جدائی، جو روح کو زخمی کرگئی

Blogger Nargis Rauf Qasmi

بلاگر: نرگس رؤف قاسمی
نصرت فتح علی خان جب ’’دھڑکن‘‘ گا رہے تھے، تو جیسے ہی اس مصرعے تک پہنچتے
’’میں تیری بانہوں کی جھولی میں پلی بابل…‘‘
اُن پر گریہ طاری ہوجاتا۔ بار بار وہ اسی مقام تک پہنچتے اور جی بھر کر رو لیتے۔ یہاں تک کہ روتے روتے اُن کی ہچکی بندھ جاتی، پھر خود کو سنبھالتے، دوبارہ آغاز کرتے اور پھر اُسی مصرعے پر آکر اٹک جاتے۔ انھوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر آج مَیں یہ گانا مکمل نہ کرپایا، تو شاید زندگی میں دوبارہ کبھی اسے نہ گا سکوں۔
پھر آخرِکار انھوں نے آنسوؤں میں ڈوب کر یہ گانا مکمل کردیا۔
یہ واقعہ بھی مشہور ہے اور مذکورہ گانا بھی، مگر تمھیں رخصت کرتے وقت مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے نصرت نے یہ گانا صرف میرے لیے گایا تھا۔ تم واقعی جارہی تھی… اور میں روتے روتے تمھیں رخصت کررہی تھی۔
’’مَیں تیری بانہوں کی جھولی میں پلی بابل، جارہی ہوں چھوڑ کے تیری گلی بابل‘‘
تم واقعی میری گلی، میرا گھر، میرا کمرا، میری دنیا، میری ہر چیز چھوڑ کر جارہی تھی۔
تم میرا آپ، میری روح، میرے جذبات، میرے احساسات، سب کچھ اپنے ساتھ لے کر جا رہی تھی… اور پیچھے ایک خلا، ایک دوزخ، ایک سلگتی ہوئی آگ چھوڑ گئی تھی، جس میں شاید اب تمام عمر جلنا ہی میرا مقدر ہے۔
ہماری کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟ مجھے یاد نہیں… مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ تمھارا ساتھ ہی میری زندگی، میری سانسیں، میرا اثاثہ اور میرا کل سرمایہ تھا۔ تم میرا سب کچھ ہی تو تھی… مجھے سمجھنے والی، مجھے محسوس کرنے والی، میرا خیال رکھنے والی، میری ہم دم، میری دوست، میری محبوبہ اور میری پہلی اور آخری کام یاب محبت…! ہاں، وہ محبت جس پر مَیں مرتے دم تک فخر کرتی رہوں گی۔
تم میری روح کی گہرائیوں میں اُتر کر مجھے محسوس کرتی تھی۔ تم نے کبھی یہ سوچا تھا اور نہ مَیں نے… کہ ایک دن ہمیں یوں جدا ہونا پڑے گا۔ تمھیں معلوم ہے، کبھی کبھی مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں تمھاری ماں ہوں۔ تمھارے لیے میرے اندر ممتا کی ایک عجیب سی نرم لہر جاگ اٹھتی تھی… اور آج ایک ماں، ایک بہن، اپنی ہی بیٹی کے غم میں اندر ہی اندر پگھل رہی ہے۔
مجھے معلوم نہیں کہ زندگی نئے رشتے بنانے کے لیے ہمیشہ پرانے لوگوں سے بچھڑنے کی قیمت کیوں مانگتی ہے…؟
تم کسی ننھے معصوم فرشتے کی طرح لگ رہی تھی… ایسا فرشتہ جسے کسی نے اجنبی لوگوں کے درمیان لاکر چھوڑ دیا ہو… جو خوف زدہ ہو، جس کے لیے سب کچھ اجنبی اور بے معنی لگ رہا ہو…. اور جو چپکے چپکے اپنے آنسو صاف کررہی ہو۔ تمھیں دیکھ کر میرا دل کٹ رہا تھا۔ مَیں تمھارے دل کی دھڑکن محسوس کرسکتی تھی… اور مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا کلیجا پھٹ جائے گا۔
مَیں کتنی سنگ دل ہوں… کتنی مضبوط ہوں… مَیں نے تمھیں رخصت کردیا اور بہ ظاہر مجھے کچھ بھی نہیں ہوا۔ حال آں کہ مجھے لگتا تھا کہ میرا دل دھڑکنا چھوڑ دے گا… مگر مَیں ٹھیک بھی کہاں ہوں…؟ مَیں تو اُس مچھلی کی مانند تڑپ رہی ہوں، جسے سمندر کی لہریں کنارے پر پھینک کر لوٹ گئی ہوں…!
مجھے اب بھی ہر شے میں تمھاری خوش بو محسوس ہوتی ہے۔ ہر جگہ تم دکھائی دیتی ہو۔ مَیں تمھاری چیزیں اٹھا اٹھا کر اُن میں تمھیں تلاش کرتی ہوں۔ مجھے یہ فکر اندر ہی اندر کھائے جارہی ہے کہ تم نے ٹھیک سے کھانا کھایا ہوگا یا نہیں… تم سکون سے سو پاتی ہوگی یا نہیں… تم کسی سے دل کی بات کرتی بھی ہوگی یا نہیں… اور پتا نہیں، کوئی تمھیں میری طرح سمجھ بھی پائے گا یا نہیں…!
مَیں تمھاری خوشیوں کے لیے بے شمار دعائیں مانگوں گی، مگر فی الحال تمھاری جدائی کا غم اس قدر شدید ہے کہ مَیں شاید خدا کو بھی بھول بیٹھی ہوں۔ شاید خلیل جبران نے درست کہا تھا: ’’محبت کی شدت کا اندازہ اُس کے بچھڑنے کے بعد ہوتا ہے…!‘‘
میں تمھارے لیے تڑپ رہی ہوں…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے