کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام میں سیاسی جماعتیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعت محض چند افراد کے گروہ کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک ایسے منظم ادارے کا نام ہے، جہاں ہم خیال لوگ ایک مخصوص نظریے اور ضابطۂ اخلاق کے تحت اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک مثالی سیاسی جماعت وہ ہے، جس کا ڈھانچا جمہوری بنیادوں پر استوار ہو اور جہاں فیصلے چند افراد کی پسند ناپسند کے بہ جائے مشاورت اور اجتماعی دانش سے کیے جائیں۔ سیاسی جماعت کا اصل حسن اُس کے اندرونی نظام میں پوشیدہ ہوتا ہے، جہاں ادنا کارکن سے لے کر اعلا قیادت تک سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں اور اُن کے درمیان مکمل ذہنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ جب تک کسی جماعت کے کارکن اور سربراہ کے خیالات میں مطابقت نہ ہو، وہ جماعت ایک اکائی کے طور پر کام نہیں کرسکتی۔
سیاسی جماعتوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اُن کے پاس ہر سطح کی ذمے داری نبھانے کے لیے تربیت یافتہ رجال کار موجود ہوں۔ یہ ایک تسلسل کا عمل ہے، جس میں قیادت کی نرسری تیار کی جاتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے جماعت کا سربراہ منظر نامے سے ہٹ جائے، تو نظام میں کوئی خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے، بل کہ پہلے سے موجود تربیت یافتہ قیادت مشن اور نصب العین کے حصول کے لیے فوراً اپنی ذمے داریاں سنبھال لے۔ یہی وہ عمل ہے جو ایک گروہ کو ادارے میں تبدیل کرتا ہے اور اسے زمانوں تک زندہ رکھتا ہے۔ مشترکہ نصب العین وہ قوت ہے، جو کارکنوں کو کڑے وقت میں بھی متحد رکھتی ہے اور اُنھیں ذاتی مفادات پر نظریاتی مقاصد کو ترجیح دینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
اگر ہم ان زریں اُصولوں کی روشنی میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیں، تو صورتِ حال نہایت تشویش ناک نظر آتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وطنِ عزیز میں شاید ہی کوئی ایسی سیاسی جماعت ہو، جو ان جمہوری اور تنظیمی اُصولوں پر پوری اترتی ہو۔ یہاں سیاسی جماعتیں اداروں کے بہ جائے ’’خاندانی لمیٹڈ کمپنیاں‘‘ بن چکی ہیں۔ موروثیت کا کینسر ہماری سیاست کی جڑوں میں سرایت کر چکا ہے، جہاں قیادت کی منتقلی میرٹ یا قابلیت کے بہ جائے خون کے رشتے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ باپ کے بعد بیٹا (یا بیٹی) ہی جماعت کا وارث قرار پاتا ہے، جس سے جماعت کے اندر موجود مخلص اور باصلاحیت کارکنوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
پاکستانی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں عام کارکن کی حیثیت محض بھیڑ بکریوں جیسی بنا دی گئی ہے۔ کارکن کو اس سطح پر تیار ہی نہیں کیا جاتا کہ وہ قیادت سے سوال کرسکے یا کسی غلط فیصلے پر تنقید کی جرات کرسکے۔ کارکنوں کی سیاسی اور فکری تربیت کے بہ جائے اُنھیں صرف ’’زندہ باد‘‘ اور ’’مردہ باد‘‘ کے نعروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
سیاسی جماعتوں میں ایسے تھنک ٹینکس اور تربیتی مراکز کا فقدان ہے، جو کارکن کی فکری آب یاری کرسکیں۔ نتیجتاً، کارکن کسی نظریے کے بہ جائے شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سیاست میں شعور کے بہ جائے جذباتیت کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں پاکستان میں سیاست ایک مقدس مشن یا خدمت کے بہ جائے ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ لوگ سیاست میں اس لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں، تاکہ اقتدار میں آکر اپنے کاروبار کو تحفظ دے سکیں اور دولت کے انبار لگاسکیں۔ جب سیاست کا مقصد صرف حصولِ اقتدار اور ذاتی مفاد بن جائے، تو پھر نظریات اور اُصولوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ ان کی ترجیحات میں عوام نہیں، بل کہ اپنا اقتدار ہوتا ہے۔ جب تک سیاسی جماعتیں موروثیت کے بت توڑ کر اپنے اندر حقیقی جمہوریت پیدا نہیں کریں گی اور کارکنوں کو عزت و وقار نہیں دیں گی، تب تک ملک میں حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










