پرندوں میں ’’شاہین‘‘ بلند پرواز، گہری نظر، خودی و خودداری، بہادری، بلند ہمتی، جلالی و کمالی جذبہ، حریت پسندی اور جہدِ مسلسل کے لیے مشہور ہے۔ بہ دیں وجہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے نوجوان کو ’’شاہین‘‘ کا خطاب دیا۔
لیکن آج میں جس شاہین کے حوالے سے بات کرنے جا رہا ہوں، وہ اقبالؒ کا شاہین ہو نہ ہو، پشتونوں کے پہاڑوں، چوٹیوں اور حسین وادیوں کے شاہین ضرور ہیں۔ وہ شاہین جن کی دھڑکنیں اور آہنگ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ یک ساں دھڑکتے اور نغمہ سرا ہوتے ہیں۔
وہ شاہین دراصل شاہینی صفات سے متصف، گویا شاہین کا اصل جنم ہیں۔ پہاڑی شاہین کی طرح ہمارے شاہین کا بسیرا بھی چٹانوں اور چوٹیوں پر رہا ہے۔ ساتھ ہی، عقاب سے بھی بلند پرواز ہوکر اپنی قوم کے پیاروں کو تاریخ، تمدن، روایات، جغرافیہ اور علمی و عالمی منظر نامے کی سیر کراتے ہیں۔
تاریخ و ادب کے طالب علموں نے پرندوں کے بادشاہ شاہین کی خودی، حوصلے اور بہادری کے قصے کہانیاں تو پڑھی ہوں گی، لیکن شاید اُس شاہین سے ابھی پوری طرح شناسا نہ ہوں، وہ شاہین جن کا اوڑھنا بچھونا تحقیق و تدقیق ہے، قلم اور کتاب جن کا ہتھ یار ہیں… اور علمی و تحقیقی مباحث چھیڑنا جن کا خمار اور نشہ ہے۔ علم و ادب کی محفل سج جائے، تو گھنٹوں تھکن کا نام نہیں لیتے۔
وہ شاہین جنھوں نے 2009 کے وحشت زدہ ماحول میں بھی طبعی موت سے بے پروا ہو کر علمی موت کو قبول کرنے سے انکار کیا، اور اپنے علمی آنگن اور دانش کدے میں شان، سرور، دل جمعی اور پامردی کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
قلندرانہ و صوفیانہ مزاج، سادہ و خاکسارانہ قد کاٹھ اور وضع قطع کے حامل یہ درویش، جن کا دسترخوان کبھی نہیں سمٹتا۔ یہ الگ بات ہے کہ خود کو کئی عشروں سے چوبیس گھنٹوں میں ایک بار کھانے کا پابند رکھا ہے۔ وہ بھی وقت پر نہ ملے، تو اگلے دن تک انتظار کرتے ہیں، مگر حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتے۔ ایک جانب علم و تحقیق کے سلسلے میں مسلسل سفر کے شیدائی، تو دوسری جانب عقل و شعور اور علمی سوغات بانٹنے میں گویا حاتم طائی ثانی ہیں۔ کوئی آپ کی تحقیق اور فکر و نظر سے اختلاف رکھے، تو بھی ماتھے پر شکن نہیں ڈالتے۔ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔
عربی کے ایک مقولے کا مفہوم ہے کہ وطن سے محبت جزوِ ایمان ہے۔ اس کے ساتھ اپنی قوم اور اپنے قبیلے سے بھی محبت فطری جذبہ ہے۔ اس حوالے سے ہمارے شاہین کا جذبہ، لگن اور والہانہ عقیدت دیدنی ہے۔
اکیسویں صدی میں اگر کوئی صحیح معنوں میں اپنے دیس، اپنی قوم، اپنی تاریخ، روایات اور سماجیات کی بقا اور شناخت کے لیے لنگوٹ کس کر میدان میں موجود ہے، تو وہ یہی غازی، شاہ سوار اور مردِ مجاہد ہیں۔
ہمارے شاہین کا بیانیہ واضح اور موقف دو ٹوک ہے: ’’سیاست، مسلک اور مفادات سے بالاتر ہوکر قومی تشخص اور قومی حقوق کے لیے کمر بستہ، یک زبان و یک آواز ہو جاؤ!‘‘
شاہین قول و فعل، ظاہر و باطن میں یک ساں ہیں؛ نہ ملزم، نہ مجرم… بل کہ اپنے فرض کے مکلف ہیں۔ دوغلا پن کبھی ان کا شیوہ نہیں رہا۔ اپنے کارواں سے وفادار اور اپنے سالار کے قابلِ اعتماد سپاہی ہیں، اور اس حوالے سے ان کا جنون ہمیشہ مثالی اور جذبہ نرالا رہا ہے۔
مگر افسوس…! سیاسی، حکومتی اور قومی سطح پر آپ کی علمی حیثیت اور عظیم شخصیت کا کماحقہ ادراک نہ ہوسکا۔ بہ قول حافظ الپورئی:
باز پہ جالہ کی چا نہ دے پیجندلے
نشتہ قدر د حافظ پہ الپویٔ کی
کیا آپ جانتے ہیں کہ تقریباً پچاس ہزار کتب پر مشتمل ذاتی ضخیم لائبریری کے مالک، سیکڑوں کتب کے خالق، تاریخ دان، ادیب، ماہرِ لسانیات و بشریات، ماہرِ آثارِ قدیمہ، دانش ور، سفرنامہ نگار، کالم نگار، مقرر، نہ تھکنے اور نہ دبنے والے لکھاری… یہ عظیم درویش، پشتونوں اور پختونخوا کی چوٹیوں کے شاہین ہیں۔ حسین وادیِ سوات کے فلک بوس پہاڑوں اور چٹانوں کے شاہین، تاریخی گاؤں منگلور سوات کے شاہین، میرے شاہین، تیرے شاہین، ہم سب کے شاہین… اور کڈنی ہسپتال منگلور میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پشتونوں کے حقوق کا نعرہ بلند کرنے والے شاہین۔
مشتری ہوشیار باش…!
یہ ہیں محمد پرویشن شاہین… نرالے اُسلوب، نرالے فن، جداگانہ اندازِ تخاطب اور بادہ و پیمانہ کے شاہین۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہین کا جہاں اور
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










