چنار چینہ، ماضی اور حال کے آئینہ میں

Blogger Fazal Manan Bazda

پانی کے بغیر انسان تو کیا… جانور، چرند، پرند اور نباتات کا اس دنیا میں زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’اور ہم نے ہر جان دار کو پانی سے پیدا کیا!‘‘ (سورۃ الانبیاء، آیت نمبر 30)
اسی طرح سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے، جس نے زمین کو بچھونا بنایا اور آسمان سے پانی برسایا، اور اُسی کے بہ دولت اس میں لوگوں کے لیے میوے اور رزق پیدا کیا۔‘‘
پانی کی اہمیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جس نے مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا، جہاں پانی پایا جاتا ہے، تو اُس نے گویا ایک غلام کو آزاد کیا، اور جس نے ایسی جگہ مسلمان کو ایک گھونٹ پانی پلایا، جہاں پانی نہیں پایا جاتا، تو اُس نے اُسے زندہ کیا۔‘‘ (ابنِ ماجہ، حدیث نمبر 2474)
پانی جسم میں غذائی ترسیل، نظامِ انہضام کی کارکردگی، جسم سے فاسد مادّوں، حرارت اور اضافی نمکیات کے اخراج کے ساتھ ساتھ ضروری نمکیات کا توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر جسم میں پانی کی مقدار 20 فی صد سے کم ہو جائے، تو موت واقع ہوسکتی ہے۔ پانی کی اسی اہمیت اور اِفادیت کے سبب دریا، ندی نالوں اور چشموں کا انسانی زندگی کے ساتھ نہایت گہرا اور قدیم تعلق رہا ہے۔ کیوں کہ پانی کے بغیر انسان کی بقا ممکن نہیں۔
قدیم زمانوں میں جب آج کی طرح پانی کے حصول کا جدید نظام موجود نہ تھا، تو لوگ دریا، ندی نالوں، تالابوں اور چشموں کے آس پاس آ کر آباد ہو جایا کرتے تھے۔ بعض اوقات پانی پر قبائل کے درمیان خوں ریز لڑائیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔
دریاؤں، تالابوں اور ندی نالوں کی نسبت چشموں کا پانی زیادہ صاف، شفاف، میٹھا، تازہ اور پینے کے قابل ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں بعض پہاڑی علاقوں میں آج بھی لوگ چشموں کے آس پاس آباد ہیں۔ چشموں ہی کے پانی سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اور اپنے جان وروں کو بھی سیراب کرتے ہیں، لیکن خشک سالی کے دنوں میں اُنھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے گاؤں تھانہ کے جنوب مشرق میں قدیم پیدل گزرگاہ ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ کے راستے کے سنگ پر ایک چشمہ واقع ہے، جسے ’’چنار چینہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس چشمے کا نام ’’چنار چینہ‘‘ اس لیے پڑا کہ اس کے کنارے صدیوں سے چنار کے بلند و بالا درخت ایستادہ ہیں۔
چنار چینہ نے اپنی زندگی میں یہاں سے گزرنے والے بے شمار مسافروں، قبائلی لشکروں اور تھکے ماندے راہیوں کو آرام کرتے اور اپنا پانی پیتے دیکھا ہے۔ جس زمانے میں آج کی طرح آمد و رفت کی جدید سہولیات موجود نہ تھیں، اُس وقت مسافر یا حملہ آور لشکر سوات میں ’’درۂ مالاکنڈ‘‘، ’’درۂ شاہ کوٹ‘‘ (جہاں آج کل موٹر وے گزرتی ہے)، ’’درۂ چڑات‘‘ اور ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ کے راستوں ہی سے داخل ہوسکتے تھے۔
کیپٹن جی ایچ راورٹی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں (یہ رپورٹ دراصل قادیانی سیاح اسماعیل قندھاری نے اپنے دورۂ سوات کے دوران میں تیار کی تھی): ہم اخوندِ سوات سے ملنے کوہِ مورہ پر واقع ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ کے راستے سوات میں داخل ہوئے۔
لکھتے ہیں:
By degrees we had now reached the crest of the Pass; and descending a short distance on the other side, we came to a plane tree, beneath which there is a spring of the most cool, pure, and sweet water, and round about it numerous spikenard were growing. In short, it was a very delightful spot; and we sat down and rested for some time, and refreshed ourselves with draughts of the crystal element. (Journal of the Asiatic Society of Bengal, Vol. XXXI, No. I to V, 1862, Page 232)
ایک اندازے کے مطابق 15ویں صدی کے اواخر میں جب سوات کے سلطان اویس اور یوسف زئی قبیلہ کے تعلقات خراب ہوئے، تو یوسف زئی سربراہ ملک احمد خان نے اسی راستے، یعنی ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ سے سوات میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن سلطان اویس کے لشکروں نے اُنھیں درّے کے دامن میں روکے رکھا اور آگے بڑھنے نہ دیا۔ تقریباً دو ماہ گزر گئےم مگر یوسف زئی ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ پر چڑھنے میں کام یاب نہ ہوسکے۔
