سوات کا مرکزی شہر مینگورہ نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، بل کہ روزانہ ہزاروں افراد یہاں خریداری، کاروبار، تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے آتے ہیں۔ یہ شہر پورے خطے کی معاشی اور سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے شہریوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، جن میں ٹریفک کا دباو، تجاوزات، صفائی کے مسائل اور عوامی مقامات پر نظم و ضبط کی کمی نمایاں ہیں۔
ان مسائل کے ساتھ ایک اور تشویش ناک صورتِ حال بھی شہری حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ روزانہ مختلف علاقوں سے ذہنی طور پر بیمار، بے سہارا یا نفسیاتی مسائل کا شکار افراد بڑی تعداد میں مینگورہ کا رُخ کرتے ہیں۔ اُن میں سے بعض افراد بازاروں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر ایسی حرکات کرتے نظر آتے ہیں، جو نہ صرف اُن کی اپنی عزت اور وقار کے خلاف ہوتی ہیں، بل کہ عام شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے بھی پریشانی اور ذہنی کوفت کا باعث بنتی ہیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد نامناسب حالت میں بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں، جس سے عوام کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کی شکایات ہیں کہ ایسے واقعات نہ صرف معاشرتی اقدار کے منافی ہیں، بل کہ شہر کے عمومی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بازاروں میں آنے والے خاندان، خواتین اور بچے خود کو غیر محفوظ اور غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف نظم و ضبط کا نہیں، بل کہ انسانی ہم دردی اور سماجی ذمے داری کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ذہنی بیماری یا نفسیاتی مسائل کا شکار افراد معاشرے کی توجہ، علاج اور نگہ داشت کے مستحق ہوتے ہیں۔ انھیں تضحیک یا نفرت کا نشانہ بنانے کے بہ جائے اُن کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسے افراد ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں، تو ان کے علاج، نگرانی اور بہ حالی کے لیے متعلقہ ادارے کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟
ضلعی انتظامیہ، محکمۂ صحت، سماجی بہبود کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ایسے افراد کی نشان دہی، طبی معائنہ اور ضروری علاج کے لیے مربوط نظام تشکیل دیا جانا چاہیے۔ اگر بعض افراد ذہنی مریض نہیں، بل کہ دانستہ طور پر عوامی مقامات پر نامناسب حرکات کر رہے ہیں، تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ خاندانوں کی ذمے داری بھی کم نہیں۔ اگر کسی شخص کو ذہنی یا نفسیاتی مسئلہ درپیش ہے، تو اُس کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ اُسے بے یار و مددگار بازاروں میں چھوڑنے کے بہ جائے اُس کے علاج اور نگرانی کا بندوبست کریں۔ معاشرے کے کم زور اور بیمار افراد کی دیکھ بھال سب سے پہلے گھر والوں کی ذمے داری ہوتی ہے۔
مینگورہ جیسے اہم شہری مرکز میں ایک مہذب اور محفوظ ماحول کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے معاملات کی نشان دہی متعلقہ اداروں تک پہنچائیں، تاکہ بروقت اقدامات ممکن ہوسکیں۔ مسئلے کا حل الزام تراشی میں نہیں، بل کہ اجتماعی ذمے داری اور موثر انتظامی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مینگورہ کے بازاروں کو ہر قسم کی بے ترتیبی، غیر اخلاقی رویوں اور عوامی پریشانیوں سے محفوظ بنایا جائے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کم زور افراد کی حفاظت بھی کرے اور عوامی مقامات کے وقار کو بھی برقرار رکھے۔ اگر آج اس مسئلے پر سنجیدہ توجہ نہ دی گئی، تو کل یہ صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے کو بھگتنا پڑیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










