تعریف، دھوکا یا سیاست؟ 

Blogger Adv Naseer Ullah

نسانی نفسیات کا ایک انتہائی پیچیدہ اور دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ہم سب اپنی اہمیت اور قدر کے اعتراف کے متلاشی ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی ہو، ڈیجیٹل دنیا ہو، یا ملکی سیاست… ہر جگہ تعریف، سراہنا اور خوشامد کا عمل دخل نمایاں نظر آتا ہے۔ چاپلوسی بنیادی طور پر وہ مثُبت تعریف ہے، جو کسی سے محبت، توجہ، یا اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ محض چند میٹھے الفاظ کا مجموعہ نہیں، بل کہ انسانی رویوں کو کنٹرول کرنے، وفاداریاں خریدنے اور سماجی و سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا ایک طاقت ور ہتھ یار ہے۔ اس کے مختلف روپ ہیں، جنھیں سمجھنا آج کے دور میں، خاص طور پر سیاسی اور سماجی شعور بیدار کرنے کے لیے، انتہائی ضروری ہے۔ نفسیات اور عُمرانیات کے ماہرین نے اس رویے کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ سب سے پہلے ان اصطلاحات کو سمجھنا ضروری ہے، جو عموماً ایک جیسی لگتی ہیں، لیکن ان کے مقاصد اور انداز میں گہرا فرق ہے۔
چاپلوسی کے مختلف روپ اور ان کی نفسیات کو اگر ہم روزمرہ کے سماجی اور سیاسی رویوں پر منطبق کریں، تو کئی اہم اصطلاحات سامنے آتی ہیں:
اس کی سب سے عام شکل چاپلوسی ہے، جو کسی کے مفاد کے حصول کے لیے کی جانے والی غیر حقیقی یا مبالغہ آمیز تعریف ہے۔
اس سے ذرا مختلف خوشامد سے منوانا ہے، جس میں انسان مسلسل نرم، میٹھی اور منت سماجت والی باتوں سے کسی کو کوئی خاص کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
اس طرح دل جوئی یا لبھانے کے عمل میں چاپلوسی کے ساتھ ساتھ پُرکشش وعدے یا اشارے شامل ہوتے ہیں، تاکہ دوسرے شخص کا دل موہ کر اپنا کام نکالا جاسکے۔
پھر ایک شکل حد سے زیادہ عقیدت یا اندھی تعریف کی ہے، جو عموماً سیاسی قائدین یا مشہور شخصیات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس میں انسان اندھی عقیدت کا شکار ہو کر اپنے لیڈر کی ہر خامی کو خوبی بنا کر پیش کرتا ہے۔
سیاسی اور دفتری ماحول میں سب سے زیادہ خطرناک قسم کاسہ لیسی، جی حضوری یا چمچہ گیری ہے۔ یہ وہ چاپلوسی ہے جو طاقت ور لوگوں کے سامنے ذاتی فائدے اور عہدوں کے حصول کے لیے کی جاتی ہے، جس میں انسان اپنی عزتِ نفس کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
دوسری جانب روزمرہ کے معاملات میں چکنی چپڑی باتوں کا استعمال عام ہے، جہاں محض صورتِ حال کو سازگار بنانے یا کسی کو عارضی طور پر خوش کرنے کے لیے نرم الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
اسی طرح لچھے دار گفت گو وہ مہارت ہے، جس میں انسان انتہائی خوب صورتی اور روانی سے دھوکا دہی پر مبنی تعریف کرتا ہے، لیکن اس کا انداز اتنا دل کش ہوتا ہے کہ سننے والا برا نہیں مناتا۔
ایک انتہائی لطیف اور غیر محسوس شکل نقل اتارنا یا تقلید کی ہے؛ کہا جاتا ہے کہ کسی کی تقلید کرنا سب سے بڑی چاپلوسی ہے، کیوں کہ جب آپ کسی طاقت ور شخص کے لباس، اندازِ گفتگ و یا نظریات کی کاپی کرتے ہیں، تو آپ دراصل اسے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ آپ کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔
آخر میں واضح اور کھلی تعریف کی باری آتی ہے، جو بہ راہِ راست کی جاتی ہے… اور اگر یہ سچی ہو، تو تعلقات کو مضبوط کرتی ہے، لیکن اگر اس میں بناوٹ ہو، تو فوراً پہچانی جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں ہم نے چاپلوسی کی اُن تمام اقسام کو ایک نئی شکل میں ڈھلتے دیکھا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے آن لائن چاپلوسی پیغام یا شخص کو زیادہ قابلِ اعتماد اور پسندیدہ بناسکتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے حقیقی زندگی میں۔ نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ لوگ اگرچہ اپنے لاشعور میں یہ جانتے ہیں کہ کوئی مخصوص تعریف سچی نہیں، پھر بھی اس کا ایک طاقت ور جذباتی اثر ان کے رویے اور فیصلہ سازی پر پڑتا ہے۔ جب سوشل میڈیا پر انفلوئنسرز، ورچوئل ایجنٹس یا برانڈز صارفین کی تعریف کرتے ہیں، تو یہ ان کی مصروفیت بڑھاتا ہے اور صارفین کو ان کے پیغام پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ’’کمپیوٹر بوٹس‘‘ یا ’’ڈیجیٹل پرسناز‘‘ صارفین کی پسندیدگی پر مثُبت ردِعمل دیتے ہیں، تو صارفین کے لیے وہ پلیٹ فارم زیادہ معتبر اور دلک ش محسوس ہونے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لائکس، مثُبت کمنٹس اور شیئرز دراصل انسانی دماغ میں ڈوپامائن یعنی خوشی کے سگنل بھیجتے ہیں۔ لوگ کمپیوٹر، چیٹ بوٹس یا ڈیجیٹل ایجنٹس کی طرف سے ملنے والی داد کو بھی انسانی تعامل سمجھ کر اس کا اثر قبول کرتے ہیں۔ یہ سب ڈیجیٹل دور کی جدید چاپلوسی اور نرم اثر و رسوخ کے ہتھ کنڈے ہیں۔
سیاست میں اس ڈیجیٹل چاپلوسی اور تعریف کا استعمال انتہائی منظم انداز میں کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی قائدین کی تعریف کرنا، اُن کے حق میں ٹرینڈز چلانا، تاکہ معاشرے میں اُن کی سماجی قبولیت بڑھائی جاسکے، آج کی سیاست کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ لاؤڈ ٹریک ہیش ٹیگ کا استعمال، مُثبت نعرے اور الگورتھم کے ذریعے مُثبت مواد کو منظم طریقے سے فروغ دینا، یہ سب غیر مستقیم حکمت عملی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اپنے حمایتیوں کو سوشل میڈیا پر اہمیت کا احساس دلانا، اُن کے کمنٹس کا جواب دینا، اور اُن کی وفاداری کی تعریف کرنا اُن کی فعال شمولیت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ محض تعریف ہی نہیں، بل کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اتحاد اور ہم آہنگی کا تاثر دینے کے لیے بھی ایک زبردست نفسیاتی ہتھ یار کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
قیادت کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد اقتدار حاصل کرنا اور پھر اس میں برقرار رہنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے لیڈر کو اپنے اہم حمایتیوں، جسے  کام یاب اتحاد یا کلیدی حمایتی حلقہ کہا جاتا ہے، کی مسلسل تعریف، سراہنا اور انھیں اہمیت دینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی لیڈر صرف بے لوث عوامی خدمت کے سہارے اقتدار میں نہیں رہ سکتا، بل کہ اُسے اپنے مفتوح یا منتخب حمایتی حلقے کو سیاسی اور معاشی طور پر خوش رکھنے کی مسلسل کوشش کرنی پڑتی ہے۔ یہ مسلسل نوازشیں اور پروٹوکول دراصل ایک قسم کی عملی چاپلوسی کے برابر ہیں، تاکہ اُن کی حمایت برقرار رہے۔ جب کبھی عوام بغاوت کی پوزیشن میں آتے ہیں، یا اپوزیشن کا دباو بڑھتا ہے، تو ایک چالاک لیڈر اپنے اہم حمایتیوں، اتحادیوں اور علاقائی طاقت ور افراد کی تعریف اور اُن کی مراعات میں فوراً اضافہ کر دیتا ہے، تاکہ وہ اس کے دفاع میں مضبوطی سے کھڑے رہیں۔ یہ وفاداری کی وہ حکمت عملی ہے، جو اقتدار بچانے میں سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے۔
