یہ سوال کہ کیا آج بھی مسلم دنیا میں ’’غزالی‘‘ اور ’’ابنِ رشد‘‘ کی کش مہ کش جاری ہے؟
میرے ناقص علم کے مطابق جواب ہے کہ یہ محض ایک فکری اختلاف نہیں، بل کہ ہماری تہذیبی سَمت، تعلیمی ترجیحات اور اجتماعی نفسیات کا آئینہ ہے۔ بہ ظاہر یہ بحث صدیوں پرانی ہے، مگر اس کی بازگشت آج کے نصاب، جامعات، مدارس اور حتیٰ کہ روزمرہ گفت گو میں بھی سنائی دیتی ہے۔ ایک طرف یقین، روایت اور روحانیت کا زور ہے… اور دوسری طرف سوال، تجربہ اور عقل کی طلب۔ یہی وہ تناو ہے، جو ہمارے عہد کو تشکیل دے رہا ہے۔
امام غزالی سے پہلے کی اسلامی دنیا پر نظر ڈالیں، تو ایک شان دار علمی روایت سامنے آتی ہے، جسے عام طور پر ’’سنہری دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ اُس دور میں مسلمان سائنس دانوں کے سائنسی کارنامے ہیں، جیسے جابر بن حیان نے کیمیا (Chemistry) کو تجرباتی بنیادوں پر استوار کیا۔ الخوارزمی نے الجبرا (Algebra) کی بنیاد رکھی۔ ابن الہیثم نے بصریات (Optics) میں انقلاب برپا کیا اور تجرباتی طریقِ کار کو واضح کیا، جب کہ الرازی اور ابنِ سینا نے طب (Medical Science) میں ایسے کارنامے انجام دیے، جن کے اثرات صدیوں تک یورپ تک محسوس کیے گئے۔ بیت الحکمہ جیسے اداروں میں یونانی، ہندی اور فارسی علوم کا ترجمہ ہوا اور ایک کاسموپولیٹن علمی فضا نے جنم لیا، جس میں سوال اٹھانا، مشاہدہ کرنا اور اختلاف کرنا عیب نہیں، بل کہ فضیلت سمجھا جاتا تھا۔
اسی تسلسل میں فلسفہ بھی پھلا پھولا۔ الفارابی اور ابنِ سینا جیسے مفکرین نے ارسطو اور افلاطون کی روایت کو اسلامی فکر کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ اُن کے ہاں عقل محض ایک آلہ نہیں، بل کہ حقیقت تک رسائی کا معتبر ذریعہ تھی… مگر اسی مقام پر ایک تناو بھی پیدا ہوا۔ کیا ہر وہ نتیجہ جو عقل تک پہنچتا ہے، دین کے دائرے میں قابلِ قبول ہے… یا کچھ حدود ایسی ہیں، جن کو کراس کر جانا ایمان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟
یہاں امام غزالی ایک ایسے مفکر کے طور پر سامنے آتے ہیں، جو اس علمی و فلسفیانہ فضا کا حصہ بھی ہیں اور اس کے ناقد بھی۔ اُنھوں نے فلسفے کے بعض نتائج جن میں خاص طور پر مابعد الطبیعیات پیوست ہر چیز کو چیلنج کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر عقل کو مکمل خود مختاری دے دی جائے، تو وہ ایسے دعوے بھی کرسکتی ہے، جو وحی کے ساتھ تصادم پیدا کریں۔ ان کی تنقید کا ہدف شاید ریاضی، طب یا فلکیات نہیں تھے، بل کہ وہ فلسفیانہ دعوے تھے، جو کائنات کی اولیت یا ازلیت، خدا کے علم اور آخرت کی نوعیت جیسے مسائل سے متعلق تھے۔ تاہم اُن کی کتاب ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ نے ایک ایسا فکری موڑ ضرور پیدا کیا، جس کے اثرات دیرپا ثابت ہوئے۔
غزالی کے بعد کا منظر یک رُخا نہیں، جیسا کہ ہم کَہ سکتے ہیں اکثر سادہ بیانیوں میں پیش کیا جاتا ہے، کہ ایک طرف فلسفہ کم زور پڑتا ہے، مگر دوسری طرف سائنس مکمل طور پر غائب نہیں ہوتی۔ اُندلس میں ابنِ رشد فلسفے اور عقل کے بھرپور دفاع کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ سچائی ایک ہی ہے، چاہے وہ وحی کے ذریعے سمجھی جائے، یا عقل کے ذریعے۔ ایسے میں وہ امام غزالی پر بہ راہِ راست تنقید کرتے ہیں۔
مشرق میں نصیر الدین طوسی مراغہ رصدگاہ قائم کرتے ہیں اور فلکیات میں اہم پیش رفت کرتے ہیں۔
ابن النفیس پھیپڑوں کے ذریعے خون کی گردش کی وضاحت کرتے ہیں، جو بعد میں یورپی سائنس میں بھی اہم ثابت ہوتی ہے۔
اسی طرح الغ بیگ کی سمرقند رصدگاہ اور ان کے فلکیاتی جداول اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سائنسی سرگرمی کا چراغ پوری طرح نہیں بجھایا جاسکا۔
پھر بھی یہ ماننا مشکل نہیں کہ فکری ترجیحات میں تبدیلی آئی۔ مدارس کا نظام زیادہ تر فقہ، حدیث اور کلام تک محدود ہوتا گیا، جب کہ فلسفہ اور سائنسی مباحث حاشیے پر چلے گئے۔ یہ ایک بہت بڑی اور واضح تبدیلی تھی اور شاید اس تبدیلی کی وجہ صرف ایک مفکر نہیں تھا… بل کہ دیگر عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جیسے مسلمانوں میں سیاسی عدم استحکام، منگول حملے، بغداد کی تباہی، تجارتی راستوں کی تبدیلی اور ریاستی سرپرستی کا ختم ہونا۔
ذکر شدہ سبھی عوامل مل کر علمی منظرنامے کو بدلتے گئے۔ اس لیے یہ کہنا کہ سب کچھ صرف غزالی کی وجہ سے ہوا، تاریخ کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے۔
آج کے مسلم معاشروں میں اسی تاریخی تناو کی جھلک واضح ہے۔ ایک طرف ایسے حلقے ہیں جو ہر نئی سائنسی یا فکری بحث کو مذہبی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں… اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں، جو روایت سے کٹ کر محض تکنیکی ترقی کو نجات کا راستہ سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک متوازن فکری ڈھانچا تشکیل نہیں پاسکا۔ جامعات اور مدارس کے درمیان مکالمہ کم زور ہے، یا سرے سے موجود ہی نہیں۔ ایک طرف جدید سائنس ہے، مگر اخلاقی و تہذیبی جڑوں سے دوری اور دوسری طرف مذہبی علم ہے، مگر جدید سوالات سے اجتناب کا وطیرہ۔
اصل مسئلہ شاید غزالی یا ابن رشد کا انتخاب نہیں، بل کہ اس دوئی کو سمجھنے کا ہے۔ ایک معاشرہ تبھی ترقی کرتا ہے، جب وہ یقین اور سوال، دونوں کو جگہ دے۔ اگر سوال کو کفر سمجھ لیا جائے، تو علم رُک جاتا ہے… اور اگر روایت کو بوجھ سمجھ کر پھینک دیا جائے، تو شناخت کم زور پڑ جاتی ہے۔ کام یاب تہذیبیں وہی ہوتی ہیں، جو اپنے ماضی سے مکالمہ کرتی ہیں، نہ کہ اس سے فرار اختیار کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اور فکری نظام میں اس توازن کو ازسرِنو قائم کریں۔ سائنسی تحقیق کو فروغ دیا جائے، مگر اسے اخلاقی اور تہذیبی تناظر سے جوڑا جائے۔ مذہبی علوم کو زندہ رکھا جائے، مگر انھیں سوال اور تحقیق کے دروازے بند کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ شاید اسی راستے پر چل کر ہم اس صدیوں پرانی کش مہ کش کو ایک بامعنی مکالمے میں بدل سکتے ہیں۔ ایسے مکالمے کی شروعات، جو نہ صرف ہمیں اپنے ماضی سے جوڑے، بل کہ مستقبل کی طرف بھی بااعتماد انداز میں لے جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










