سیاسی تاریخ کے بعض لمحات محض واقعات نہیں ہوتے، بل کہ وہ اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، اور اس کے نتیجے میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور مرکز میں سیاسی بساط لپیٹی گئی، تو اس پورے منظرنامے نے جہاں ملک میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا، وہیں سوشل میڈیا پر ایک انوکھا نام غیر معمولی تیزی سے ابھر کر سامنے آیا… جی ہاں، تورگل…!
تورگل محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بل کہ کرپشن کے خلاف اٹھنے والی ایک توانا آواز، ایک علامت اور ایک فکر تھا۔ اس فکر کو عوامی سطح پر پذیرائی اس حد تک ملی کہ نگران دورِ حکومت میں نشاط چوک میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، جہاں سوات کے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سماجی کارکن اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ یہ اجتماع درحقیقت اُس عوامی بے چینی کا اظہار تھا، جو کرپشن، بدانتظامی اور ناقص حکم رانی کے خلاف پروان چڑھ رہی تھی۔
اس جلسے میں راقم کو بھی اظہارِ خیال کا موقع ملا، جہاں نہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی گئی، بل کہ ٹھوس نِکات کے ساتھ احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سوال اٹھایا گیا کہ ایک دہائی سے زائد اقتدار کے باوجود صوبے میں کوئی نمایاں میگا پراجیکٹ کیوں سامنے نہ آسکا؟ کیوں خیبر پختونخوا آج ایک ہزار ارب روپے کے قرضوں تلے دبا ہوا ہے… اور کیوں ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے؟
اسی تناظر میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بیوٹی فیکیشن اور نام نہاد امبریلا پراجیکٹس کے تحت اربوں روپے قومی خزانے سے نکالے گئے، مگر اُن کے نتائج کہیں نظر نہیں آتے۔ مینگورہ نہر کی صفائی کے لیے 16 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، مگر کام محض چند گھنٹوں تک محدود رہا، یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ اُس رقم کا حساب کون دے گا؟
مزید برآں، سی اینڈ ڈبلیو اور ایریگیشن کے محکموں میں ہونے والے ٹینڈرز پر بھی سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ باغ ڈھیری ایری گیشن چینل، جس کا ابتدائی تخمینہ 70 کروڑ روپے تھا، 2 ارب روپے تک کیسے جا پہنچا… اور اس کے باوجود منصوبہ ادھورا کیوں چھوڑ دیا گیا؟
یہ وہ سوالات ہیں، جو نہ صرف بدانتظامی، بل کہ ممکنہ کرپشن کی نشان دہی کرتے ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا پہلو بھی کم تشویش ناک نہیں۔ جہاں ایک طرف ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز میرٹ کے انتظار میں ہیں، وہیں ’’چور دروازے‘‘ سے بھرتی ہونے والے افراد کو چند ماہ میں 17 اور 18 گریڈ تک ترقی دینا ایک ایسا المیہ ہے، جو نظام کی ساکھ کو بری طرح مجروح کرتا ہے۔
صحت کے شعبے میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ صوبے کے 19 ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا گیا، جن کے لیے 22 ارب روپے کے ٹھیکے دیے گئے، مگر تن خواہیں اب بھی سرکاری خزانے سے ادا کی جا رہی ہیں۔ اگر یہی ہونا تھا، تو نج کاری کا جواز کیا تھا؟
ان تمام نِکات کے تناظر میں ایک بات واضح ہوتی ہے کہ تورگل ایک شخص نہیں، بل کہ ایک اجتماعی ضمیر کا نام تھا۔ یہ وہ سوچ تھی جو کہتی تھی کہ فیاض ظفر ہو یا امجد علی سحابؔ، شہزاد عالم بابا ہو یا فضل خالق، عابد علی جان ہو یا عرفان چٹان، شیر خان ہو یا ہلال دانش ہر وہ فرد جس کا ضمیر زندہ ہے، وہی تورگل ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج وہ آواز کہاں ہے… ہم تورگل کو کیوں بھول گئے… کیا کرپٹ سیاست دانوں کا احتساب کبھی ہوپائے گا، یا پھر ہمیں ایک بار پھر اُسی جذبے، اُسی مشن ’’تورگل‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنا پڑے گا؟
یہ سوالات محض الفاظ نہیں، بل کہ ایک اجتماعی احتساب کا تقاضا ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں اسی بے حسی کا ذمے دار ٹھہرائیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم پھر سے ایک ہوجائیں، ایک آواز بنیں… اور اُس خواب کو حقیقت میں بدلیں، جس کا نام ’’تورگل‘‘ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