موثر سیاسی حکم رانی میں صرف طاقت کا استعمال یا کھوکھلے وعدے کافی نہیں ہوتے۔ لیڈر اپنے جیتے ہوئے اتحادیوں کو جو مختلف قسم کے خصائص، مراعات، عہدے، ٹھیکے اور مالی فوائد دیتا ہے، وہ دراصل مطلبی طور پر چاپلوسی یا سراہانہ رویے کا ہی ایک سماجی اور اقتصادی ورژن ہے۔ ایک لیڈر اقتدار حاصل کرتے وقت اپنے کلمہ برداروں کو جو انعامات، فوائد اور اعزازات دیتا ہے (جو بہ ظاہر ان کی صلاحیتوں کے اعتراف کے نام پر دیے جاتے ہیں)، اُن کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ سخت سیاسی مقابلے اور بحرانوں میں بھی وفادار رہیں۔ یہ سیاسی چاپلوسی محض لفظی خراجِ تحسین تک محدود نہیں ہوتی، بل کہ یہ ریاستی وسائل کی بندر بانٹ، مُراعات اور طاقت میں شراکت داری کی صورت میں ہوتی ہے، جو حمایتیوں کو وفاداریاں بدلنے سے روکتی ہے۔ معاشی وسائل کو کس طرح بانٹا جاتا ہے، یہیں سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ لیڈر کتنا کام یاب رہے گا۔
سیاسی نفسیات کے ماہرین اس سیاسی چاپلوسی کو دو بنیادی حکمت عملیوں میں تقسیم کرتے ہیں: پہلی چالاک چاپلوسی اور دوسری مجبورانہ یا خوف سے کی جانے والی چاپلوسی ہے۔
چالاک چاپلوسی وہ ہے، جو جان بوجھ کر، مکمل منصوبہ بندی اور حساب کتاب کے ساتھ، اقتدار حاصل کرنے یا اثر ڈالنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس میں ماتحت یا اتحادی لوگ لیڈر کے ’’ایگو‘‘ (انا) کو خوش کرنے کے لیے حد سے زیادہ تعریف کرتے ہیں، تاکہ انھیں کوئی سیاسی انعام، وزارت یا فائدہ مل سکے۔ اس میں لیڈر کے انداز، زباں اور نظریات کی نقل کی جاتی ہے، تاکہ اس کا مکمل اعتماد حاصل کیا جاسکے۔ اس قسم کی چاپلوسی اہم فیصلوں میں اندھی اور غیر معروضی حمایت پیدا کرتی ہے، جس سے میرٹ اور سچائی کا قتل ہوتا ہے۔
دوسری جانب، مجبورانہ چاپلوسی وہ ہے، جو کم زور، ماتحت لوگ یا عام شہری محض خوف، معاشی انحصار یا جابرانہ سیاسی ڈھانچے کی وجہ سے کرتے ہیں۔ یہ زبردستی یا حالات کی مجبوری کے تحت کی جانے والی تعریف ہے۔ جب کسی ملک یا تنظیم میں طاقت کے ڈھانچے انتہائی مضبوط اور آمرانہ ہو جاتے ہیں، تو ماتحت لوگوں کی آزاد رائے محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ وہ طاقت ور کی ناراضی، انتقام یا سزا سے بچنے کے لیے سچ بولنے کے بہ جائے کاسہ لیسی کا راستہ اپناتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ درست، تنقیدی اور تعمیری رائے دینے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ رائے عامہ اور جائز تنقید کو دبا دیا جاتا ہے، فیصلہ سازی میں شفافیت صفر ہو جاتی ہے اور لیڈر کے گرد جمع ہونے والا چاپلوسوں کا ٹولہ قیادت کو زمینی حقائق اور عوام کی اصل تکالیف سے مکمل طور پر دور کر دیتا ہے۔
لیکن چاپلوسی اور جائز تعریف کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہے، جسے سماجی ذہانت کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔  ماہرینِ نفسیات کے مطابق، لوگوں کو اہم محسوس کروانا اور خلوص کے ساتھ ان کی سراہنا کرنا، کھوکھلی چاپلوسی سے ہزار گنا زیادہ موثر ہے۔ انسان فطری طور پر اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو اُسے سنیں، سمجھیں اور اُس کی قدر کریں۔ اگر آپ لوگوں کی خود اعتمادی اور اہمیت کے جذبات کو ہدف بناتے ہیں، تو وہ خود کو خاص محسوس کرتے ہیں… لیکن یہ کام مصنوعی طریقے سے نہیں ہوسکتا۔ حقیقی مہارت صرف تکنیکی قابلیت کا نام نہیں، بل کہ انسانوں کی نفسیات، اُن کے جذبات اور تعلقات کے خط و خال کو سمجھنے کا نام ہے، جو آخرِکار آپ کو دوسروں پر بااثر بننے میں مدد دیتی ہے۔
اپنے اندرونی جذبے کو پہچاننا اور انسانوں کی فطرت کو سمجھنا نرم حکمت عملی کا جدید اظہار ہے۔ انسان کی فطرت میں حسد، دوسروں جیسا بننے کی خواہش، ضد اور خود غرضی جیسے عناصر شامل ہیں۔ ایک ذہین انسان ان خامیوں کو پہچانتا ہے اور ان کے مطابق ردِعمل دیتا ہے۔ جب آپ لوگوں کے الفاظ سے زیادہ اُن کے جسمانی اشارے، لہجے اور غیر لفظی اقدامات کو پڑھنا سیکھ جاتے ہیں، تو آپ اُن کی اصل خواہشات کو جان لیتے ہیں۔ بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ صحیح وقت، درست ہدف اور مناسب الفاظ کے ساتھ سراہنے کا عمل بروئے کار لایا جائے۔ واضح اور بے ڈھنگی چاپلوسی عموماً منفی اثر ڈالتی ہے اور شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔
روزمرہ کے رشتوں، خاص طور پر استاد، شاگرد، یا سینئر اور جونیئر کے تعلق میں بھی سماجی ذہانت بے حد کام آتی ہے۔ استاد یا ساتھی سے موثر سیکھنے کے لیے صرف آپ کی صلاحیت کافی نہیں، بل کہ تعلقات کو سنبھالنے کی مہارت ضروری ہے، جو کہ ترغیب دینے کی ایک لطیف شکل ہے۔ رشتوں میں نرمی، سیکھنے کی عاجزی اور استاد یا ’’مینٹور‘‘ کی خلوصِ دل سے تعریف کرنا آپ کی مشغولیت کو بڑھاتا ہے۔ استاد کی پچھلی کام یابیوں اور مہارتوں کی بہ حسن و خوبی تعریف کرنا اُن کے لیے ایک ذہنی خوشی بن سکتی ہے، جس سے وہ آپ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
یاد رکھیں، کسی بھی ماہر نے اپنے کیریئر کے آغاز میں صرف سکون یا فوری پذیرائی کی تلاش نہیں کی، بل کہ مشاہدے، عاجزی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے لوگوں کی نفسیات کو سمجھا۔
ایک سچا اور پائیدار اثر ہمیشہ خلوص، ہم دردی اور دوسروں کی خواہشات کے احترام کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے، نہ کہ جھوٹی چاپلوسی اور زبردستی سے۔ تنقید، ہر وقت کی ملامت یا شکایت لوگوں کو ایک دفاعی خول میں بند کر دیتی ہے، جس سے اُن کے رویوں میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔ کسی کو بہ راہِ راست غلط کہنا اس کے فخر اور انا کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اس کے برعکس نرم انداز میں بات کرنا، اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنا اور مسکراہٹ کے ساتھ مکمل سچائی کا اظہار کرنا، لوگوں کو مقناطیس کی طرح آپ کی طرف کھینچتا ہے۔ حقیقی اثر و رسوخ وہ ہے، جب دوسرا شخص اندر سے خود وہ عمل کرنا چاہے، جو آپ چاہتے ہیں؛ اسے مجبور نہ کیا جائے۔ بات چیت میں جب آپ دوسروں کی دل چسپیوں اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہیں، تو یہی وہ حقیقی نقطۂ اثر ہے، جو آپ کی بات کو وزن دیتا ہے۔
