عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ ادبی ریفرنس

Blogger Comrade Sajid Aman

گذشتہ دنوں سوات ادبی سانگہ کے زیرِ اہتمام خپل کور ماڈل سکول میں عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ (شہید) کی یاد میں ایک ادبی و تعزیتی ریفرنس ہوا۔
سوات ادبی سانگہ کے حوالے سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ پچھلے 41 سال سے ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ ریفرنس میں مجھ ناچیز کو بھی بات کرنے کا موقع دیا گیا۔ مَیں یوں گویا ہوا: ’’فضل محمود روخان صاحب بہت شکریہ! ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں کے درمیان کھڑے ہوکر مجھ جیسا شخص کیا بول پائے گا اور جس نے ہمیشہ بیش تر وقت عطاء اللہ جان (شہید) کا سامع بن کر گزارا ہو، اُسے آج عطاء اللہ جان پر  بات کرنی ہے… تو سامع سے مقرر بننے کا مرحلہ مشکل مزید بڑھا دیتا ہے۔‘‘ 
میرا اور عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کا تعلق بہت عجیب تھا، جسے میں شاید کبھی کوئی نام نہ دے پاؤں۔ میرا اور جان صاحب کا شدید نظریاتی اختلاف تھا۔ اُن کا ماننا تھا کہ پختون کو ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ تاریخی جبر کا شکار ہے۔ میرا خیال تھا کہ جہاں وسائل ہوتے ہیں اور اُن وسائل کو استعمال کرنے کا شعور اور طاقت نہیں ہوتی، وہاں مسائل ہوتے ہیں۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ وسائل سے مالا مال ہیں، مگر شعور اور آگہی کا فقدان ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ مسائل، جنگیں اور غربت وہاں ہیں۔ اس لیے پختون نہیں، خطہ اہم ہے۔ 
شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کہتے، پنجابی پختون کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ مَیں اختلاف کرتے ہوئے کہتا: فرد، فرد کا استحصال نہ کرے اور قوم، قوم کا… اور ایسا بہ یک وقت ہو. ورنہ پنجاب سے جیتا ہوا وسائل کا خزانہ پختون استحصال کرنے والے کو مل گیا، تو وہ مزید جینا دوبھر کر دے گا۔
شہید کا یقین تھا کہ پاکستانی ریاست، پختون اکائی اور وحدت کے خلاف ہے۔ میرا ماننا تھا کہ ریاست ہمیشہ طاقت ور طبقات کے مفادات کی امین ہوتی ہے۔ خواہ کوئی بھی ریاست ہو، ریاست کا وجود ہی استحصال کی علامت ہے۔ ایسا مَیں نہیں کہتا، بل کہ کارل مارکس، اینگلز اور ہیگل نے بہت پہلے کہا ہے۔
شہید کی خواہش تھی کہ پختون اپنے حقوق کی جد و جہد کرے۔ مَیں عرض کرتا کہ اصل جد و جہد ’’طبقاتی جد و جہد‘‘ ہے۔ بالادست طبقات کا غیر قانونی، غیر فطری اور غیر اخلاقی کنٹرول زیرِ دست طبقات سے ختم ہوگا، تو انسانیت آزاد ہوگی، تعلیم آزاد ہوگی، مطالعہ آزاد ہوگا، صحت کا شعبہ آزاد ہوگا… الغرض جینا آزاد ہو جائے گا۔
مگر مَیں اور شہید دونوں جونؔ ایلیا کو بہت پسند کرتے تھے اور جونؔ ہی کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے پر اتفاق کرلیں۔ اور ہم دونوں نے جونؔ ایلیا کا کہا مان لیا تھا۔
مَیں نے عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ (شہید) کو زندگی میں کبھی ’’جان‘‘ کہا، نہ ’’عطاء اللہ‘‘ اور نہ ’’وکیل صاحب‘‘ ہی کہا۔ ہمیشہ اُنھیں ’’سر‘‘ کَہ کر مخاطب کیا۔ اور اس کی کئی وجوہات تھیں۔ میری خواہش تھی کہ مَیں شہید سے آگے نکل جاؤں۔ کہیں اُن سے زیادہ معلومات رکھنا ثابت کرسکوں… مگر میرا علم محدود تھا۔ وہ مجھے ہمیشہ حیران کرنے کا سامان کرتے۔
شہید وسیع مطالعہ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا تھا۔ شہید اچھے شاعر تھے، بہت حساس نقاد، سیاسی مبارز، قانون دان، لکھاری، مترجم، فوٹو گرافر، مصور، خطاط اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک بہت ہی اچھے انسان تھے۔ اس لیے میرے پاس اُن کو ’’سر‘‘ نہ کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ 
شہید کی پشتو زبان کے ساتھ دورِ حاضر کے کئی زبانوں پر احسان تھا۔ انھوں نے پشتو زبان میں دیگر زبانوں کی نظم اور نثر دونوں کا ترجمہ کیا اور پشتو زبان کے قاری کو دیگر زبانوں کے ادب، اُسلوب، خیالات اور رجحانات سے متعارف کیا۔ یوں پشتو ادب کے قاری کو دیگر زبانوں کی وقعت کا اندازہ ہوا۔
میرے لیے خاص طور پر شہید ایک آئینہ تھے، ساتھی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بحث کے ساتھی تھے۔ اُن کے جانے سے میرا آئینہ ٹوٹ گیا، میرا ساتھی کھوگیا اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مکالمہ رُک گیا۔
اکثر لوگ بعض خاص لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ وقت سے پہلے پیدا ہوئے ہیں۔ میری دانست میں شہید اپنے وقت سے بہت بعد پیدا ہوئے۔ شہید کو یونانی تہذیب کے سقراط، افلاطون، بقراط یا ارسطو کے ماحول میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔
جس دن جان کو شہید کیا جا رہا تھا، اُس روز میں اُن کی آمد کا منتظر تھا۔ اُس سے پچھلے ہفتے ہم دیر تک گفت گو کرتے رہے۔ ہمیشہ ہم تب تک ایسا کرتے رہتے، جب تک فیاض ظفر ٹوک کر محفل میں شامل ہونے کا نہیں کہتا۔ اُس روز بھی شہید نے گفت گو وہی روکتے ہوئے کہا کہ منگل یا پھر بدھ کو تمھارے دفتر ڈاکٹر عطاؔ کی معیت میں آئیں گے۔ ایک ایک کپ چائے پئیں گے اور اس دل چسپ گفت گو کو ختم کریں گے۔ مگر اُس کے بعد وہ گفت گو کبھی ختم ہی نہ ہوپائی۔ وہ آئے نہ چائے کا کپ پیا اور نہ ہم نے گفت گو ہی کی۔ شاید اس موقع کے لیے کہتے ہیں کہ وقت نے موقع نہیں دیا، زندگی نے وفا نہ کی۔
شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ اُن چند بڑے لوگوں میں شامل تھے، جو اپنی زندگی میں بے پناہ شہرت پاچکے تھے۔ کبھی کبھی مَیں سوچتا ہوں کہ شہید نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا۔
کسی نے سقراط کو زہر کا پیالہ دیا، کسی نے منصور کو مارا ، کسی نے گیلیلیو کو موت کی سزا سنائی… اور ہم نے جان کو قتل کردیا۔ جان شہید نے رخصت ہوتے وقت ہمیں تاریخ کی اُن قوموں کے درمیان کھڑا کیا، جو اپنے دانش وروں اور مفکروں کو مار کر کلیجا ٹھنڈا کرتے ہیں۔
اچھا ہوا کہ جان مرگئے۔ وہ خود کو اپنے دور کا منصور کہتے تھے۔ اُن کے بہتے ہوئے خون کو ہم نے فلمایا اور کنارے پر کھڑے ہوکر تماشا دیکھا۔ تہذیب تھی نہ تمدن، روایات تھی نہ تقدس… اور نہ قانون ہی تھا۔ سب نے اپنا اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اور ضمیر کچل دیا تھا۔ شہید اس دنیا کی جان تھے ہی نہیں، انھیں یہاں نہیں رہنا تھا۔
شاید پروین شاکر نے میرے جیسے خالی ہاتھ شخص کے لیے ہی لکھا تھا کہ
یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
ترے پیرہن کی خوش بو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر
ذرا دیر میں اُفق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئے گا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصۂ جدائی
کوئی کارِ نا مکمل
کوئی خوابِ نا شگفتہ
کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے
ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہدِ مہرباں میں
کسی خواب کے یقیں میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں…!
ریفرنس کی صدارت حنیف قیس نے کی۔ مہمانِ خصوصی انجنیئر ارشاد علی خان تھے۔ شرکا میں نامی گرامی شاعر فراموز شہابؔ، جاوید اختر جاویدؔ، عمر ڈیر شاکرؔ، ارباز حساسؔ، سعد سحرؔ، بخت محمد بختؔ، ڈاکٹر عمر رازؔ، فواد اکبر، فیض علی خان فیضؔ ایڈوکیٹ، آفتاب سپرلےؔ، دلسوزؔ، عثمان اولس یارؔ، فیاض ظفر، محمد علی صاحب، عمر خان عمرؔ، ڈاکٹر احسان یوسف زئی، رحیم اللہ، یوسف خان ایڈوکیٹ وغیرہ نے شرکت کی۔ کچھ نے کلام پیش کیا، کچھ نے تاثرات پیش کیے… اور یوں یہ تقریب اختتام تک پہنچی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے