صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ لڑنا اور کسی بھی سماج اور نظام کو اس کی اصل صورت کا آئینہ دکھانا ہی دراصل صحافت ہے۔ اس جہان میں سب سے مشکل کام سفاکیت، ظلم و بربریت اور ظالم حاکم کے ظلم کے خلاف حق کا نعرہ بلند کرنا اور اسے قرطاسِ ابیض پر اتارنا ہی ہے۔
یہ عین جہاد ہے… ایسا جہاد جو ہر دور میں بلند حوصلہ، مضبوط اعصاب اور نڈر اور بے باک اصحابِ علم و قلم کی میراث رہا ہے۔ کتاب اور قلم کے اس کارواں نے ہمیشہ عوام کو قوتِ گویائی، شعورِ ذات، حریت اور حقِ خودارادیت جیسے اوصاف سے بہرہ مند کیا ہے۔ اسی قافلے نے ظلم و ستم کے بڑے بڑے برج گرا کر انقلابات کے خیمے نصب کیے ہیں۔
یہی صحافتی کارواں تھا، جس نے آزادیِ ہند سے قبل انگریز سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک و قوم کے شعور کو بیدار کیا، میدانِ جد و جہد کو گرم رکھا اور مسلمانانِ ہند کو غلامی کے شکنجے سے نجات دلائی۔
میدانی علاقوں کے برعکس سوات، بونیر، تورغر اور شانگلہ کے قبائل طویل عرصے تک آزاد و خودمختار رہے۔ ان کا قدرتی جغرافیہ اور فطری حصار تحریکِ مجاہدین اور حریت پسندوں کے لیے محفوظ مورچوں، قلعہ جات اور پناہ گاہوں کا کردار ادا کرتا رہا۔ ان کے دم قدم سے متحدہ ہندوستان کے طول و عرض میں دشمن کے خواب ادھورے رہ گئے اور اس کے اوسان خطا ہوگئے۔
ممتاز محقق محمد پرویش شاہین کے مطابق سید اکبر شاہ کے دور میں قاضی القضا اخوند عبدالغفور المعروف اخوند صاحب سوات نے صحافت کی بنیاد رکھی اور سرزمینِ سوات کے قلب سیدو شریف سے ’’الجہاد‘‘ کے نام سے پہلا اخبار جاری کیا۔ ’’الجہاد‘‘ کے حوالے سے شاہین صاحب اپنی کتاب ’’گل ورینی سوکی‘‘ کے صفحہ 150 پر یوں رقم طراز ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ سید احمد شہید کی تحریک کے دور میں ایک صفحہ پر مشتمل ’الجہاد‘ کے نام سے پشتو زبان میں ایک اخبار شائع ہوتا تھا۔ ضلع مردان کے طورو گاؤں کے عبدالغفار پیشوری اسے مرتب کرتے تھے، جب کہ اس کی ادارت کے فرائض وادیِ سوات کے عبدالغفور سرانجام دیتے تھے، جو ایک مجاہد درویش تھے۔‘‘
وقت کے ساتھ ساتھ اُردو، پشتو اور فارسی زبانوں میں تورغر میں تحریکِ مجاہدین کے مرکز سے بالترتیب 1938ء اور 1940ء میں ’’المحرض‘‘ اور ’’المجاہد‘‘ کے نام سے اخبارات جاری ہوئے، جو شہزادہ نورالہدیٰ کی ادارت میں شائع ہوتے تھے۔ یہ اخبارات متحدہ ہندوستان میں حریت کی آگ کو بھڑکاتے، جذبوں کو مہمیز دیتے اور دشمن کے ارادوں کو متزلزل کرتے تھے۔
شہزادہ نورالہدیٰ تحریکِ مجاہدین کے اکابرین کی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والد برکت اللہ وہ مجاہد تھے، جنھوں نے 1948ء کی جنگ میں سیکڑوں جاں بازوں کی قیادت کرتے ہوئے کشمیر کے محاذ پر بے جگری کی داستان رقم کی۔
ریاستی دور میں اگرچہ سید عبدالجبار شاہ ایک تعلیم یافتہ اور جہاں دیدہ حکم ران تھے، مگر صحافتی میدان جمود کا شکار رہا۔ میاں گل عبدالودود ’’بادشاہ صاحب‘‘ کے عہد میں بھی آزاد صحافت پابندِ سلاسل رہی، البتہ ’’کامریڈ‘‘ اور ’’زمیندار‘‘ جیسے اخبارات خفیہ طور پر منگوا کر سیاسی شعور کو جلا بخشی جاتی رہی۔
1949ء میں میاں گل عبدالحق جہانزیب کے دور میں تعلیمی انقلاب برپا ہوا۔ تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا، جہانزیب کالج قائم ہوا اور جرائد و رسائل کے ذریعے علم و ادب کو فروغ دیا گیا۔ ’’ایلم‘‘، ’’سوات ڈائجسٹ‘‘ اور دیگر رسائل علمی و ادبی سرمائے میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے۔
ریاستی سرپرستی میں تاریخی و علمی کتب کی اشاعت نے مطالعے کے رجحان کو فروغ دیا۔ اگرچہ آزاد صحافت محدود رہی، مگر اس کے لیے زمین ہم وار ہوتی رہی۔ 28 جولائی 1969ء کو ریاست سوات کے ادغام کے بعد صحافت اور سیاست کو آزادی ملی۔ 1972ء میں ’’فلک سیر‘‘ اخبار کا اجرا ہوا اور یوں ایک نئے صحافتی دور کا آغاز ہوا۔
وقت کے ساتھ صحافت کا کارواں بڑھتا گیا۔ متعدد اہلِ قلم نے مختلف جرائد و رسائل کے ذریعے فکری و ادبی آب یاری کی۔ ’’مینہ‘‘، ’’شعور‘‘ اور ’’مرغزار‘‘ جیسے رسائل نے بھی اس سفر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج سیکڑوں قلم کار، تعلیمی ادارے، میڈیا چینل اور ادبی حلقے اس کارواں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر سلطان روم، محمد پرویش شاہین، فضل ربی راہی، فضل خالق، فیاض ظفر، کامریڈ امجد علی سحاب اور دیگر اہلِ قلم کا علمی سفر آج بھی جاری ہے۔
وادئی سوات آج علم و ادب اور صحافت کے میدان میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں جس خطے پر تاریخ، ثقافت اور سماجیات کے حوالے سے سب سے زیادہ تحقیق ہوئی، وہ سوات ہی ہے۔ تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے سوات، بونیر اور شانگلہ ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہیں۔ ان کا باہمی رشتہ صدیوں پر محیط ہے اور ہر آزمایش میں یہ ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ رہے ہیں۔ اسی تسلسل میں 1988ء میں ’’صدائے ملاکنڈ‘‘ کا اجرا ہوا، جو بعد ازاں ’’روزنامہ آزادی‘‘ بن گیا، جب کہ ’’فلک سیر‘‘ نے ’’صدائے سوات‘‘ اور پھر ’’سلام‘‘ کی شکل اختیار کی (تفصیل کے لیے محمد پرویش شاہین کی کتاب ’’گل ورینی سوکی‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔)
اب آتے ہیں بونیر کی طرف، جہاں محب الحق ماما کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔
اسی قافلۂ صحافت کا ایک بڑا اور روشن نام محب الحق بھی ہے، جن کا تعلق وادئی بونیر سے ہے۔ اسی وادی کے فلکِ صحافت کے درخشندہ ستارے ہیں۔ کالم نگار اور تجزیہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ نڈر اور بے باک شخصیت ہیں، ضلع بونیر کے مشہور گاؤں ’’بھائی کلے‘‘ میں ایک متمول اور معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ 03 فروری 1955ء کو بیلادر خان کے گھر جنم لیا۔ وہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے، بہ دیں وجہ باپ نے انھیں بڑے ناز سے پالا اور انھیں کسی کمی یا محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ جب بچپن کی دہلیز پر قدم رکھا، تو حسبِ روایت مسجد اور مکتب میں داخل کرائے گئے۔ مروجہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں کے علی گڑھ ’’گورنمنٹ ہائی سکول گدیزئی، پیر بابا‘‘ سے میٹرک کیا اور عصری علوم کا یہ سلسلہ بی اے تک جاری رکھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد عملی زندگی کے لیے قانون کے ایوان کو چنا۔ وادئی بونیر کے معروف قانون دان، میدانِ سیاست کے شہ سوار اور قلندرانہ مزاج کے مالک، سابق ایم این اے عبدالمتین خان (مرحوم) نے انھیں اپنے سایۂ شفقت و تربیت میں رکھا۔ انھوں نے محب الحق کو اپنے بیٹے کی طرح پیار اور شفقت دیا۔ محب الحق نے طویل عرصہ تک موصوف کے ساتھ بہ طور منشی اور معتمدِ خاص کام کیا۔ موصوف کی رفاقت، تربیت اور آغوش نے اسے سیاست، صحافت اور عُمرانیات کے اسرار و رموز سے آشنا کیا۔ انھی اوصاف نے محب الحق کو مستقبل میں ایک معروف دانش ور، نڈر صحافی اور بے باک قلم کار کے روپ میں نمایاں کیا۔ طویل عرصہ عبدالمتین خان ایڈووکیٹ کے سایۂ عاطفت میں رہنے کے بعد ’’محکمہ اسٹیٹ لائف‘‘ کو جوائن کیا، اور پاچا کلے میں واقع اپنے ہی دفتر میں ’’صحافتی پودا‘‘ لگا کر مستقبل میں ایک تن آور درخت کا روپ دھار گیا۔
جیسا کہ پہلے واضح کیا جاچکا ہے کہ ہفت روزہ ’’صدائے ملاکنڈ‘‘ کے نام سے یہ نوزائیدہ پودا بعد میں ’’روزنامہ آزادی‘‘ کی شکل میں ایک تن آور درخت بن گیا، جو آج تک کھڑا ہے۔
ممتاز لکھاری، شاعر اور ادیب موسیٰ گل گلؔ کے بہ قول: ’’اُن دنوں ’صدائے ملاکنڈ‘ کی ایڈیٹنگ پشاور میں اُس وقت کے معروف صحافی یونس قیاسی کرتے تھے۔ میں اس شمارے کو ایڈیٹنگ کے لیے پشاور میں یونس قیاسی صاحب کے دفتر لے جاتا اور ایڈٹ کرانے کے بعد واپس لے آتا۔‘‘
محب الحق معاشرے کے باسیوں میں یک ساں طور پر ’’ماما‘‘ (پشتو میں ماموں کے لیے ماما لفظ مستعمل ہے) کے نام سے مشہور ہیں اور اپنی زندگی میں اسی نام کا لاج رکھتے ہوئے اپنے کردار سے اس خطاب کے حق کو ثابت کرکے دکھایا ہے۔ ’’ماما‘‘ اپنے پیشے سے تادمِ مرگ وفادار اور مخلص رہے۔ اپنے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا انھوں نے بروقت اور صحیح استعمال کیا۔ بونیر کے عوام کو زبان دی، عوام کے مسائل کو ہر فورم پر اٹھایا اور اُن کے حقوق کا مقدمہ لڑا۔ حکومتی چوکی پر براجمان نہ ہوتے ہوئے بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے کاموں کو اپنا ’’ماٹو‘‘ (Motto) قرار دیا۔ متحرک اور فعال سوشل ورکر کا کردار ادا کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر صحافت کے میدان میں شہ سوار و سپہ سالار کے روپ میں حاضر رہے۔ اپنے مافی الضمیر کا برملا اظہار کیا۔ ایک اُصول پسند صحافی کے طور پر اپنے آپ کو منوایا۔ آزادئی صحافت پر سودے بازی سے باز رہے۔ بونیر کی صحافت کے لیے ایک جیتی جاگتی نشیمن کو وجود بخشا اور بونیر پریس کلب کی رجسٹریشن کروائی۔ کئی روزناموں کے لیے کام کیا۔ آزادی، نوائے وقت، جنگ، مشرق اور ایکسپریس میں ایک ذمے دار کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے… اور ’’الحق نیوز‘‘ کے خالق ٹھہرے۔ والد کی چھوڑی ہوئی بڑی جاگیر کو داو پر لگایا، لیکن صحافت کے مقدس پیشے کو داغ دار ہونے سے بچایا اور بعض صحافیوں کی طرح ’’زرد صحافت‘‘ کے دامِ فریب میں نہ آئے۔ اسی لیے تو اُن کے فرزند شجاعت کہتے ہیں: ’’میرے والد کہا کرتے تھے کہ اگر مَیں میدانِ صحافت میں کمانے کا شوق اور حرص رکھتا، تو میرا گھر سونے اور چاندی کا بنا ہوا ہوتا۔‘‘
ماما، بونیر کے صحافتی مدرسے کے مشفق اور قابل اتالیق رہے۔ بہت سوں کو صحافت کے اسرار و رموز سے آشنا کرایا۔
درمیانہ و صوفیانہ قد و قامت، دھیمی آواز، نرم لہجہ، خاموش طبیعت، نرم گفت گو، نفیس پوشاک، اچھی خوراک اور عقابی نظر کے مالک ’’ماما‘‘ کی صحافت کا لگایا ہوا نوزائیدہ پودا آج بارآور اور تن آور درخت کی شکل میں موجود ہے۔ وہ پودا، جس کی آب یاری اُس نے اپنے خونِ جگر سے کی… اور اس کے تقدس کی لاج رکھتے ہوئے ہر قسم کے سخت حالات کا مقابلہ کیا۔ خود بھی گفتار کے غازی بننے کے بہ جائے کردار کے غازی ہونے کا شرف حاصل کیا اور دوسروں کو بھی عمل کے میدان کے لیے تیار رکھا۔
’’ماما‘‘ کے قریبی دوست، جن کی اس کے ساتھ مسلسل 35 سال تک دوستی رہی، معروف سیاست دان اور پشتون جرگہ پاسبان جہان کے چیئرمین کی یہ گواہی ’’ماما‘‘ کے کردار پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہےکہ ’’ماما کے ساتھ میری 35 سال دوستی رہی۔ اس طویل دورانیہ میں، مَیں نے اُسے ایک راست گو، کم گو مگر سچا اور دیانت دار انسان پایا۔‘‘
محکمہ پولیس کے محمد علی نامی جوان، جنھوں نے ماما کے ساتھ اپنی جوانی کا بیش تر حصہ گزارا، کے بہ قول: ’’بے شک، سرزمینِ بونیر مستقبل میں بھی مایہ ناز اور قابل صحافیوں کو جنمے گی، لیکن ماما جیسے صحافی کا خلا کبھی پُر نہ ہوگا۔‘‘
یہ وہ حقائق ہیں، جو تاریخ کا حصہ بنیں گے اور قرطاسِ ابیض پر یہ الفاظ بہ طورِ سلطانی گواہ ماما کا مقدمہ جیتیں گے۔ آج ماما ہمارے درمیان موجود نہیں۔ 11 فروری 2026ء کے سوگوار دن اپنے پیاروں کو داغِ مفارقت دے گئے اور اپنے آبائی قبرستان کی خاک اوڑھ کر سوگئے… لیکن ان کی راست گوئی، دیانت داری، بے باکی، برجستگی، لگن، قومی خدمات، پیشہ ورانہ قابلیت اور فعال کردار بونیر کی صحافتی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا۔
علامہ اقبال نے ان جیسی شخصیات ہی کے لیے تو لکھا ہے کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