مختصراً یہ کہ چاپلوسی محض چند میٹھے الفاظ کا تبادلہ نہیں، بل کہ یہ انسانی معاشرے، سیاست اور ڈیجیٹل دنیا میں طاقت، اثر و رسوخ اور تعلقات کو منظم کرنے کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔ سیاست میں اس کا ضرورت سے زیادہ اور بے ساختہ استعمال معاشرے کو کھوکھلا کرکے خوشامدیوں کی فوج تیار کر دیتا ہے، جو ریاست کے لیے تباہ کن ہے۔ سیاسی کارکنوں اور عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی چاپلوسی کے اس جدید روپ کو پہچانیں۔ انھیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کب ان کے جذبات سے کھیلا جا رہا ہے، کب ڈیجیٹل دنیا کے الگورتھمز انھیں کنٹرول کر رہے ہیں، اور کب اُن کے لیڈران وسائل اور مراعات کی بندر بانٹ کو وفاداری کے لبادے میں چھپا رہے ہیں۔ ایک باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے سچی تعریف اور زہریلی چاپلوسی کے درمیان فرق کو سمجھنا آج کے دور کی سب سے بڑی سیاسی اور سماجی ضرورت ہے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) نفسیات (Psychology):۔ یہ ایک طرح سے انسانی ذہن اور رویے کا مطالعہ ہے۔ یہ دیکھتی ہے کہ لوگ کیسے سوچتے، محسوس کرتے اور عمل کرتے ہیں؟ اس میں یادداشت، سیکھنے، جذبات اور تعلقات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نفسیات کا مقصد انسانی رویوں کی وضاحت اور بہتر زندگی کے لیے اُن پر اثر ڈالنا ہے۔
2) عُمرانیات (Sociology):۔ عُمرانیات (درست تلفظ ’’عُمرانیات‘‘ ہے نہ کہ عِمرانیات) انسانی معاشرت اور سماجی تعلقات کا مطالعہ ہے۔ یہ دیکھتی ہے کہ لوگ کس طرح گروہوں میں رہتے، ادارے بناتے اور سماجی اُصولوں کے تحت ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ اس کا مقصد معاشرتی ڈھانچے، رویوں اور تبدیلیوں کو سمجھنا ہے۔
3) کمپیوٹر/ چیٹ بوٹس (Computer/ Chatbots):۔ بوٹس ایسے خودکار پروگرام یا سافٹ ویئر ہوتے ہیں، جو مخصوص کام خود بہ خود انجام دیتے ہیں۔ یہ انسان کی طرح بات چیت کرسکتے ہیں، معلومات فراہم کرسکتے ہیں یا سوشل میڈیا پر سرگرم رہ سکتے ہیں۔ ان کا مقصد وقت بچانا، تیز رفتار جواب دینا اور آن لائن تعامل کو آسان بنانا ہوتا ہے۔
4) ڈیجیٹل پرسناز (Digital Personas):۔ یہ دراصل آن لائن دنیا میں کسی فرد، برانڈ یا ایجنٹ کی نمایندگی کرنے والی شناخت یا پروفائل کو کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کا virtual identity ہے جو سوشل میڈیا، ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لوگوں یا اداروں کو پیش کرتا ہے۔
5) لاؤڈ ٹریک ہیش ٹیگ (Loud Track/ Amplified/ High-Impact Hashtag):۔ اس اصطلاح کا مطلب سوشل میڈیا پر کسی موضوع یا نعرے کو زوردار، نمایاں اور مسلسل انداز میں ٹرینڈ کروانا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل ہو۔
6) الگورتھم (Algorithm):۔ یہ دراصل ایک طریقۂ کار ہے… یعنی کسی کام کو کرنے کے لیے قدم بہ قدم ہدایات۔ جیسے کھانا پکانے کی ریسیپی میں بتایا جاتا ہے کہ پہلے یہ کرنا ہے، پھر یہ اور آخر میں یہ۔ بالکل اسی طرح کمپیوٹر الگورتھم میں بتایا جاتا ہے کہ کون سا قدم پہلے، کون سا بعد میں ہوگا، تاکہ نتیجہ ملے۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے