کسی بھی نظام کی اصل روح اُس کی دفعات، قوانین یا ظاہری ڈھانچے میں نہیں، بل کہ اُن انسانوں کے ضمیروں میں ہوتی ہے، جو اُسے نافذ کرتے ہیں۔ آئینی ڈھانچے، قوانین اور ادارے اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، مگر اُن کی کام یابی کا انحصار اُن لوگوں کی نیت، کردار، امانت اور جواب دہی پر ہوتا ہے، جو ان نظاموں کو چلاتے ہیں۔
نظام کے ظاہری ڈھانچے میں تبدیلیاں اُسی وقت جان دار اور دیرپا ثابت ہوتی ہیں، جب اُن کے پیچھے خلوصِ نیت، دیانت داری اور خدمتِ خلق کا جذبہ موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہترین آئینی اور انتظامی ڈھانچے بھی بدنیت، غیر جواب دہ اور مفاد پرست قیادت کے ہاتھوں بے اثر ہوسکتے ہیں۔
ایک ہی آئین، ایک ہی قانون اور ایک ہی ادارہ مختلف ادوار میں بالکل مختلف نتائج دے سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمیشہ نظام کا بدل جانا نہیں ہوتی، بل کہ اس کے پیچھے موجود نیت، کردار، ترجیحات اور طرزِ حکم رانی کا بدل جانا ہوتا ہے۔ چناں چہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کون سا نظام ہے، بل کہ یہ ہے کہ اس نظام کو چلانے والوں کی نیت کیا ہے، اُن کی امانت و دیانت کی کیا حیثیت ہے، اُن کا کردار کیسا ہے اور انھیں جواب دہ بنانے کے مؤثر میکانزم موجود بھی ہیں یا نہیں؟
انصاف کے بغیر کوئی نظام دیرپا نہیں ہوسکتا۔ جہاں قانون طاقت ور اور کم زور کے لیے الگ الگ ہو، وہاں آئین کی خوب صورتی بھی عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں بن سکتی۔ نظام اُس وقت زندہ اور متحرک دکھائی دیتا ہے، جب اسے چلانے والے انسان اپنی سوچ، رویے اور ترجیحات میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں… لیکن جب حکم ران کا مقصد اقتدار کی ہوس، ذاتی مفاد اور وسائل کی لوٹ مار بن جائے، تو دنیا کا بہترین آئینی ڈھانچا بھی محض کاغذی نقشہ بن کر رہ جاتا ہے، جسے روز پامال کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے پارلیمانی نظام میں ایک بڑی خرابی جاگیردارانہ اور شخصی سیاست کی وہ روایت رہی ہے جس میں مخصوص خاندانوں، بااثر شخصیات اور روایتی ووٹ بینک نے سیاسی عمل پر غیر معمولی اثر قائم رکھا۔ ’’الیکٹیبلز‘‘ کی سیاست نے کئی مواقع پر حکومتوں کو دباؤ میں رکھا اور قومی مفاد کے بجائے ذاتی، خاندانی یا گروہی مفادات کو ترجیح دی۔
چھوٹے صوبوں میں تقسیم کا سوال ہو یا مضبوط اور بااختیار بلدیاتی اداروں کا قیام، کوئی بھی انتظامی حل اُس وقت تک حقیقی نتائج نہیں دے سکتا، جب تک اقتدار اور وسائل پر قابض مفاداتی قوتوں کا کردار تبدیل نہیں ہوتا۔ محض نقشہ بدلنے، صوبے بنانے یا اداروں کے نام تبدیل کرنے سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلہ اُس ذہنیت کا ہے، جو 70 برس سے نظام کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالتی چلی آ رہی ہے اور ملک کو ایک کے بعد ایک تجربے سے اس لیے گزارتی رہی ہے کہ طاقت اور وسائل پر اُس کی بہ راہِ راست گرفت برقرار رہے۔
لیپا پوتی کے اقدامات کچھ عرصے تک مؤثر دکھائی دے سکتے ہیں، خصوصاً اُس وقت جب عوام ظاہری تبدیلیوں اور نعروں میں الجھے رہیں… لیکن جب قوم سیاسی بلوغت حاصل کر کے اپنے حقوق اور ذمے داریوں سے آگاہ ہو جائے، تو وہ محض نمایشی اصلاحات پر اکتفا نہیں کرتی۔ باشعور عوام اپنے سیاسی حق، شفاف حکم رانی، انصاف اور حقیقی جواب دہی سے کم کسی چیز پر مطمئن نہیں ہوتے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کی اصل کنجی اب عوام کے شعور اور سیاسی اختیار میں ہے۔ صدارتی نظام ہو یا پارلیمانی نظام، بلدیاتی نظام ہو یا کوئی اور آئینی بندوبست، کوئی بھی نظام اُس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتا، جب تک اس میں عوام کی حقیقی شرکت، شفافیت، ادارہ جاتی توازن اور مؤثر جواب دہی کو یقینی نہ بنایا جائے۔
صدارتی نظام اُسی وقت فائدہ دے سکتا ہے، جب وہ شخصی اقتدار کا ذریعہ بننے کے بہ جائے مضبوط اداروں، آزاد احتساب، قانون کی بالادستی اور عوامی اختیار کے اصولوں پر قائم ہو۔ ٹھیک اسی طرح پارلیمانی نظام بھی اُس وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، جب سیاسی جماعتیں، شخصیات اور خاندانوں کے بہ جائے اداروں، پالیسی اور عوامی خدمت کی بنیاد پر آگے بڑھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف نظام کا نہیں، نظام چلانے والی ذہنیت کا ہے۔ جب تک طاقت کے مراکز محدود خاندانوں اور مفاداتی گروہوں کے ہاتھ میں رہیں گے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق آئین، اداروں اور قوانین کو ڈھالتے رہیں گے، اس ملک میں دنیا کا کوئی بھی نظام نافذ کر دیں، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
ملک کو نئے نظام سے زیادہ نئی سیاسی اخلاقیات کی ضرورت ہے؛ ایسی سیاست جس میں اقتدار خدمت کا ذریعہ ہو، اختیار امانت سمجھا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور حکم ران خود کو عوام کے سامنے جواب دِہ سمجھیں۔ کیوں کہ آخرِکار نظام کاغذ پر نہیں، انسانوں کے کردار میں زندہ رہتا ہے… اور اگر کردار بدلنے کو تیار نہ ہو، تو آئین بدلنے سے تاریخ نہیں بدلتی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










