ہوگو شاویز … عوامی تحریک کا استعارہ

Blogger Comrade Sajid Aman

لاطینی امریکہ کی تاریخ ’’ہوگو شاویز‘‘ کا نام لیے بغیر ادھوری ہے اور اس کی وجوہات واضح ہیں۔
ہوگو شاویز وہ شخص تھا، جس نے غریبوں کے خوابوں کو زبان دی، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوا اور ایک ایسے ملک میں امید کی شمع روشن کی، جہاں صدیوں سے دولت زمین کے نیچے تھی، مگر عوام غربت کے اندھیروں میں جیتے تھے۔ جب اُس نے عالمی فورم پر طاقت وروں کو للکارا، تو دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ ایک تیل سے مالا مال مگر استحصال زدہ قوم کا بیٹا کس طرح تاریخ کے اکھاڑے میں اُتر کر بڑے بڑے تختوں کو چیلنج کرتا ہے۔
وینزویلا کے ایک غریب دیہی گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ لڑکا بچپن میں بیس بال کھیلتا تھا، مصوری کرتا تھا اور ایک سادہ زندگی بسر کرتا تھا۔ یہی لڑکا آگے چل کر وینزویلا کے سیاسی اُفق پر ایک طوفان بن کر اُبھرا۔ غربت اور عدم مساوات کو قریب سے دیکھنے والے اس نوجوان نے جلد ہی یہ سمجھ لیا کہ اس کے وطن کی اصل دولت عوام تک نہیں پہنچ رہی۔ زمین کے نیچے تیل کے بے پناہ ذخائر تھے، سونا اور دیگر معدنیات تھیں، مگر ان سب پر ایک چھوٹا سا اشرافیہ طبقہ اور بیرونی طاقتیں قابض تھیں۔ یہی احساس اُس کے اندر بغاوت کی پہلی چنگاری بنا۔ کچھ لوگ بدعنوانیوں سے معتبر ہو جاتے ہیں اور پھر لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔
فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد شاویز کی سوچ صرف ایک سپاہی تک محدود نہ رہی، بل کہ وہ تاریخ، سیاست اور انقلابی نظریات کی جانب مائل ہوتا چلا گیا۔ اسی دوران میں اُس نے کارل مارکس، سیمون بولیوار اور دیگر انقلابی مفکرین کا مطالعہ شروع کیا۔ مارکس کے نظریات نے اس کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظام کو صرف ایک معاشی ڈھانچا نہیں، بل کہ ایک ایسا عالمی جال سمجھا جو کم زور قوموں کو غلام بنائے رکھتا ہے۔
شاویز کے نزدیک انقلاب صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں، بل کہ سماجی انصاف کا قیام تھا۔ وہ قوم کے ہاتھوں قوم کے استحصال اور فرد کے ہاتھوں فرد کے استحصال سے آزادی کے حق میں ایک توانا آواز بن گیا۔
1992 میں نوجوان فوجی افسر ہوگو شاویز نے حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی۔ یہ بغاوت ناکام ہوئی اور اسے جیل جانا پڑا، مگر یہی لمحہ ایک نئی داستان کا نقطۂ آغاز بنا۔ جب اس نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی نہیں، مگر جلد…!‘‘، تو یہ الفاظ وینزویلا کے غریب عوام کے دلوں میں امید بن کر اتر گئے۔ قید و بند کی صعوبتیں اس کے عزم کو متزلزل نہ کرسکیں۔ چند سال بعد وہ جیل سے باہر آیا، تو ایک سیاست دان کے طور پر، مگر دل میں وہی انقلاب کا خواب لیے۔
1998 میں جب شاویز نے انتخابات جیت کر اقتدار سنبھالا، تو وینزویلا کی سیاست میں ایک زلزلہ برپا ہوگیا۔ اس نے ایک ایسے ملک کی باگ ڈور سنبھالی، جہاں تیل کی بے پناہ دولت کے باوجود لاکھوں لوگ غربت میں زندگی گزار رہے تھے۔ اقتدار میں آتے ہی اس نے اعلان کیا کہ ملک کے قدرتی وسائل عوام کی ملکیت ہیں۔ تیل کے ذخائر، معدنیات، گیس اور دیگر وسائل پر ریاستی کنٹرول مضبوط کیا گیا، تاکہ ان کا فائدہ بہ راہِ راست عوام تک پہنچ سکے۔
شاویز نے اپنی پالیسیوں کو ’’بولیوارین انقلاب‘‘ کا نام دیا۔ اس انقلاب کا مقصد صرف معاشی اصلاحات نہ تھا، بل کہ سماجی ڈھانچے کی تشکیلِ نو بھی تھا۔ اس نے تعلیم اور صحت کو بنیادی انسانی حق قرار دیا۔ ملک بھر میں مفت طبی مراکز قائم کیے گئے، دیہی علاقوں میں ڈاکٹر بھیجے گئے اور غریب طبقے کے لیے علاج معالجہ مفت کر دیا گیا۔ تعلیم کے میدان میں لاکھوں افراد کو خواندگی مہم کے ذریعے پڑھنا لکھنا سکھایا گیا۔
وینزویلا کی معیشت میں تیل مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ شاویز نے تیل کی قومی کمپنی کو مضبوط کیا اور اس کی آمدنی کو سماجی پروگراموں پر خرچ کیا۔ اس کے دور میں غریبوں کے لیے رہایش، تعلیم، صحت اور خوراک کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ لاکھوں خاندانوں کو پہلی بار باعزت زندگی کا موقع ملا۔ غربت کی شرح میں نمایاں کمی آئی اور عوام کو محسوس ہونے لگا کہ ریاست واقعی ان کی ہے۔
مگر شاویز کا سفر آسان نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی کش مہ کش عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکی سامراج، کے ساتھ تھی۔ شاویز کھل کر امریکی سامراج پر تنقید کرتا تھا۔ اس کے نزدیک لاطینی امریکہ کی تاریخ بیرونی مداخلتوں سے لب ریز تھی۔ وہ بار بار کہتا تھا کہ امریکہ نے اس خطے کے وسائل کو لوٹنے اور حکومتوں کو اپنے تابع رکھنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔
