتا ہے، جب کہ ’’سرخ تشیع‘‘ ظلم، ناانصافی اور ناہم واری کے خلاف انقلاب پر آمادہ کرتا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی کی فکر کا ایک اہم پہلو مروجہ مذہبی ڈھانچوں پر اُن کی تنقید بھی تھا۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ مذہب کو طاقت ور طبقوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب مذہب عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے، تو وہ آزادی اور انقلاب کی قوت بن جاتا ہے، لیکن جب وہ حکم رانوں اور مفاد پرست طبقات کے ہاتھ میں چلا جائے، تو وہ جمود اور اطاعت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے وہ کہتے تھے کہ سب سے خطرناک استبداد وہ ہے، جو مذہب کے لبادے میں آتا ہے۔ اُن کی یہ باتیں ایران کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا باعث بھی بنیں، مگر نوجوان نسل کے لیے مذکورہ باتوں میں ایک تازگی اور سچائی کا احساس موجود تھا۔
ڈاکٹر علی شریعتی بہ یک وقت شاہِ ایران، اشرافیہ اور مذہبی طبقات کے لیے ایک چیلنج بن گئے۔ اشرافیہ اُنھیں مولوی کہتی، اور مولوی اُنھیں ملحد قرار دیتے۔ اُن کی فکری دنیا پر برصغیر کے فارسی زبان کے شاعر علامہ محمد اقبالؔ کا اثر بھی واضح تھا۔ وہ اقبالؔ کو اسلامی بیداری کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے تھے اور اُن کی فکر کو مسلم نوجوانوں کے لیے ایک روحانی اور فکری محرک سمجھتے تھے۔ اُن کے نزدیک اقبالؔ کی ’’خودی‘‘ دراصل انسان کی آزادی، خود آگہی اور تخلیقی قوت کی علامت تھی۔ اسی لیے شریعتی کی تحریروں میں بھی انسان کی ذمے داری، شعور اور عمل پر خاص زور ملتا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، شاہی حکومت کے لیے تشویش کا باعث بن گئی۔ اُس وقت ایران پر محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی، جس میں ہر وہ آواز جو سماجی یا سیاسی بیداری پیدا کرے، خطرہ سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے ڈاکٹر شریعتی کو کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ اُنھوں طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں… مگر جیل کی دیواریں بھی اُن کی فکر کو روک نہ سکیں۔ اُن کے لیکچر اور تحریریں خفیہ طور پر نوجوانوں میں پھیلتی رہیں اور ایک پوری نسل کے ذہنوں میں سوال اور بغاوت کا شعور پیدا کرتی رہیں۔
1977ء میں جب وہ قیدِ تنہائی اور نظر بندیوں سے رہا ہوئے، تو حالات اس قدر سخت ہوچکے تھے کہ اُنھیں ایران چھوڑنا پڑا۔ وہ انگلستان چلے گئے، مگر وہاں پہنچنے کے چند ہی ہفتوں بعد لندن میں اُن کی اچانک موت واقع ہوگئی۔ بہت سے لوگوں نے اس موت کے پیچھے شاہی حکومت کے خفیہ ادارے ’’ساواک‘‘ (SAVAK) کا ہاتھ قرار دیا، اگرچہ اس کا کوئی حتمی ثبوت کبھی سامنے نہیں آسکا۔ یوں صرف 44 برس کی عمر میں ایک ایسی آواز خاموش ہوگئی، جس نے ہزاروں ذہنوں کو بیدار کیا تھا۔
ڈاکٹر علی شریعتی نے اپنے پیچھے ایک وسیع فکری ورثہ چھوڑا۔ اُن کی کتابیں، جیسے "Religion vs Religion”, "Hajj” اور "Fatima is Fatima” آج بھی مسلم دنیا میں پڑھی جاتی ہیں۔ اُن کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ مذہب اگر زندہ رہنا چاہتا ہے، تو اسے مظلوموں کی آواز بننا ہوگا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر تم ظلم کے مقابلے میں غیر جانب دار رہتے ہو، تو دراصل تم ظالم کے ساتھ کھڑے ہو۔
آج نصف صدی گزرنے کے باوجود شریعتی کی فکر اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے مذہب کو ماضی کے مزار سے نکال کر حال کی جد و جہد کے میدان میں لاکھڑا کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں آج بھی نوجوان ذہنوں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا مذہب صرف عبادات اور رسومات کا نام ہے، یا وہ ایک ایسی قوت بھی ہوسکتا ہے، جو انسان کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت دے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی زندگی اور فکر اسی سوال کی ایک مسلسل جست جو کا نام ہے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) کارل مارکس (Karl Marx):۔ ایک ایسے جرمن فلسفی، ماہرِ معاشیات اور انقلابی مفکر تھے، جنھوں نے سرمایہ داری کے نظام کو طبقاتی جد و جہد کے تناظر میں سمجھایا اور اس کے خاتمے کے بعد مزدور طبقے کی حکومت یعنی کمیونزم کی پیش گوئی کی۔ وہ فریڈرک اینگلز کے ساتھ مل کر "Communist Manifesto” اور "Das Kapital” جیسے اہم کام لکھنے کے باعث مشہور ہیں۔
2) سوشل ازم (Socialism) یہ ایک معاشی و سیاسی نظریہ ہے، جو دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتا ہے۔ اس میں پیداوار کے ذرائع (کارخانے، زمین، صنعت) کو اجتماعی یا ریاستی ملکیت میں رکھنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ طبقاتی فرق کم ہو اور ہر فرد کو بنیادی سہولتیں اور مواقع برابر ملیں۔ سوشل ازم، سرمایہ داری کے مقابلے میں زیادہ مُساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نظریہ دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں نافذ کیا گیا ہے، جیسے فلاحی ریاستیں یا مکمل ریاستی کنٹرول۔
3) سرخ تشیع (Revolutionary or Red Shi’ism):۔ یہ دراصل ایک فکری اصطلاح ہے، جو بالخصوص ڈاکٹر علی شریعتی نے استعمال کی۔ اس کا مقصد تشیع کو ایک انقلابی، جد و جہد پر مبنی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے مکتب کے طور پر پیش کرنا تھا۔ یہ تصور تشیع کو محض رسوماتی یا درباری مذہب کے بہ جائے ایک زندہ، متحرک اور سماجی انصاف کے علم بردار نظریے کے طور پر بیان کرتا ہے۔
4) سیاہ تشیع (Clerical/ Traditional or Black Shi’ism):۔ یہ وہ اصطلاح ہے، جو علی شریعتی نے ’’سرخ تشیع‘‘ کے مقابلے میں استعمال کی۔ اس سے مراد وہ تشیع ہے، جو محض رسومات، ظاہری عبادات اور درباری مذہب تک محدود ہو جائے اور ظلم کے خلاف عملی جد و جہد سے دور ہو۔
5) ساواک (SAVAK):۔ ایران کی خفیہ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسی تھی، جو 1957ء میں شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد سیاسی مخالفین پر نظر رکھنا، حکومت مخالف سرگرمیوں کو دبانا اور ریاستی کنٹرول کو مضبوط کرنا تھا۔ ساواک کو سخت سنسرشپ، تشدد اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے بدنامی ملی۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ ادارہ ختم کر دیا گیا۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے