دنیا کی ہر ترقی، ہر عمارت اور ہر کام یابی کے پیچھے اگر کسی ایک طاقت کا سب سے بڑا کردار ہے، تو وہ مزدور کی محنت ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے، جو اپنے وقت، صلاحیت اور جسمانی و ذہنی توانائی کو صرف کرکے معاشرے کے نظام کو چلائے رکھتا ہے… مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی طبقہ اکثر اپنی اصل حیثیت، اپنی طاقت اور اپنے حقوق سے ناواقف رہتا ہے۔ یومِ مزدور ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ محنت کرنے والا انسان دراصل اس نظام کی بنیاد ہے، مگر وہ خود اس بنیاد کی مضبوطی سے بے خبر ہے۔
ہمارے معاشرے میں مزدور کا تصور بہت محدود کر دیا گیا ہے۔ جب مزدور کا لفظ بولا جاتا ہے، تو فوراً ذہن میں ایک دیہاڑی دار شخص کا خیال آتا ہے۔ حال آں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی محنت اور صلاحیت کے بدلے اجرت لیتا ہے، وہ مزدور ہے، چاہے وہ ایک استاد ہو، ایک کلرک ہو، ایک انجنیئر ہو، ایک نرس ہو یا کسی دفتر کا ملازم… لیکن ایک عجیب نفسیاتی کیفیت پیدا ہوچکی ہے, جہاں تن خواہ دار طبقہ خود کو مزدور ماننے سے گریز کرتا ہے، کیوں کہ معاشرے نے مزدور کے لفظ کو ایک خاص درجے تک محدود کر دیا ہے۔
یہی وہ تقسیم ہے جس نے مزدور طبقے کو کم زور کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے بڑی مہارت سے مزدوروں کو مختلف عہدوں، القابات اور مراعات میں تقسیم کر دیا ہے۔ کچھ کو تھوڑی سی سہولت دے کر باقیوں سے الگ کر دیا گیا، اور کچھ کو ایسی ذمے داریاں دے دی گئیں کہ وہ خود اپنے ہی طبقے کے استحصال میں سہولت کار بن گئے۔ یوں مزدور ایک طاقت بننے کے بہ جائے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ کر اپنی ہی طاقت کھو بیٹھا۔
اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں، تو پرائیویٹ اداروں، خاص طور پر پرائیویٹ اسکولوں کے ملازمین کی حالت اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو قوم کے مستقبل کو سنوارتے ہیں، بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، اور اداروں کے نتائج کو بہتر بناتے ہیں، مگر ان کی اپنی زندگی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ کم تن خواہ، طویل اوقاتِ کار اور سہولیات کی کمی یہ سب ان کے روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ نہ وہ دیہاڑی مزدوری کرسکتے ہیں، نہ کوئی اور آسان ذریعہ اختیار کرسکتے ہیں، یوں وہ ایک ایسے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں، جہاں محنت زیادہ اور صلہ کم ہوتا ہے۔
آج یومِ مزدور ہے، مگر شاید بہت سے مزدوروں کو یہ احساس بھی نہ ہو کہ یہ دن دراصل انھی کے نام سے منایا جا رہا ہے۔ وہ اپنی روزمرہ کی جد و جہد میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ انھیں اس بات کا شعور ہی نہیں ہو پاتا کہ دنیا بھر میں ان کی محنت کو خراجِِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ لمحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ایک طرف تقاریب، بیانات اور دعوے ہیں اور دوسری طرف وہ مزدور ہے، جو آج بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے ترس رہا ہے۔ اگر اس دن کی اصل روح کو سمجھنا ہے، تو ہمیں ان مزدوروں تک شعور، آگاہی اور عملی مدد پہنچانی ہوگی، تاکہ یہ دن صرف رسمی نہ رہے، بل کہ حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بن سکے۔
یکم مئی، یومِ مزدور، ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جو مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے دیں۔ آج اگر دنیا کے کچھ حصوں میں مزدور کو بہتر اجرت، مناسب اوقاتِ کار اور بنیادی سہولیات میسر ہیں، تو یہ سب انھی جد و جہدوں کا نتیجہ ہے… مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے معاشروں میں آج بھی مزدور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مزدور کے پاس طاقت نہیں، بل کہ یہ ہے کہ اسے اپنی طاقت کا شعور نہیں۔ جب تک مزدور اپنی مشترکہ شناخت کو نہیں پہچانے گا، وہ اسی طرح تقسیم اور کم زور رہے گا۔ ایک استاد، ایک کلرک، ایک مزدور اور ایک ڈرائیور وغیرہ یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف نام ہیں۔ اگر یہ سب ایک دوسرے کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھیں، تو ایک بڑی تبدیلی ممکن ہے۔
یہ بات محض نعرہ نہیں، بل کہ ایک حقیقت ہے کہ اگر مزدور متحد ہو جائیں، تو نظام کی سَمت بدل سکتی ہے… مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر سے برتری، حسد اور تقسیم کے احساس کو ختم کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اتحاد صرف باتوں سے نہیں، بل کہ عمل سے آتا ہے۔
آج کے دن ہمیں صرف تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بل کہ یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم مزدور کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے، انصاف کا مطالبہ کریں گے اور ہر اُس نظام کے خلاف کھڑے ہوں گے جو محنت کرنے والے کو اس کا حق دینے سے انکار کرتا ہے۔
مزدور کم زور نہیں ہوتا، کم زور وہ سوچ ہوتی ہے، جو اسے اپنی طاقت کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ جس دن مزدور جاگ گیا، اسی دن اس کی تقدیر بھی بدلے گی اور معاشرہ بھی انصاف کی طرف بڑھنے لگے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