2002 میں شاویز کے خلاف ایک فوجی بغاوت ہوئی، جس میں اسے عارضی طور پر اقتدار سے ہٹا دیا گیا، مگر لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور صرف دو دن میں وہ دوبارہ اقتدار میں واپس آ گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ شاویز صرف ایک حکم ران نہیں، بل کہ ایک عوامی تحریک کا استعارہ بن چکا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر شاویز کی تقریریں خاص طور پر شہرت کی حامل رہیں۔ جب اس نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے امریکی پالیسیوں پر سخت تنقید کی، تو دنیا بھر میں اس کی بازگشت سنائی دی۔ ایک موقع پر اس نے کہا کہ ’’یہاں اب بھی شیطان کی بو آ رہی ہے‘‘… اشارہ امریکی صدر کی طرف تھا۔ یہ الفاظ سفارتی آداب کے خلاف سمجھے گئے، مگر غریب اور ترقی پذیر ممالک کے عوام نے اسے جرات مندی کی علامت قرار دیا۔
شاویز نے لاطینی امریکہ کے ممالک کے درمیان اتحاد کو بھی فروغ دیا۔ اس نے کیوبا، بولیویا، ایکواڈور اور دیگر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے اور ایک ایسا علاقائی بلاک بنانے کی کوشش کی جو امریکی اثر و رسوخ سے آزاد ہو… لیکن تاریخ کے ہر انقلابی کی طرح اس کا سفر بھی محدود وقت کا مہمان ثابت ہوا۔ کینسر کی بیماری نے آہستہ آہستہ اس کے جسم کو کم زور کر دیا۔ 2013 میں جب ہوگو شاویز کے انتقال کی خبر آئی، تو پورا وینزویلا سوگ میں ڈوب گیا۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں ایک سوال لیے کہ اب اس انقلاب کا کیا ہوگا؟
شاویز کی موت کے بعد وینزویلا ایک مشکل دور میں داخل ہوا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، معاشی دباو، سیاسی کش مہ کش اور بیرونی پابندیوں نے ملک کو شدید بحران میں دھکیل دیا۔ اس کے جانشینوں کو نہ صرف داخلی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، بل کہ بین الاقوامی دباو بھی بڑھتا گیا… مگر اس تمام تر پیچیدگی کے باوجود شاویز کا نام آج بھی وینزویلا کی سیاست اور لاطینی امریکہ کی تاریخ میں ایک علامت کے طور پر زندہ ہے۔ اس کے حامی اسے غریبوں کا نجات دہندہ اور سامراج کے خلاف مزاحمت کی آواز سمجھتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس شخص (ہوگو شاویز) نے اپنے ملک کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
شاویز کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ تاریخ میں کبھی کبھی ایسے کردار جنم لیتے ہیں، جو طاقت کے ایوانوں سے نہیں، بل کہ مٹی کے گھروں سے اٹھتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کی محرومیوں کو الفاظ دیتے ہیں، خوابوں کو تحریک میں ڈھالتے ہیں اور پھر ایک دن دنیا کو باور کراتے ہیں کہ چھوٹی قومیں بھی بڑے خواب دیکھ سکتی ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی وینزویلا کی غریب بستیوں میں کسی ماں کے لبوں پر امید کی کوئی دعا آتی ہے، یا جب کسی نوجوان کے دل میں ظلم کے خلاف بغاوت کی چنگاری بھڑکتی ہے، تو کہیں نہ کہیں تاریخ کے افق پر ایک آواز گونجتی ہے۔ یہ آواز ہوگو شاویز کی ہے، جو یاد دلاتی ہے کہ انقلاب صرف بندوق سے نہیں، بل کہ عوام کے یقین سے بھی جنم لیتا ہے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) لاطینی امریکہ (Latin America):۔ لاطینی امریکہ ایک ثقافتی اور جغرافیائی خطہ ہے، جہاں زیادہ تر اسپینش اور پرتگالی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ خطہ میکسیکو سے شروع ہوکر وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ اور کچھ کیریبین ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اسپین اور پرتگال نے پندرھویں صدی سے اس خطے کو نو آبادیاتی بنایا، جس کے اثرات آج بھی زبان و ثقافت میں نظر آتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں 21 کے قریب ممالک شامل ہیں، جن میں برازیل، ارجنٹینا، چلی، کولمبیا اور پیرو نمایاں ہیں۔
2) کارل مارکس (Karl Marx):۔ ایک ایسے جرمن فلسفی، ماہرِ معاشیات اور انقلابی مفکر تھے، جنھوں نے سرمایہ داری کے نظام کو طبقاتی جد و جہد کے تناظر میں سمجھایا اور اس کے خاتمے کے بعد مزدور طبقے کی حکومت یعنی کمیونزم کی پیش گوئی کی۔ وہ فریڈرک اینگلز کے ساتھ مل کر "Communist Manifesto” اور "Das Kapital” جیسے اہم کام لکھنے کے باعث مشہور ہیں۔
3) سیمون بولیوار (Simon Bolivar):۔ ایک وینیزویلین فوجی اور سیاست دان تھے، جنھیں "El Libertador” یعنی ’’آزادی دہندہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اسپین کے خلاف جد و جہد کی قیادت کی اور کئی جنوبی امریکی ممالک کو آزادی دلائی۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے