محترم ایم پی اے اختر خان ایڈوکیٹ کے آفیشل پیج پر ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کا سہارا لے کر ایک عجیب بیان جاری کیا گیا ہے، جو خود ایم پی اے حضرت کی شان کے خلاف ہے۔ اس میں زبان و بیاں اور املا کی وہ کمیاں ہیں کہ الامان و الحفیظ!
مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق، ’’انور‘‘ کی جگہ ’’انوار‘‘ جنریٹ ہوا ہے۔ گو کہ انور اور انوار دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں، جو اُردو میں بہ طورِ اسم اور صفت مستعمل ہیں۔ ان میں بنیادی فرق لفظ کی ساخت اور معنی کا ہے۔ انور کے معنی روشنی دینے والی ایک ذات یا ایک شخص کے ہیں، جب کہ انوار کے معنی ڈھیر ساری روشنیاں یا چمک دمک کے ہیں۔
مجھے ایم پی اے حضرت کے اس ’’اے آئی جنریٹڈ سٹیٹمنٹ‘‘ سے قبل پتا ہی نہیں تھا کہ ’’سوشل میڈیا‘‘ کا درست املا ’’سیوشل میڈیا‘‘ ہے۔
اس طرح مذکورہ بیان میں ’’انجم نامہ‘‘ کا املا ’’انبجم نامہ‘‘ (دو جگہ) جنریٹ ہوا ہے۔
بیان میں انگریزی لفظ ’’نوٹس‘‘ کا املا ’’نوٹبس‘‘ جنریٹ ہوا ہے، جس کی وجہ سے جملہ پڑھتے ہی آدمی کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔
زیرِ تبصرہ بیان میں ایک لفظ تو ایم پی اے حضرت کے ساتھ سراسر ظلم ہے کہ ان کے لیے مرکب ’’چیئرمین ڈیڈک‘‘ کی جگہ ’’چیئرمین ڈینڈک‘‘ جنریٹ ہوا ہے۔ یہاں پر ایم پی اے حضرت کو ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ’’ڈ‘‘ کی جگہ ’’م‘‘ جنریٹ نہیں ہوا، ورنہ حضرت کا بڑا ہی برا نام پڑنا تھا۔
ایک اور جملے میں ’’ہر‘‘ کو ہائے دو چشمی ’’ھ‘‘ سے لکھا گیا ہے اور اس میں حرف ’’ب‘‘ کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ’’ہر‘‘ بالکل ’’بھر‘‘ بن گیا ہے۔
مذکورہ جملے کے آخر میں ’’ہے‘‘ کو ’’بے‘‘ میں تبدیل کرکے ’’اے آئی‘‘ نے عام پڑھنے والے کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ پورا جملہ ملاحظہ ہو: ’’سیاسی اختلاف بھر شخص کا حق بے۔‘‘
اس اے آئی جنریٹڈ سٹیٹمنٹ میں ’’نہیں‘‘ کا املا ’’نھین‘‘ جنریٹ ہوا ہے۔
اغلاط کے اس پلندے میں ’’یہ‘‘ کی جگہ ’’بہ‘‘، ’’سراسر‘‘ کی جگہ ’’بہراسر‘‘، ’’بدنیتی‘‘ کی جگہ ’’بدینیتی‘‘، ’’مبنی‘‘ کی جگہ ’’مببنی‘‘، ’’پروپیگنڈا‘‘ کی جگہ ’’پروپیہ مگنڈما‘‘، ’’جواب دہی‘‘ کی جگہ ’’جوابندہی‘‘، ’’بھی‘‘ کی جگہ ’’میمی‘‘، ’’ہوں‘‘ کی جگہ ’’بوں‘‘ اور ’’رہوں گا‘‘ کی جگہ ’’ربوں گا‘‘ اُردو کا معمولی سا بھی علم رکھنے والے کا منھ چھڑاتے ہیں۔
’’ڈینڈک چیئرمین‘‘… معذرت خواہ ہوں، ڈیڈک چیئرمین اختر خان ایڈوکیٹ سے عرض ہے کہ اپنی میڈیائی ٹیم کو احکامات جاری فرمائیں کہ ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کے ذریعے اپنا کام ضرور نمٹائیں کہ اب یہ وقت کی ضرورت ہے، مگر جنریٹ ہونے والے مواد پر نظرِ ثانی بھی فرمایا کریں۔ کیوں کہ آپ کے پورے بیان (جو باقاعدہ آپ صاحبان کے آفیشل پیج سے شائع ہوا ہے) صرف ایک جملہ اٹھاتا ہوں، جسے پڑھ کر کوئی بھی سلجھا ہوا شخص ڈاکٹر حیدر علی ہمدردؔ (معروف سائیکالوجسٹ) سے رجوع نہیں کرے گا، تو جون جولائی کی گرمی میں آبلہ پا سبو چوک سے سہراب خان چوک اور سہراب خان چوک سے واپس سبو چوک چکر لگانے اور خلا میں گھورنے پر معمور ہوجائے گا۔ جملہ ملاحظہ ہو: ’’سوات ڈوپلیمنٹ اتھارٹی کی گاڑی میرے ذاتی استعمال میں ہے بہ بہراسر جھوٹ، بہتان اور بدینیتی پر مببنی پروپیہ مگنڈما ہے۔‘‘
چیئرمین صاحب! جاتے جاتے اتنا ہی کہوں گا کہ بہ خدا! آپ کا سوشل میڈیا پر تشہیر شدہ اے آئی جنریٹڈ سٹیٹمنٹ پڑھ کر میرا تو ڈاکٹر حیدر علی ہمدردؔ سے رجوع کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس بیان کو جلد از جلد اپنے ’’سیوشل میڈیا‘‘ (سوشل میڈیا) اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کردیں، ورنہ پھر آپ فرمائیں گے کہ یہ ’’میمی‘‘ (بھی) ’’انبجم نامہ‘‘ (انجم نامہ) کے ’’انوار انجم‘‘ (انور انجم) کا ساتھی ہے اور میرے خلاف ’’پروپیہ مگنڈما‘‘ (پروپیگنڈا) کا حصہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