بعد ازاں یوسف زئی نے اپنے جاسوس ’’درۂ ملاکنڈ‘‘ کا جائزہ لینے کے لیے بھیجے۔ جاسوسوں نے واپس آ کر اطلاع دی کہ ’’درۂ ملاکنڈ‘‘ پر مامور لشکری رات کے وقت بے فکری سے سو جاتے ہیں۔ یوسف زئی قبیلہ نے جنگی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سلطان اویس کے لشکریوں کو ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ میں رات بھر جنگی نعروں اور نقل و حرکت سے مصروف رکھا، جب کہ اصل لشکر نے راتوں رات ’’درۂ مالاکنڈ‘‘ پر حملہ کر دیا۔
چوں کہ درۂ ملاکنڈ پر دفاع کے لیے مامور سپاہی غفلت میں تھے، اس لیے اُنھیں کچھ سمجھ نہ آ سکا کہ کیا ہو رہا ہے؟ وہ جان بچا کر بھاگ نکلے اور یوں یوسف زئی قبیلے نے موضع خار اور بٹ خیلہ تک کا علاقہ ایک ہی حملے میں اپنے قبضے میں لے لیا۔ غالباً 1510ء، (بعض مؤرخین کے مطابق 1515ء) تک یوسف زئی پورے سوات پر قابض ہوچکے تھے۔
مغل بادشاہ بابر افغانستان سے باجوڑ کے راستے یوسف زئی قبیلہ پر حملہ کرنے کے لیے لوئر دیر کے علاقے کاٹ گلہ (یا کٹگلہ) میں خیمہ زن ہوا۔ روایت کے مطابق وہ ایک ملنگ کے روپ میں کوہِ مورہ میں مورچہ زن قبیلہ یوسف زئی کا جائزہ لینے خود آیا اور اسی چشمہ (چنار چینہ) کے کنارے بیٹھ کر آرام کیا اور پانی پیا۔
قبیلہ یوسف زئی کی قوت اور دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد بابر، یوسف زؤں پر حملے کی ہمت نہ کرسکا۔ روایت کے مطابق اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اُس نے قبیلہ یوسف زئی کے ملک شاہ منصور کی بیٹی مبارکہ بی بی کے رشتے کی خواہش ظاہر کی، جسے قبائلی مشران کے اصرار پر ملک احمد خان نے قبول کیا۔ ’’مبارکہ ابئی‘‘ سے شادی کے بعد بابر واپس افغانستان لوٹ گیا، مگر اُس کے دل سے یوسف زئی کی کدورت ختم نہ ہوسکی۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے سنہ 1962ء میں اسی راستے کے ساتھ ساتھ ایک سڑک تعمیر کروائی، جو ’’درۂ مورہ کنڈؤ‘‘ سے گزرتے ہوئے موضع شیر خانہ، زورمنڈی اور پلئی سے ہوتی ہوئی ضلع مردان میں داخل ہو جاتی ہے۔
’’چنار چینہ‘‘ کے آس پاس جگہ تو بہت تھی، لیکن وہاں ایسی کوئی مناسب جگہ موجود نہ تھی، جہاں لوگ بیٹھ کر گپ شپ لگاسکیں، یا پکنک سے لطف اندوز ہوسکیں۔ اس کے باوجود گاؤں کے لوگ گرمیوں میں وہاں جانے پر مجبور ہوتے تھے۔ کیوں کہ چشمے کا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، چنار کے درختوں کا گھنا سایہ اور خنک ہوائیں اُس مقام کو بہت دل کش بنا دیتی تھیں۔
کافی عرصے سے لوگ چاہتے تھے کہ یہاں ایک باقاعدہ پکنک سپاٹ قائم کیا جائے۔ عوامی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکنِ صوبائی اسمبلی غنی محمد خان نے ’’چنار چینہ‘‘ پر پکنک سپاٹ تعمیر کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے۔ جب تعمیراتی کام شروع ہوا، تو مالکانِ پہاڑ، خوانینِ پلئی (خان کور) نے اس کی مخالفت کی اور کام رکوانے کی بھرپور کوشش کی، مگر علاقے خصوصاً نوجوانوں کے مفاد کی خاطر اُنھیں راضی کرلیا گیا۔
تعمیراتی کام کے دوران میں چشمے کے اوپر بیٹھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم، اُس کے اوپر ایک کمرا اور برآمدہ، جب کہ چشمے کے برابر اور نیچے مزید بیٹھنے کی جگہیں تعمیر کی گئیں۔ چشمے کے بائیں جانب نمازیوں کے لیے ایک چھوٹی مسجد، پانی کی ٹینکی اور کھانا پکانے کی جگہ بھی بنائی گئی۔
جب تعمیراتی کام مکمل ہوا، تو گرمیوں میں تھانہ اور آس پاس کے لوگ دوپہر کے وقت وہاں جانے لگے، مگر افسوس کہ عام خاندانوں اور نوجوانوں کی بہ جائے قماربازوں نے وہاں ڈیرے جمالیے۔ مردان، کاٹلنگ اور دوسرے علاقوں سے لوگ وہاں جُوا کھیلنے آنے لگے اور ایک ہی داؤ میں ہزاروں لاکھوں روپے لگانے لگے۔ نتیجتاً کوئی شریف آدمی اپنے بچوں سمیت وہاں جانے کی ہمت نہ کرپاتا۔
مَیں نے روزنامہ ’’آزادی سوات‘‘ کے توسط سے عوامی شکایات ملاکنڈ انتظامیہ تک پہنچائیں، جس پر اُس وقت کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ملاکنڈ، جہانگیر خان نے کارروائی کرتے ہوئے بعض قماربازوں کو گرفتار کیا، جب کہ کئی فرار ہونے میں کام یاب ہوگئے۔ یوں ’’چنار چینہ‘‘ سے قماربازی کا اڈا ختم ہوگیا۔ اگرچہ بعض قمارباز آج تک اُس کارروائی پر مجھ سے ناراض ہیں۔
آج تھانہ کے لوگ ’’چنار چینہ‘‘ پر پکنک منانے جاتے ہیں، جب کہ سڑک سے گزرنے والے مسافر اپنی گاڑیوں میں پانی ڈالنے کے ساتھ ساتھ خود بھی سیر ہو کر اس چشمے کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں۔ دعا ہے کہ یہ چشمہ اسی طرح بہتا رہے اور ہر خاص و عام کی سیرابی کا ذریعہ بنا رہے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے