ملاکنڈ ڈویژن میں ایک عرصے سے نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں کا استعمال جاری ہے۔ ابتدا میں یہ رجحان صرف موٹر کاروں تک محدود تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی گاڑیاں اور دیگر مشینری سمگل ہو کر ڈویژن کے تمام اضلاع تک پہنچ گئی۔ آج ایک بڑی تعداد میں یہ گاڑیاں، شورومز میں موجود ہیں اور کھیت کھلیانوں سے لے کر گھروں، بازاروں اور شاہ راہوں تک ہر جگہ نظر آتی ہیں۔
آئیے، جائزہ لیتے ہیں کہ اس رجحان سے ملاکنڈ ڈویژن کو کتنا فائدہ اور کتنا نقصان پہنچ رہا ہے؟ ضروری نہیں کہ آپ سب میری رائے سے متفق ہوں، تاہم یہ میری ذاتی رائے ہے، جسے مَیں پوری دیانت داری کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
پہلے اس کے فوائد کا ذکر کرتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور دیگر مشینری ملک کے دیگر حصوں کی نسبت انتہائی سستی دست یاب ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایک طرف لوگ انھیں اپنی ذاتی ضروریات کے لیے خرید کر استعمال کر رہے ہیں۔ گھریلو کام کاج، غمی خوشی اور دیگر بے شمار ضروریات کے لیے بعض افراد نے دو دو، تین تین گاڑیاں تک رکھی ہوئی ہیں، بل کہ کچھ شوقین حضرات کے پاس انتہائی قیمتی گاڑیاں بھی موجود ہیں، جن کی قیمتیں کروڑوں روپے تک پہنچتی ہیں۔
دوسری قسم اُن لوگوں کی ہے، جو ان گاڑیوں کو اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ نسبتاً کم سرمائے سے اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ویگنیں، سوزوکیاں، فلائنگ کوچ، ڈائنا، ٹریکٹر، شیول اور دیگر مشینری کے ذریعے اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں۔ اب اس حوالے سے کچھ اعداد و شمار پر بھی نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تعداد تین تا پانچ لاکھ کے درمیان ہے، جب کہ کٹ گاڑیاں اس کے علاوہ ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن میں موجود تمام نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں، خواہ وہ سواری کی ہوں یا کمرشل… ان سب کی مجموعی اوسط قیمت اگر فی گاڑی تقریباً 14 سے 17 لاکھ روپے مانی جائے، تو ان کی کل اوسط مالیت تقریباً 8 کھرب 50 ارب روپے بنتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں نے گاڑیاں خریدنے کی مد میں تقریباً 8 کھرب 50 ارب روپے ملک سے باہر منتقل کیے ہیں اور اس کے بدلے میں انھیں گاڑیاں ملی ہیں۔ ان گاڑیوں پر پٹرول، مرمت اور دیگر دیکھ بھال کے اخراجات بھی مسلسل ہماری اپنی جیبوں سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ صرف سماجی حیثیت، دکھاوے یا رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے درمیان مقابلے اور حسد کی فضا کے باعث گاڑیاں رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت کم لوگوں کو واقعی ان گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے… تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ افراد کا روزگار انھی گاڑیوں سے وابستہ ہے، جو یقیناً ایک مثبت پہلو ہے۔ کیوں کہ نسبتاً کم سرمائے سے بہت سے گھروں کے چولھے جل رہے ہیں۔
اب آتے ہیں اس پہلو کی طرف کہ مذکورہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے ملاکنڈ ڈویژن کی معیشت پر مثبت یا منفی اثرات کس حد تک مرتب ہو رہے ہیں؟
پہلی بات یہ ہے کہ ہم نے کھربوں روپے ایک ایسے شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے، جہاں سے ہمیں بہ راہِ راست مالی فائدے کے بہ جائے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن، مرمت اور دیکھ بھال کی مد میں لاکھوں، بل کہ کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں، جب کہ اس سے بہ راہِ راست فائدہ صرف انھی افراد کو پہنچ رہا ہے، جن کا روزگار ان گاڑیوں سے وابستہ ہے۔
دوسری طرف ان گاڑیوں کے کاروبار میں ایسے بہت سے لوگ بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جن کا تعلق ملاکنڈ ڈویژن سے نہیں۔ ان میں سے بعض افراد اربوں روپے اس کاروبار میں لگاتے ہیں اور یہ تاثر عام ہے کہ بعض اوقات اس سرمایہ کاری کو کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف ہمارے علاقے کا سرمایہ مسلسل ملک سے باہر منتقل ہو رہا ہے اور دوسری طرف اس کے بدلے میں ایسی گاڑیاں آ رہی ہیں، جو طویل مدت میں مالی اعتبار سے گھاٹے کا سودا ثابت ہوتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں، جو اس کاروبار میں ملوث ہیں؟ یہ ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ کیوں کہ ملاکنڈ ڈویژن کی کوئی سرحد افغانستان کے ساتھ نہیں ملتی۔ اس کے باوجود بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے مختلف راستوں سے یہ غیر قانونی کاروبار جاری ہے۔ اگر قانونی تجارت کے لیے سرحدیں بند ہیں، تو پھر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں مسلسل کیسے آ رہی ہیں؟ جو لوگ اس تمام معاملے کا ذمے دار صرف ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ٹھہراتے ہیں، انھیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر سرحدوں سے یہ گاڑیاں گزر ہی نہیں سکتیں، تو پھر سوات اور دیگر اضلاع کی منڈیوں میں روزانہ نئی گاڑیاں کس طرح پہنچ رہی ہیں؟
حکومت بلاوجہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو بلیک میل کر رہی ہے کہ یہاں کے لوگ غیر قانونی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں، جب کہ اصل سوال اُن ذرائع اور راستوں کا ہے، جن کے ذریعے یہ گاڑیاں یہاں تک پہنچتی ہیں۔
ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی وجہ سے ہمیں کئی بڑے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ سب سے پہلے تو ہر جگہ گاڑیوں کی بھرمار ہے، جس کے باعث ٹریفک تقریباً ہر وقت جام رہتی ہے۔ چھوٹے اور بڑے شہروں میں ان گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بھی مناسب جگہیں موجود نہیں۔ لوگ غیر ضروری طور پر بھی گاڑیوں میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ کم قیمت میں گاڑی کا دست یاب ہونا ہے۔ گاڑیوں کے کاروبار میں ایک بڑی تعداد باہر کے لوگوں کی ہے، اس لیے ان کا فائدہ تو سمجھ میں آتا ہے۔
باقاعدہ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے متعدد سیکیورٹی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں قانون پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عجیب و غریب نمبر پلیٹیں استعمال کی جاتی ہیں۔ کسی نے اپنی گاڑی پر اپنا نام لکھ رکھا ہوتا ہے، کسی نے شعر درج کیا ہوتا ہے، جب کہ بعض گاڑیوں پر صرف مونچھوں یا مختلف اشکال کی تصاویر بنی ہوتی ہیں، جو بہ ذاتِ خود قانون کی عمل داری پر سوالیہ نشان ہیں۔
دوسری طرف پورے پاکستان سے چوری شدہ گاڑیاں بھی ملاکنڈ لائی جاتی ہیں۔ اس کاروبار سے انتہائی شاطر عناصر وابستہ ہیں، جو سادہ لوح لوگوں کو یہ گاڑیاں فروخت کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں معاملہ عدالتوں اور پولیس تک جا پہنچتا ہے… اور لوگ اپنی حلال کی کمائی واپس لینے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سوات کی عدالتوں میں جاکر اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً ہر عدالت کے سامنے بارگین یا متنازع گاڑیوں سے متعلق مقدمات زیرِ سماعت ہوتے ہیں۔
اب اس کے ممکنہ حل کی طرف آتے ہیں کہ کس طرح ملاکنڈ ڈویژن میں ان گاڑیوں کو مثبت اور قانونی انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟
سادہ اور قابلِ عمل حل یہ ہے کہ حکومت، ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ایک جامع ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائے۔ تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو ریگولرائز کرے اور ان پر عائد کسٹم ڈیوٹی معاف کر دے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم سواری اور مال برداری کے لیے استعمال ہونے والی ایک مخصوص سی سی تک کی گاڑیوں کو مکمل استثنا دیا جائے، جب کہ اس سے بڑی گاڑیوں کی کسٹم ڈیوٹی میں نمایاں رعایت دی جائے۔ اس اقدام سے تمام گاڑیاں قانونی حیثیت اختیار کرلیں گی اور پھر انھیں پورے پاکستان میں بلا روک ٹوک چلایا جاسکے گا۔
اس کے بعد حکومت کو چاہیے کہ اللہ کا نام لے کر سرحدوں پر مکمل اور مؤثر کنٹرول قائم کرے۔ صاف بات یہ ہے کہ جس فریق کو اس غیر قانونی کاروبار سے فائدہ پہنچ رہا ہے، وہی اس کے مکمل خاتمے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی ریاست ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ایسا قدم آخر کیوں اٹھائے گی اور اس خطے کو یہ رعایت کیوں دی جائے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اس خطے کے عوام کا حق ہے۔ جب اس علاقے کو پاکستان میں مدغم کیا گیا، تو اس کے بدلے یہاں کے عوام کو کیا ملا؟
دوسری جانب اس خطے کے بے شمار وسائل، جن کی مالیت کھربوں روپے سے بھی زیادہ ہے، ریاست کو حاصل ہوئے۔ ان وسائل میں گھنے جنگلات، قیمتی معدنیات اور زمرد جیسے نایاب پتھر شامل ہیں، مگر ان وسائل کی حقیقی قیمت کبھی اس خطے کے عوام کو ادا نہیں کی گئی۔
اگر ماضی میں کسی نے اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کیا، اور ایک فردِ واحد کے ساتھ معاہدہ کیا گیا، تو اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوجاتی کہ سوات کے اصل مالک یہاں کے عوام ہیں۔ باچا صاحب کو بھی سوات کے لوگوں نے اجتماعی طور پر اپنا حکم ران منتخب کیا تھا۔ اُصولی طور پر اقتدار اور اختیار عوام کے سپرد ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ریاستِ پاکستان کے حوالے کیا جاتا۔ یہ خطہ کسی نواب، میتر یا فردِ واحد کی ذاتی جاگیر نہیں تھا۔ اس کے اصل مالک یہاں کے عوام تھے، جنھوں نے اپنے نمایندوں کو حکم ران بنایا تھا، مالک نہیں۔ اس لیے کسی فرد کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنے ذاتی مفاد یا کسی خفیہ مفاہمت کے تحت اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کر دیتا۔
اگر آج عوام اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ یہی احساسِ محرومی اور مسلسل ناانصافی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھے اور ہوش کے ناخن لے۔
حکومت مختلف شعبوں میں کھربوں روپے کی سبسڈی فراہم کرتی ہے، تو پھر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام، جنھوں نے اپنے سرمائے سے ایک وسیع معاشی سرگرمی کو جنم دیا ہے، ان کے لیے بھی کوئی عملی اور مثبت پالیسی اختیار کی جاسکتی ہے۔ اس کاروبار سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ملاکنڈ ڈویژن کے تقریباً ایک کروڑ افراد کا روزگار وابستہ ہے، جس سے عام اور خاص ہر طبقے کے گھروں کے چولھے جل رہے ہیں۔
اگر حکومت واقعی اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہے، تو اسے چاہیے کہ سرحدوں پر سخت نگرانی قائم کرکے غیر قانونی گاڑیوں کی آمد مکمل طور پر بند کرے، قانونی درآمدات پر کسٹم وصول کرے… اور جو عناصر اس سمگلنگ کے کاروبار میں ملوث ہیں، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، نہ کہ ان بااثر افراد کی وجہ سے پورے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو اجتماعی طور پر سزا یا دباو کا سامنا کرنا پڑے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










